ٹیلی نار کی تھری جی کنکٹ ڈیوائسز اور پیکجز کا جائزہ

پاکستان میں تھری جی اور فور جی لائسنس کے اجراء کے بعد سے ملک میں کام کرنے والے بیشتر ٹیلی کام آپریٹرز نے تھری جی اور فور جی ڈونگل متعارف کروادیئے ہیں۔ اس فہرست میں نیا اضافہ ٹیلی نار ہے جس نےحال ہی میں 3G Connect اور 3G Connect Wifi ڈیوائسز متعارف کروائی ہیں۔ اول الذکر ڈیوائس کی تعارفی قیمت 2200 روپے ہے اور جبکہ دوسری ڈیوائس کی قیمت 3000 روپےرکھی گئی ہے۔ البتہ ڈیوائس کی خریداری پر صارف کو دو ماہ کے لئےتھری جی کنکٹ ڈیوائس کی صورت میں 40 گیگا بائٹس جبکہ تھری جی کنکٹ وائی فائی کی صورت میں 60 گیگا بائٹس انٹرنیٹ والیوم مفت فراہم کیا جاتا ہے۔جس سے ڈیوائس عملی طور پر مفت ہوجاتی ہے۔

3G Connect ڈیوائس کسی عام یو ایس بی ڈونگل انٹرنیٹ ڈیوائس کی طرح کام کرتی ہے۔ یعنی اسےصرف ایک ہی لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر کے ساتھ جوڑ کر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ دوسری جانب 3G Connect WiFi ڈیوائس بنیادی طور پر ایک وائی فائی راؤٹر کی طرح کام کرتی ہے جسے کسی بھی یو ایس بی پاور سورس مثلاً لیپ ٹاپ، ڈیسک ٹاپ حتیٰ کہ یو ایس بی پاور ساکٹ میں لگا کر 10 مختلف ڈیوائسز اس سے بذریعہ وائی فائی جوڑی جاسکتی ہیں۔

اگرچہ ڈیوائس کی قیمت میں ڈیٹا سم کی قیمت شامل ہے تاہم ہمارے تجربے میں ڈیٹا سم کی قیمت 200 روپے الگ سے وصول کی گئی۔ یوں یہ ڈیوائس ہمیں 3200 روپے میں پڑی جبکہ سیلز اینڈ سروس سینٹر پر موجود تعارفی لیف لیٹ میں یہ بات واضح طور پر لکھی ہے کہ ڈیٹا سم مفت ہے۔ ٹیلی نار کا سیلز اسٹاف فی الحال اس ڈیوائس کے حوالے سے غیر تربیت یافتہ اور غیر تجربہ کار ہے، اس لئے ڈیوائس اور پیکجز کے بارے میں پوچھے گئے بیشتر سوالات کے جوابات ان کے پاس نہیں تھے۔

ڈیوائس کے پیکجنگ بے حد چھوٹی ہے۔ بقول شخصے، یہ بظاہر کسی میڈیکل اسٹور سے خریدی مرہم دکھائی دیتی ہے۔ ڈیوائس بذات خود عام دستیاب ڈونگلز جیسی ہے۔

بدقسمتی سے خریداری کے بعد ڈیوائس صرف 500 میگا بائٹس تک ہی چل پائی(یہ والیوم خریداری کے دن ہی ختم ہوگیا تھا)۔ اس کے بعد ڈیوائس نے چلنے سے انکار کردیا۔ کم از کم تیس منٹ ہیلپ لائن پر ضائع کرنے کے بعد بھی یہ راز نہیں کھلا کہ آخر انٹرنیٹ کیوں نہیں چل رہا۔ ہیلپ لائن ایجنٹس بھی سیلز اسٹاف کی طرح اس ڈیوائس کے فیچرز اور لوازمات سے ناواقف پائےگئے۔ ٹیلی نار کے فیس بک پیج پر رابطے کے بعدٹیلی نارتھری جی کنکٹ پروجیکٹ سے وابستہ ایک عہدے دار سے رابطہ ہوا جنہوں نے یہ راز افشاء کیا کہ 60 گیگا بائٹس والیوم درحقیقت ایک آزمائشی انٹرنیٹ ہے جو ڈیوائس کی خریداری کے 2 روز بعد فعال ہوتا ہے۔ یعنی ڈیوائس خریدنے کے بعد آپ کے پاس فوراً استعمال کرنے کے لئے 500 میگا بائٹس کا ڈیٹا ہوتا ہے۔ جبکہ 60 گیگا بائٹس یا 40 گیگا بائٹس مفت انٹرنیٹ آپ کو دو روز بعد دستیاب ہوتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مفت انٹرنیٹ کی سہولت بھی خود بخود فعال نہیں ہوتی اور اس کے لئے ڈیٹا سم کو موبائل فون میں لگا کر یا تھری جی کنکٹ پورٹل کی سیلف سروس سہولت کے ذریعے *345*4005# ڈائل کرنا پڑتا ہے۔ نہلے پہ دھلا کہ اس کوڈ کے بارے میں تعارفی پیکج یا لیف لیٹ پر کہیں بھی تحریر نہیں ہے۔ بہرحال ہمارے تجربے میں یہ کوڈ ڈائل کرنے کے اڑتالیس گھنٹوں بعد بھی ڈیوائس پر حسب وعدہ 60 گیگا بائٹس والیوم یا آزمائشی انٹرنیٹ دستیاب نہ ہوسکا۔ اس حوالے سے ہم نے باقاعدہ شکایت بھی درج کروائیں اور سیلز اینڈ سروس سینٹر کا دورہ بھی کیا۔ تاہم حسب سابق سیلز اسٹاف کو اس حوالے سے قطعی طور پر علم نہیں تھا کہ ایسا کیوں ہورہا ہے۔

بہرحال ، جن عہدے دار کا ذکر ہم نے پہلے کیا تھا، ان سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ ڈیوائس پر اگلے چھ سے سات گھنٹوں میں آزمائشی انٹرنیٹ فعال ہوگا۔ یوں خریداری کے تقریباً 55 گھنٹوں بعد انٹرنیٹ میسر آیا۔

نارتھ ناظم آباد، کراچی میں کئے گئے اسپیڈ ٹیسٹ کا نتیجہ

تھری جی کنکٹ کے لئے ٹیلی نار کے پیش کردہ پیکجز انتہائی غیر واضح ہیں اور ہم توقع کررہے ہیں کہ جلد ہی خریدار حقیقت معلوم ہونے پر ٹیلی نار کو کوسنا شروع کردیں گے۔ سب سے زیادہ والیوم رکھنے والا پیکج Unlimited ہے جسے فعال کرنے پر 30 یوم کے لئے 30 گیگا بائٹس کا والیوم ملتا ہے۔ اشتہارات میں اس پیکج کی قیمت 1500 روپے بتائی گئی ہے۔ حقیقت میں صارف کو اس پیکج کے لئے دو ہزار روپے کے لگ بھگ ادا کرنے ہوتے ہیں۔ جبکہ پنجاب میں انٹرنیٹ پر نئے ٹیکسز لگائے جانے کے بعد وہاں کے صارفین کو اضافی رقم بھی ادا کرنی پڑے گی۔ باقی صوبوں میں بھی اگر اس قسم کے معصولات عائد کئے گئے تو انٹرنیٹ پیکجز کی قیمت میں اضافہ ہوجائے گا۔ بہرحال، ہماری رائے میں ٹیلی نار پاکستان کو اشتہاری مواد میں یہ بات واضح طور پر لکھنی چاہئے تھی کہ پیکج کی قیمت 1500 روپے ٹیکسز کے بغیر ہے اور صارف کو اضافی رقم ادا کرنی پڑے گی۔

کلفٹن کراچی میں دوران استعمال کیا گیا اسپیڈ ٹیسٹ

ٹیلی نار کی تھری جی سروس کراچی کے ایک بڑے حصے میں دستیاب ہے۔ تاہم ہم نے کچھ مقامات جہاں تھری جی سروس دستیاب تھی، پر ڈیوائس کو 2G پر کنکٹ ہوتا پایا ہے۔ اس سوال کہ اگر کوئی شخص ڈیوائس خریدتا ہے لیکن اس کے علاقے میں تھری جی سروس دستیاب نہیں ہوتی تو کیا وہ ڈیوائس واپس کرسکتا ہے؟ کا سیلز اسٹاف کے پاس کوئی واضح جواب نہیں تھا۔

ہماری ذاتی رائے میں ٹیلی نار پاکستان کی متعارف کردہ تھری جی کنکٹ اور تھری جی وائی فائی کنکٹ ڈیوائسز اور پیکجز انٹرنیٹ کے حصول کے لئے غیر ضروری طور پر پیچیدہ ذرائع ہیں اور پاکستانی عوام شاید اس قسم کی پیچیدگیوں کی عادی نہیں۔ اگر ٹیلی نار پاکستان اس سروس کی کامیابی کے بارے میں سنجیدہ ہے تو اسے اس سروس کے بارے میں اپنی اشتہاری مہم کو تبدیل کرنا ہوگا۔ صارفین ویسے بھی ٹیلی کام آپریٹرز سے شکوہ کرتے ہیں کہ ان کے پوشیدہ چارجز بہت زیادہ ہیں، اس قسم کے حالات میں صارفین سے اصل قیمت چھپانا ایک انتہائی غیر اخلاقی اور تباہ کن عمل ثابت ہوسکتا ہے۔

انٹرنیٹ سروستھری جیتھری جی کنکٹٹیلی نارجائزہوائی فائی ڈونگل