ترقی پذیر ممالک کے لئے مفت انٹرنیٹ کی فراہمی، انٹرنیٹ ڈاٹ آرگ نے نئی ایپلی کیشن لانچ کردی

Internet.org انٹرنیٹ کی چند سب سے بڑی کمپنیوں کا مشترکہ پروجیکٹ ہے۔ ان میں فیس بک اور گوگل جیسے نام بھی شامل ہیں۔ اس پلیٹ فارم کے تحت ترقی پذیر ممالک جہاں کے باسیوں کی انٹرنیٹ تک رسائی محدود یا مہنگی ہے، سستی اور آسان رسائی فراہم کی جائے گی۔ اس کوشش کے تحت پہلی ایپلی کیشن افریقی ملک زمبیا (Zambia) کے لئے ریلیز کردی گئی ہے۔

زیمبيا جنوبی افریقہ میں واقع ایک زمین بند ( لینڈ لاک) ملک ہے۔ اس کی سرحد شمال میں کانگو اور تنزانیہ، مشرق میں زمبابوے ، جنوب میں بوٹسوانا اور مغرب میں انگولا سے ملتی ہے۔ ملک کے دارالحکومت لوساکا ملک کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ ملک کی زیادہ تر آبادی جنوب میں دارالحکومت لوساکا کے ارد گرد پھیلی ہوئی ہے۔ اس کی آبادی تقریباً ڈیڑھ کروڑ کے لگ بھگ ہے جبکہ ایک اندازے کہ مطابق آبادی کا 10 فیصد ایڈز کی زد میں ہے۔ معاشی اعتبار سے زمبیا غریب ترین ملک ہے جس کا جی ڈی پی صرف 20 ارب ڈالر ہے جبکہ ملک کی 55 فیصد آبادی 2 ڈالر روزانہ سے کم میں زندگی بسر کرتی ہے۔

انٹرنیٹ ڈاٹ آرگ کی زمبیا میں ریلیز کی گئی ایپلی کیشن بھارتی ٹیلی کام کمپنی ایئر ٹیل، جو زمبیا میں بھی موبائل سروسز فراہم کررہی ہے، کے صارفین استعمال کرسکیں گے۔ یہ ایپلی کیشن صارفین کو بغیر کوئی رقم خرچ کئے فیس بک، فیس بک مسینجر، گوگل سرچ، وکی پیڈیا اور چند دیگر سروسز استعمال کرنے دے گی۔ فیس بک نے اس ایپلی کیشن کے بارے میں اپنی بلاگ پوسٹ پر اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ”اس ایپلی کیشن کے ذریعے مفت بنیادی سروسز فراہم کرکے ہمیں امید ہے کہ ہم مزید لوگوں کو آن لائن لے آئیں گےاور انہیں ایسی سروسز سے روشناس کروائیں گے جو شاید دوسری صورت میں ممکن نہیں تھا“۔ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی ایسی سروس فراہم کرنے والے ہیں۔

فیس بک انٹرنیٹ ڈاٹ آرگ کے ذریعے ترقی پذیر ممالک تک انٹرنیٹ پھیلانے میں انتہائی سنجیدگی کا مظاہرہ کررہا ہے۔ اس سال کے شروع میں فیس بک ڈرونز، سٹیلائٹ اور لیزر کے ذریعے دور دراز کے علاقوں جہاں انٹرنیٹ موجود نہیں، انٹرنیٹ کی فراہمی کے منصوبوں کا اعلان کرچکا ہے۔ فیس بک کے مطابق اب تک وہ 30 لاکھ ایسے لوگوں کو آن لائن لا چکا ہے جنہیں پہلے انٹرنیٹ میسر نہیں تھا۔ گوگل بھی پروجیکٹ loon کے ذریعے ایسے ہی مقاصد کے حصول میں ٘مصروف ہے۔

فیس بک اور گوگل دونوں کے کاروبار کا دارومدار انٹرنیٹ کے استعمال کنندگان پر ہے۔ جتنے زیادہ صارف ہوں گے، کمائی کے ذرائع اور مواقعے بھی اتنے ہی ہوں گے۔ دونوں کے لئے پریشانی کی بات یہ ہے کہ دنیا کی زیادہ تر آبادی جسے انٹرنیٹ میسر ہے، پہلے ہی ان سروسز کو استعمال کررہی ہے۔ خاص طور پر مغربی ممالک میں بسنے والے بیشتر افراد پہلے ہی آن لائن سروسز استعمال کرتے ہیں اور اب وہاں سے فیس بک یا گوگل کو نئے صارفین ملنے کے امکانات موجود نہیں۔ اب مزید صارفین حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ایسے لوگوں تک بھی انٹرنیٹ پہنچایا جائے جو اس سے محروم ہیں۔ اس وقت دنیا کی دو تہائی آبادی کو انٹرنیٹ میسر نہیں۔ یہ بہت بڑی تعداد ہے اور یہ سراسر انٹرنیٹ پر انحصار کرنے والی کمپنیوں کے مفاد میں ہے کہ وہ ان لوگوں کو آن لائن لانے میں مدد کریں۔

انٹرنیٹ ڈاٹ آرگ منصوبے کے حوالے سے زبردست خدشات بھی موجود ہیں۔ ٹیلی کام کمپنیاں کبھی نہیں چاہیں گی کہ کوئی دوسری کمپنی ان کے علاقے میں مفت یا سستا انٹرنیٹ فراہم کرکے ان کا مالی نقصان کرے۔ اسی طرح بیشتر ممالک انٹرنیٹ فراہم کرنے والے ڈرونز کو اپنی حدود میں کام کرنے کی اجازت شاید نہ دیں جس کا کنٹرول بھی ان کے پاس نہ ہو۔ نیز چین ، سعودی عرب اور پاکستان جیسے ممالک جہاں انٹرنیٹ کے استعمال پر کئی طرح کی پابندیاں لاگو ہوتی ہیں، وہاں انٹرنیٹ ڈاٹ آرگ کے تحت انٹرنیٹ کی فراہمی پر بھی پابندی لگائی جاسکتی ہے۔

یہ خبر جولائی 2014ء کے شمارے میں شائع ہوئی تھی

انٹرنیٹفیس بک