ہیولٹ پیکارڈ

ہیولٹ پیکارڈ جو ایچ پی کے نام سے جانی پہچانی جاتی ہے، پرنٹرزاور ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز کے حوالے سے دنیا کے نامور کمپنی ہے۔ اس کا ہیڈ کواٹر پالو آلٹو، کیلی فورنیا، امریکہ میں ہے لیکن اس کے شاخیں دنیا کے بیشتر ممالک میں موجود ہیں۔ ایچ پی اس وقت مالیاتی اعتبار سے دنیا کی اہم ترین کمپنیوں میں شمار کی جاتی ہے۔ 2011 ء میں ایچ پی کا سالانہ ریونیو127.24 بلین ڈالر تھا۔ اس کے مقابلے میں آئی بی ایم کا کا ریونیو 106.91 بلین ڈالر تھا۔

ایچ پی کے بانی دو دوست بل ہیولٹ اور ڈیو پیکارڈ ہیں۔ ان دونوںنے 1934 ء میں اسٹینفورڈ یونی ورسٹی سے گریجویشن کیا ۔ ایچ پی کی ابتداء انہوں نے یکم جنوری 1939 ء کو اس وقت کی جب وہ پوسٹ گریجویشن کررہے تھے ۔ ایچ پی کا نام رکھنے کی بھی ایک دلچسپ کہانی ہے۔ بل ہیولٹ اپنی کمپنی کو ہیولٹ پیکارڈ کا نام دینا چاہتا تھا مگر ڈیو پیکارڈ کے خیال میں اس کا نام پیکارڈ ہیولٹ ٹھیک ہے۔ ان دونوں نے اس مسئلے کے حل کے لئے ٹاس کا سہارا لیا جو ڈیو پیکارڈ جیت گیا اور اس طرح کمپنی کا نام پیکارڈ ہیولٹ رکھ دیا گیا۔ مگر بعد تلفظ میں مشکلات کی وجہ سے اس کا نام بدل کر ہیولٹ پیکارڈ کردیا گیا۔

ایچ پی کا کاروباری لحاظ سے سے پہلا کامیاب پروجیکٹ ایک آڈیو آسی لیٹر (ماڈل 200A) تھا۔ یہ آڈیو آسی لیٹر 54.40 ڈالر کا تھا جبکہ اس وقت دیگر آڈیو آسی لیٹرز کی قیمت کم از کم دو سو ڈالر تھی۔ ماڈل 200A کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں ایک چھوٹے سے لائٹ بلب کو بطور حرارت کے مطابق متغیر مزاحمت استعمال کیا گیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آڈیو آسی لیٹرز کی یہ سیریز 1972 تک جاری رہی۔ اس سیریز کا آخری آسی لیٹر 200AB تھا۔ اس طرح یہ سیریز 33 سال تک مختلف مراحل سے گزرتی رہی اور مارکیٹ میں پیش کی جاتی رہی۔ ایچ پی کے اولین صارفین میں والٹ ڈزنی کمپنی بھی شامل ہے جس نے ایچ پی کے تیار کردہ آٹھ عدد آڈیو آسی لیٹر ماڈل 200B خریدے تھے۔

ابتدائی زمانے میں ایچ پی کمپیوٹر یا الیکٹرانکس کی کسی مخصوص شاخ پر مرکوز نہیں رہی۔ انہوں نے تقریبا تمام اہم صنعتوں میں کچھ نہ کچھ کام ضرور انجام دیئے ہیں۔ آپ کو پڑھ کر شاید حیرت ہو کہ ایچ پی نے زراعت کے شعبے میں بھی کام کیا ہے۔بعد میں اس نے خود کو صرف اعلیٰ معیار کے تجزیاتی اور شماریاتی آلات تک محدود کردیا۔ 1940ء سے 1990ء تک ایچ پی کا بنیادی کام سگنلز جنریٹرز، وولٹ میٹرز، آوسیلو اسکوپس، کائونٹرز اور دیگر تجزیاتی آلات کی تیاری اور فروخت رہا ہے۔ اس کے تیار کردہ آلات کی درستگی اور ان کی رینج اسے دوسری کمپنیوں سے ممتاز بناتی تھی۔

ایچ پی نے کمپیوٹر کی دنیا میں اپنا پہلا قدم 1966 ء میں HP 2100 اور HP 1000 سیریز کے مائیکرو کمپیوٹرز متعارف کرواکے رکھا۔ وائرڈ میگزین کے مطابق دنیا کا پہلا پرسنل کمپیوٹر (9100A) ایچ پی نے 1968 ء میں بنایا تھااور اس کی قیمت 5000 ڈالر تھی۔ لیکن ایچ پی سے ڈیسک ٹاپ کیلکولیٹر کہتی ہے۔ بل ہیولٹ کے مطابق اگر ہم اسے ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر کہتے تو صارفین اسے مکمل پراڈکٹ کو مکمل طور پر مسترد کردیتے۔کیونکہ یہ آئی بی ایم کے ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز کی طرح دکھائی نہیں دیتے تھے۔

دنیا کا پہلا دستی الیکٹرانک سائنٹیفک کیکولیٹر جو HP35 کہلایا، بنانے کا سہرا بھی ایچ پی کے سر ہے۔ اسی طرح پہلا گرافنگ کیلکولیٹر بھی ایچ پی نے تیار کیا۔ اس کے علاوہ 1974ء میں پہلا دستی پروگرام ایبل HP65 ، 1979ء میں پہلا الفا نیومیرک اور پروگرام ایبل HP41C بھی ایچ پی نے تیار کیا۔

1984ء میں ایچ پی نے ان جیٹ اور لیزر جیٹ دونوں پرنٹرز متعارف کروائے۔ ساتھ اسکینرز کی بھی ایک سیریز متعارف کروائی گئی۔ بعد میں ان تینوں کوملا کر ایک آلے میں تبدیل کردیا گیا جو بیک وقت پرنٹر، اسکینر، فو ٹو کاپیئر اور فیکس مشین کام دے سکتا تھا۔ ایچ پی کے تیار کردہ لیزر جیٹ پرنٹرز مکمل طور پر کینون کے پرنٹ انجن پر انحصار کرتے ہیں۔ تاہم ایچ پی اپنے پرنٹرز کے لئے ہارڈویئر، فرم ویئر اور سافٹ ویئر خود تیار کرتا ہے ۔

وقت کے ساتھ ساتھ ایچ پی نے چھوٹی کمپنیوں کو خرید کر اپنے کاروبار کو توسیع بھی دی۔ 1989 ء میں ایچ پی نے Apollo کمپیوٹرز، 1995 ء میں Convex کمپیوٹرز اور2002ء میں Compaq کو خرید لیا۔ اس سے پہلے Compaq خود Tendem کمپیوٹرز اور ڈجیٹل ایکوپمنٹ کارپوریشن جیسی نامور کمپنیوں کو خرید چکا تھا۔

1999ء میں ایچ پی نے کمپیوٹر کے علاوہ تمام کاروبار ایچ پی سے علیحدہ کرکے ایک نئی کمپنی کی بنیاد رکھی۔ یہ کمپنی Agilent کہلاتی ہے۔ اس کمپنی میں شامل تمام کاروبار مجموعی طور پر 8 بلین ڈالر مالیت کے تھے اور کمپنی کو ابتداء ہی میں 30 ہزار ملازمین ورثے میں ملے۔2002ء میں ایچ پی نے Compaqکے اسے انضمام کرلیا اور 2008ء میں ESDکو خرید ا۔ یہ تینوں مواقع کمپنی کی تاریخ میں بے حد اہم سمجھے جاتے ہیں۔ 2009ء میں ایچ پی نے 3Comنامی مشہور کمپنی کو خریدنے کا اعلان کیا اور 12اپریل 2010ء کو خریداری کا یہ عمل مکمل ہوا۔ اسی ماہ یعنی 12اپریل 2010ء کو ایچ پی نے Palmکو بھی خریدا۔ اس سے پہلے یہ افواہیں گردش میں تھیں کہ Palm Incکو ایچ ٹی سی، ڈیل یا RIMخرید لیں گے۔

ایچ پی ٹیکنالوجیز اور پراڈکٹس

پرنٹر، اسکینر، ڈیجیٹل کیمرے، کیلکولیٹر ،PDA، سرورز اور پرسنل کمپیوٹر ایچ پی کی کامیاب ترین مصنوعات سمجھی جاتی ہیں۔ خصوصا پرنٹرز اور اسکینرز کے حوالے سے ایچ پی کا نام ہی معیارمانا جاتا ہے۔ لیکن ایچ پی خود کو صرف سافٹ ویئر اور ہارڈویئر کمپنی کے طور پر پیش نہیں کرتا بلکہ ایچ پی ایک ایسی کمپنی کی صورت میں خود کو روشناس کروارہا ہے جو آئی ٹی کے حوالے سے تمام تر خدمات فراہم کرتی ہے۔ ایچ پی کے اہم حصے مندرجہ ذیل ہیں۔

٭… امیجنگ اور پرنٹنگ گروپ

ایچ پی کا امیجنگ اور پرنٹنگ گروپ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا پرنٹر ہارڈویئر، پرنٹنگ سپلائیز اور اسکینگ ڈیوائسز فراہم کنندہ ہے۔ ان کی تیار کردہ مصنوعات عام صارفین ، چھوٹے بڑے اداروں میں زیر استعمال ہیں۔ یہ گروپ لیزر پرنٹرز، انک جیٹ پرنٹرز، انڈیگو ڈیجیٹل پریس، ایچ پی آئوٹ پٹ منیجمنٹ سوٹ وغیرہ پر کام کرتا ہے۔

٭… پرسنل سسٹمز گروپ

یہ گروپ بھی دنیا کا سب سے بڑا پرسنل کمپیوٹرز فراہم کرنے والا گروپ ہے۔ یہ گروپ عام ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز، ایچ پی پویلین، کمپیک پریساریو اور ووڈو پی سی سیریز سمیت ونڈوز، لینکس اور یونکس کے لئے ورک اسٹیشن بھی فراہم کرتا ہے۔ اس گروپ کی دیگر سرگرمیوں میں ایچ پی iPAQ پاکٹ پی سی اور دیگر دستی کمپیوٹر ڈیوائسس کی تیاری بھی شامل ہے۔ پرسنل کمپیوٹرز سے منسلک بیشتر ہارڈویئر ایچ پی کا یہی گروپ تیار کرتا ہے۔

٭… ٹیکنالوجی سلوشن گروپ

اس گروپ میں ایچ پی اینٹرپرائز اسٹوریج ا ینڈ سرورزگروپ ، ایچ پی سروسز اور سافٹ ویئر گروپ شامل ہیں۔ اینٹر پرائز اسٹوریج اینڈسرورز گروپ کے بنیادی امور میں پرولیئنٹ x86 بیسڈ سرورز جو پہلے کمپیک تیار کرتا تھا، x86 اور اٹانیئم بیسڈ بلیڈ سرورز اور ایلفا پروسیسرز کے حامل سرورز تیار کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ گروپ NonStop آپریٹنگ سسٹم ، HP9000 سپر ڈوم سیریز کے سرورز اور ورک اسٹیشنز ، EVA اسٹوریج ایرے کی تیاری کا ذمہ دار بھی ہے۔
ایچ پی کا سافٹ ویئر گروپ اوپن ویو فیملی کے منیجمنٹ سافٹ ویئر اور اوپن کال فیملی کے ٹیلی کام سافٹ ویئر تیار کرتا ہے۔

٭…ایچ پی لیبز

ایچ پی لیبز ایچ پی کا تحقیقی مرکز ہے جس کے بنیادی کاموں میں نئی ٹیکنالوجیز کی تیاری، پرانی ٹیکنالوجیز کو بہتر بنا کر زیادہ محفوظ اور مفید بنانا اور نئی ایجادات کرنا شامل ہیں۔ ایچ پی لیبز 1966ء میں قائم کی گئی تھیں۔ ایچ پی اس وقت صرف عام استعمال کی مصنوعات نہیں، بلکہ سپر کمپیوٹرز بھی تیار کررہا ہے۔ سپر کمپیوٹرز کے حوالے تحقیق بھی ایچ پی کی انہیں لیبز میں کی جاتی ہے۔ اس وقت دنیا کے اہم سپر کمپیوٹرز میں کچھ ایچ پی کی تیار کردہ ہے۔ کچھ عرصے پہلے تک ایچ پی کی تیار کردہ سپر کمپیوٹر TOP500 رینکنگ میں بہت اچھے رینک پر تھے مگر اب بیشتر ابتدائی پوزیشنز پر دیگر کمپنیوں کے سپر کمپیوٹرز موجود ہیں۔

پارٹنر شپ

لینکس اور اوپن سورس سافٹ ویئر کے اہم ترین حامیوں میں ایچ پی بھی شامل ہے۔ ایچ پی کے کچھ ملازمین جیسے ڈیبیئن (Debian) کے پروجیکٹ لیڈر بڈالے گربی وغیرہ ایسے ہیں جن کا ماضی اور حال دونوں اوپن سورس تحریک کے تحت گزرا ہے۔ ایچ پی کی ایک الگ اوپن سورس کمیونٹی ہے جس میں دنیا بھر سے رضاکار حصہ لیتے ہیں۔ لینکس کمیونٹی میں اپنے اوپن سورس ڈرائیورز کی وجہ سے ایچ پی بہت اچھی ساکھ رکھتا ہے۔ ساتھ ہی ایچ پی مائیکروسافٹ سمیت تمام اہم سافٹ ویئر کمپنیوں کے ساتھ ملکر کام کررہا ہے ان کی ٹیکنالوجیز کی مدد سے اپنی مصنوعات کو بہتر بنا رہا ہے۔

حریف

ایچ پی چونکہ بہت سے شعبوں میں کام کر رہا ہے لہٰذا اس کے کاروباری مدمقابل بھی بہت سے ہیں۔ کمپیوٹر کے حوال سے ان میں اہم ترین ایپل، ڈیل، گیٹ وے، سونی اور توشیبا ہیں۔ سرورز میں ایچ پی کا مقابلہ براہ راست آئی بی ایم، سن مائیکرو سسٹمزاور ڈیل کے ساتھ ہے۔ پرنٹرز کے شعبے میں ایچ پی کا ٹکرائو کینن، برادر، ایپسن، لیگزمارک اور ڈیل کے ساتھ ہے۔ البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایچ پی کا سب سے بڑا حریف اس وقت ڈیل ہے۔

15جون 2011ء کو ایچ پی نے اوریکل کے خلاف ایک قانونی پیٹیشن عدالت میں جمع کروائی تھی کہ اوریکل نے ایٹانیم پروسیسرز کی سپورٹ ختم کرکے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ یاد رہے کہ مائیکروسافٹ بھی ایٹانیم پروسیسرز کے لئے ڈیویلپمنٹ بند کرچکا ہے۔ اوریکل جو دنیا کی تیسری بڑی سافٹ ویئر کمپنی ہے اور ایچ پی کے درمیان تنائو وقت کے ساتھ بڑھتا ہے جا رہاہے اور اکثر ان کی باہمی چپکلش خبروں میں رہتی ہے۔یکم اگست 2012ء کو عدالت نے ایچ پی کے حق میں فیصلہ بھی دے دیا ہے۔

computing pediahpایچ پیکمپیوٹنگ پیڈیا