سام سنگ

سام سنگ گروپ جنوبی کوریا کی بین الاقوامی کمپنی ہے جس کا ہیڈ کوارٹر سام سنگ ٹائون، سیول میں ہے۔ سام سنگ گروپ میں بہت سے ذیلی کاروباری ادارے شامل ہیں جو سام سنگ سے الحاق کر کے اس کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سام سنگ گروپ جنوبی کوریا کا سب سے بڑا بزنس گروپ ہے۔
خاص بات یہ ہے کہ سام سنگ کی صنعتی ذیلی کمپنیاں جو سام سنگ الیکٹرونکس میں شامل ہیں، کی وجہ سے ہی سام سنگ 2011ء میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں آمدن کے لحاظ سے پہلے نمبر پر ہے۔ سام سنگ ہیوی انڈسٹریز آمدن کے حساب سے 2010ء میں دنیا کی دوسری بڑی بحری جہاز بنانے والی کمپنی رہی۔ سام سنگ انجینئرنگ دنیا کی 35ویں اور سام سنگ سی اینڈ ٹی دنیا کی 72ویں بڑی تعمیراتی کمپنیاں ہیں۔ اس کے علاوہ سام سنگ میں سام سنگ ٹیک وِن (Samsung Techwin) شامل ہے جو کہ ہتھیار اور آپٹو الیکٹرونکس بنانے والی کمپنی ہے۔ دوسری قابل ذکر ذیلی کمپنیوں میں سام سنگ لائف انشورنش ہے جو لائف انشورنش میں دنیا کی 14ویں بڑی کمپنی ہے۔
سام سنگ ایور لینڈ، ایور لینڈ رِزورٹ(Everland Resort) اور جنوبی کوریا کا سب سے قدیم تھیم پارک چلاتی ہے۔ چیل ورلڈ وائیڈ (Cheil Worldwide) جو کہ آمدن کے لحاظ سے 2010ء میں دنیا کی 19ویں بڑی ایڈورٹائزنگ کمپنی رہی وہ بھی سام سنگ کی ہی ذیلی کمپنی ہے۔ جنوبی کوریا کی کل برآمدات میں سام سنگ کا حصہ 20فیصد ہے۔سام سنگ کی کل آمدن بھی بہت سے ممالک کی جی ڈی پی سے بڑھ کر ہے۔ 2006ء میں یہ دنیا کی 35ویں بڑی معیشت تھی۔

سام سنگ کا نام

سام سنگ گروپ کے بانی کے مطابق کورین ہانجا زبان میں سام سنگ کا مطلب تین ستارے(تھری اسٹار) ہوتا ہے۔ تین(تھری) سے مراد کوئی ایسی چیز جو بہت بڑی، بہت زیادہ اور بہت طاقتور ہوتی ہے۔ جبکہ ستارے (اسٹار) سے مراد ’’ابدیت‘‘ یا طویل مدت ہوتا ہے۔

 سام سنگ کی تاریخ

٭…1938ء سے 1970ء تک
1930ء کے عشرے کے اواخر میں Samsung Sanghoe کا ہیڈ کوارٹر Daegu میں تھا۔1938ء میں لی بیونگ چُل (Lee Byung-chull) نے جس کا تعلقUiryeong کاونٹی کی ایک بڑی زمین دار فیملی سے تھا، نےDaegu آکر Samsung Sanghoe کی بنیاد رکھی۔ شروع میں یہ ایک چھوٹی تجارتی کمپنی تھی جس میں 40افراد کام کرتے تھے۔ ابتداء  میں یہ Su-dong (جو آجکلIngyo-dongکہلاتا ہے) میں ہی کام کرتی تھی ۔اپنے قیام کے وقت کمپنی گروزری کی مصنوعات اپنے شہر میں فراہم کرتی تھی۔ اس کے علاوہ کمپنی اپنے بنائے ہوئے نوڈلز بھی شہر کی دوکانوں پر سپلائی کرتی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ کمپنی پھلتی پھولتی رہی تو 1947ء میں لی نے اپنا ہیڈ کوارٹر سیول میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ جب کوریا کی جنگ چھڑی، لی کو سیول چھوڑنا پڑا ۔ اُس نے بوسان (Busan) میںCheil Jedang کے نام سے شوگر کی ریفائنری بنا لی۔ جنگ کے بعد 1954ء میں لی نے Cheil Mojik قائم کی اور اس کا پلانٹDaegu میں ہی ایک جگہ Chimsan-dong پر لگایا۔ یہ اُس وقت تک کی ملک کی سب سے بڑی وولن مِل تھی۔ اس کے بعد سے ہی کمپنی ملک کی بڑی کمپنیوں میں شمار ہونے لگی۔
اس کے بعد سام سنگ نے اپنا دائرہ بہت سے کاروباروں تک بڑھا دیا۔ لی ’’سام سنگ‘‘ کو انڈسٹری میں بہت اعلیٰ مقام دینا چاہتا تھا، اسی لیے اس نے اپنے کاروبار میں دوسرے کاروبار شامل کرنے کے ساتھ ساتھ انشورنش، سکیورٹی اور ریٹیل تک کو شامل کر لیا۔لی نے صنعت میں ترقی کی طرف بہت توجہ دی۔ لی نے ایک حکمت عملی بنائی کہ بجائے مارکیٹ میں مقابلہ بازی کے، کیوں نا دوسری کمپنیوں کو اپنے ساتھ شامل کیا جائے۔ اسی وجہ سے لی نے بہت سی کمپنیوں کو اپنے ساتھ ملایا یا ان کوسرمایہ فراہم کیا۔
1948ء میں Cho Hong-jai (جو Hyosung گروپ کا بانی تھا) نے لی بیونگ چُل کے ساتھ ایک نئی کمپنی کی داغ بیل ڈالی اس نئی کمپنی کا نام Samsung Mulsan Gongsa یا سام سنگ ٹریڈنگ کارپورشن تھا۔ یہ تجارتی کمپنی آجکل سام سنگ سی اینڈ ٹی کارپوریشن کے نام سے جانی جاتی ہے۔کچھ عرصے بعد ایسا ہوا کہ چو اور لی کے درمیان انتظامی امور پر اختلافات ہوئے اور دونوں الگ ہو گئے۔الگ ہونے کے بعد جب معاملات طے ہوئے تو سام سنگ گروپ سے سام سنگ گروپ، ہیوسنگ گروپ، ہین کوک ٹائر(Hankook Tire) اور کچھ دوسری کمپنیاں سامنے آئیں۔
1960ء کے عشرے کے آخر میں سام سنگ گروپ الیکٹرونکس مصنوعات کی صنعت میں داخل ہو گیا۔ اس میں سام سنگ کے بہت سارے الیکٹرونکس سے متعلق ڈویژنز بنے۔ جیسے کہ سام سنگ ڈیوائسز کمپنی، سام سنگ الیکٹرو مکینک کمپنی، سام سنگ کورنگ کمپنی اور سام سنگ سیمی کنڈیکٹر اینڈ ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی ۔ان سب کمپنیز کی مدد سے سام سنگ نے پہلا بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن بنایا۔
٭… 1970 تا 1990
سام سنگ نے کورین مارکیٹ کے لیے SPC-1000 کے نام سے پہلا پرسنل کمپیوٹر 1982ء میں متعارف کرایا۔ اس کمپیوٹر میں ڈیٹا محفوظ کرنے اور لوڈ کرنے کے لے آڈیو کیسٹ استعمال کی جا سکتی تھی۔ ضرورت پڑنے پر فلاپی ڈرائیو کا استعمال کی بھی کیا جا سکتا تھا۔
1980ء میں سام سنگHanguk Jeonja Tongsin کو خرید کر ٹیلی کمیونی کیشن ہارڈ وئیر کی صنعت میں داخل ہو گیا۔ شروع میں یہ کمپنی سوئچ بورڈ وغیرہ ہی بناتی تھی۔ اس کے بعدکمپنی ٹیلی فون اور فیکس مشینیں بنانے لگی اوراس کے بعد یہاں پر ہی سام سنگ کے موبائل فونز بننے لگے۔ اس وقت تک سام سنگ نے 80کروڑ کے قریب موبائل فون بنائے ہیں۔ 1980ء کے عشرے میں ہی سام سنگ نے اس کمپنی کو سام سنگ الیکٹرونکس کمپنی لمیٹڈ کا نام دیا۔
1987ء میں سام سنگ کے بانی Lee Byung-chull کی وفات کے بعد سے سام سنگ گروپ چار گروپس سام سنگ گروپ، شینسیگائی (Shinsegae) گروپ، سی جے گروپ اور ہینسول (Hansol) گروپ میں تقسیم ہو گیا۔
شینسیگائی (Shinsegae) گروپ جو کہ ڈیپارٹمنٹل اسٹورز اور ڈسکائونٹ اسٹورز چلاتا ہے، اصل میں سام سنگ گروپ کا حصہ تھا۔ اس کے ساتھ ہی سی جے گروپ جو فوڈ، کیمیکل، اینٹرٹینمنٹ اور لوجسٹک میں اور ہینسول گروپ جو ٹیلی کمیونی کیشن میں ڈیل کرتا ہے، یہ سب سام سنگ سے 1990ء کے بعد الگ ہوئے۔
آج کل یہ سب گروپس بالکل آزاد کام کر رہے ہیں اور ان کا سام سنگ گروپ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
1980ء کی دہائی میں سام سنگ الیکٹرونکس نے ریسرچ اور ڈیویلپمنٹ کی مد میں کافی بڑی رقوم خرچ کرنا شروع کیں۔ اس سرمایہ کاری سے سام سنگ الیکٹرونکس دنیا کی بڑی الیکٹرونکس کمپنی کے طور پر ابھر کر سامنے آئی۔1982ء میں اس نے اپنا ٹیلی ویژن اسمبل کرنے کا پلانٹ پرتگال میں لگایا۔ اس کے بعد 1984ء میں نیویارک میں، 1985ء میں ٹوکیومیں بھی پلانٹ لگائے۔ 1987ء میں انگلینڈ میں اور 1996ء میں آسٹن (ٹیکساس) میں بھی فیکٹریاں قائم کیں۔ سام سنگ نے آسٹن میں 13ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔ وہاں اس کا نامSamsung Austin Semiconductor LLC ہے۔اسی وجہ سے ٹیکساس میں آسٹن ایسی جگہ بن چکا ہے، جہاں بہت زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری اورامریکہ میں ایک ہی جگہ سب سے زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔
٭… 1990ء تا2000ء
1990ء کے عشرے میں ہی سام سنگ بطور انٹرنیشنل کارپوریشن کے مستحکم ہو چکا تھا۔سام سنگ کی تعمیراتی کمپنی نے ملائشیا میں پٹروناس ٹاور کے دو میں سے ایک ٹاور، تائی پے میں تائی پے 101 اور متحدہ عرب امارات میں برج خلیفہ کی تعمیر بھی کی۔1993ء میں Lee Kun-hee نے سام سنگ کی دس ذیلی کمپنیاں فروخت کر دیں۔ کمپنی میں ڈائون سائزنگ کی گئی اور کچھ نئے پراجیکٹ شروع کئے گئے۔ اس کے بعد کمپنی نے اپنی توجہ صرف تین شعبوں یعنی الیکٹرونکس، انجینئرنگ اور کیمیکل پر مرکوز کردی ۔
1992ء میں سام سنگ میموری چپ بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی اور انٹل کے بعد چپ بنانے والی دوسری بڑی کمپنی تھی۔ 1995ء میں سام سنگ نے پہلا لیکوئیڈ کرسٹل ڈسپلے(LCD) اسکرین بنائی اور دس سال بعد سام سنگ ایل سی ڈی پینل بنانے والی سب سے بڑی کمپنی بن گئی۔ سونی جس نے اس عرصے میں ٹی ایف ٹی ، ایل سی ڈی کی صنعت میں کوئی خاص سرمایہ کاری نہیں کی تھی، نے سام سنگ سے تعاون کے لیے کہا۔ 2006ء میں S-LCD کے نام سے سونی اور سام سنگ نے ایک مشترکہ منصوبہ شروع کیا جس کے تحت دونوں نے ایل سی ڈی پینل کی سپلائی کو مزید مستحکم کرنا تھا۔S-LCD سام سنگ کی ملکیت تھی۔ سام سنگ کا حصہ 50فیصد سے ایک زیادہ شیئر تھا، جبکہ سونی کا حصہ 50فیصد سے ایک شیئر کم تھا۔ اس مشترکہ منصوبے کے لیے فیکٹریاں Tangjung، جنوبی کوریا میں ہی قائم کی گئی۔26دسمبر 2011ء کو سام سنگ نے اعلان کیا کہ اس نے اس مشترکہ منصوبے میں سونی کا حصہ بھی خرید لیا ہے۔
1997ء میں ایشیاء میں آنے والے مالی بحران نے دوسری کورین کمپنیوں کے مقابلے میں سام سنگ کو کچھ خاص متاثر نہیں کیا۔ تاہم سام سنگ موٹرز کو’’رینالٹ‘‘ کے ہاتھوں اچھے خاصے نقصان پر بیچنا پڑا۔ 2010ء میں ’’رینالٹ سام سنگ‘‘ میں رینالٹ کا حصہ 80.1 فیصد تھا جبکہ سام سنگ کا 19.9فیصد۔
1980ء اور1990ء کے عشروں میں سام سنگ ائیر کرافٹ بھی بناتا رہا ہے۔ 1999ء میں تین مختلف کمپنیوںکے ائیرو سپیس ڈویژنز یعنی سام سنگ ائیرو اسپیس، ڈائیو ہیوی انڈسٹریز اور ہنڈائی اسپیس اور ائیر کرافٹ کمپنی کے انضمام سے کوریا ائیرو اسپیس انڈسٹریز ( KAI) قائم کی گئی۔ تاہم ابھی بھی سام سنگ ائیر کرافٹ کے انجن اور گیس ٹربائن بنا رہا ہے۔
٭… 2000ء تاحال
2010ء میں سام سنگ نے 10سالہ منصوبے کا اعلان کیا جس کے تحت تمام تر توجہ صرف پانچ کاروباروں پر مرکوز کردی جائے گی۔ بائیو فارماسوٹیکل ان میں سے ایک ہوگا۔ سام سنگ نے اس کاروبار پر 2.1ٹریلین سائوتھ کورین وون خرچ کرنے کا اعلان کیا۔
دسمبر 2011ء میں سام سنگ الیکٹرونکس نے اپنا ہارڈ ڈسک ڈرائیو کا کاروبار سی گیٹ نامی مشہور ہارڈویئر بنانے والے کمپنی کو 1.4ارب ڈالر میں فروخت کر دیا۔
2012ء کی پہلی سہ مائی میں سام سنگ الیکٹرونکس موبائل فون بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی بن گئی جس کے فروخت شدہ موبائل یونٹ کی تعداد نوکیا سے بھی بڑھ گئی جو 1998ء سے مارکیٹ میں راج کر رہاتھا۔
24اگست 2012ء کو ایک امریکی عدالت نے اسمارٹ فون ٹیکنالوجی کے پیٹنٹ کی خلاف ورزی کے کیس میں فیصلہ دیا کہ سام سنگ ایپل کو 1.05ارب ڈالر بطور ہرجانہ ادا کرے۔ سام سنگ نے اس فیصلے کی مذمت یہ کہتے ہوئے کی کہ اس سے موبائل فون صنعت میں ایجادات اور اختراعات کو نقصان پہنچے گا اور صارفین اچھی مصنوعات سے محروم ہوجائیں گے۔ اس کے بعد جنوبی کوریا کی ایک عدالت کا فیصلہ بھی آیا جس میں کہا گیا کہ دونوں ہی کمپنیاںایک دوسرے کی انٹلیکچول پراپرٹی استعمال کرنے کے ضمن میں مجرم ہیں۔
اس کے بعد ایپل نے سام سنگ کے آٹھ مختلف موبائل فون ماڈلز کی امریکہ میں فروخت کروانے کے لئے قانونی درخواست دائر کی جسے مسترد کردیا گیا۔
ایپل اور سام سنگ کی یہ قانونی جنگ تاحال جاری ہے۔ یہاں یہ بات دلچسپی سے پڑھی جائے گی کہ ایپل آئی فون کے لئے مختلف ہارڈویئر سام سنگ ہی ایپل کے لئے تیار کرتا ہے۔ ایپل نے آہستہ آہستہ سام سنگ پر اپنی اِس انحصاری کو ختم کرنے کیلئے دیگر کمپنیوں سے آئی فون کے اجزاء تیار کروانے شروع کردیئے ہیں۔
اس وقت سام سنگ 80سے زائد کمپنیوں پر مشتمل ایک بہت بڑا گروپ بن چکا ہے جس نے ہر اس میدان میں سرمایہ کاری کررکھی ہے جہاں سے منافع ہونے کے امکانات ہیں۔ 2009ء کے مالی سال میں سام سنگ نے 220ٹریلین (220,000,000,000,000) کورین وون کی آمدن کا اعلان کیا جبکہ سال 2010ء میں یہ بڑھ کر 250ٹریلین وون ہوگئی جس میں اس کا خالص منافع 30ٹریلین وون تھا جو تقریباً 27.6ارب ڈالر بنتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس آمدن میں سام سنگ کی ان ذیلی کمپنیوں کی آمدن شامل نہیں جو سائوتھ کوریا سے باہر کام کررہی ہیں۔
سام سنگ کے بڑے کلائنٹس میں دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں شامل ہیں جن سے اس کے اربوں ڈالر کے معاہدے ہیں۔ روئل ڈچ شیل کے ساتھ اس کے ایک معاہدے کی مالیت 50ارب ڈالر ہے جس کے تحت یہ اگلے 15سال تک شیل کو مائع قدرتی گیس فراہم کرے گی۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات کی حکومت کے ساتھ جنوبی کوریائی کمپنیوں ’’کوریا الیکٹرک پاور کارپوریشن ‘‘، ہنڈائی اور سام سنگ نے نیوکلیئر پاور پلانٹس کی تعمیر کا معاہدہ کررکھا ہے جس کی مالیت 40ارب ڈالر ہے۔
کینڈا کے صوبے ’’اونٹاریو‘‘ کی حکومت نے بھی سام سنگ کے ساتھ رینو ایبل انرجی پلانٹس جن سے 2500میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی، کے لئے 6.6ارب ڈالر کا معاہدہ کررکھا ہے۔

سام سنگ الیکٹرانکس

سام سنگ الیکٹرانکس جو موبائل فونز ، ایل ای ڈی اور ایل سی ڈی ڈسپلے، سیمی کنڈکٹرز ، ٹیلی وژنز اور دیگر برقی آلات بنانے کا ذمہ دار ادارہ ہے، سام سنگ گروپ کا سب سے منافع بخش حصہ ہے۔ اس کے اسمبلی پلانٹس اور سیلز نیٹ ورکس دنیا کے 61ممالک میں پھیلے ہوئے ہیںجو اسے دنیا کی سب سے زیادہ موبائل فونز بنانے والی کمپنی اور دنیا کی دوسری بڑی چپ بنانے والی کمپنی بناتے ہیں۔ یہی نہیں ، سام سنگ 2006ء سے ٹیلی وژن اور ایل سی ڈی پینلز بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ہے۔ میموری چپس بنانے میں اس کا ایک بڑا حصہ ہے۔ OLEDs کی دنیا میں تو سام سنگ کا 97فی صد حصے کے ساتھ بلاشبہ راج ہے۔ ساتھ اس ٹیکنالوجی میں 600امریکی پیٹنس اور 2800انٹرنیشنل پیٹنس سام سنگ کو AMOLED ٹیکنالوجی کے سب سے زیادہ پیٹنٹس رکھنے والی کمپنی بناتے ہیں۔ یہی ٹیکنالوجی سام سنگ کے جدید اسمارٹ فونز میں استعمال کی جاتی ہے جوسام سنگ الیکٹرانکس کی آمدن کا ایک بڑا حصہ پیدا کرتے ہیں۔
سام سنگ گلیکسی سیریز کے اسمارٹ فون اس کمپنی کے لئے سونے کے انڈے دینے والی مرغی کی مانند ہیں۔ گلیکسی ایس تھری نے خاص طور پر ایپل جیسی کمپنیوں کے ہوش اڑا کر رکھ دیئے ہیں۔ گلیکسی ایس تھری اور ایپل آئی فون فائیو کا براہ راست مقابلہ ہے۔ اس سے پہلے امریکی مارکیٹ میں خاص طور پر ایپل کی اجارہ داری تھی۔ لیکن سام سنگ گلیکسی ایس اسمارٹ فون کی امریکہ میں آمد کے 45دن کے اند ر ہی اس کے دس لاکھ سے زائد یونٹس فروخت ہوگئے اور ایپل کے لئے خطرے کی گھنٹی بجادی۔ اس وقت ایپل کا اسمارٹ فونز کی مارکیٹ میں حصہ 14.6 فی صد ہے جبکہ سام سنگ کا حصہ 23.8فی صد ہے۔
دیگر اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیاں بشمول ایپل، اپنے فونز میں صرف ایک ہی آپریٹنگ سسٹم کی سپورٹ رکھتی ہیں۔ لیکن سام سنگ نے اپنے موبائل فونز میں ایک سے زائد آپریٹنگ سسٹمز کی سہولت فراہم کررکھی ہے۔ سام سنگ گلیکسی سیریز کے فونز میں بنیادی طور پر گوگل اینڈروئیڈ استعمال ہوتا ہے لیکن اس میں سیمبین، مائیکروسافٹ ونڈوز فون، سام سنگ کے اپنے آپریٹنگ سسٹم ’’Bada‘‘ کے علاوہ لینکس کی ایک ڈِسرو LiMoبھی چلائی جاسکتی ہے۔
سال 2012ء کی پہلی سہ ماہی میں سام سنگ نے دنیا بھر میں ساڑھے چار کروڑ موبائل فونز فروخت کئے اور موبائل فون بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی کا اعزاز حاصل کیا۔
موبائل فونز کے علاوہ سام سنگ الیکٹرانکس کو چپس بنانے میں مہارت حاصل ہے۔ انٹل جو چپس بنانے میں اول نمبر ہے، کے بعد سام سنگ کا نمبر ہی آتا ہے۔ 1993ء سے میموری چپس بنانے والی کمپنیوں میں سام سنگ اول نمبر پر ہے۔ DRAMsاور NANDچپس بنانے کا آغاز سام سنگ نے 2010ء میں کیا تھا اور تب سے گارٹنر کی رپورٹ کے مطابق سام سنگ کے پاس اس مارکیٹ کا 35فی صد حصہ ہے۔ سام سنگ کی ترقی دیکھتے ہوئے ماہرین کی پیش گوئی ہے کہ 2014ء تک سام سنگ، انٹل کو بھی پیچھے چھوڑ دے گا۔
سام سنگ الیکٹرونکس مونو لیزر پرنٹرز، کلر لیزر پرنٹرز، ملٹی فنکشن پرنٹرز، ڈیجیٹل کیمرے، ڈی ایس ایل آر کیمرے، کیم کورڈرز، ٹیبلٹس، میموری کارڈ، تھری ڈی ٹی وی، بلیو رے پلیئر، تھری ڈی گلاسس، سمیت سیکڑوں برقی آلات تیار کررہا ہے۔

سام سنگ