ایم ٹی گوکس نے خود بٹ کوئن غائب کئے، جاپانی اخبار کا دعویٰ

سال 2014ء بٹ کوائن یا بٹ کوئن صارفین کے لئے کچھ خاص اچھا ثابت نہیں ہوا۔ گزشتہ سال اس ورچوئل کرنسی نے کئی زبردست دھچکے برداشت کئے ہیں اور بارہ سو بیالیس ڈالر فی بٹ کوائن سے اس کی قیمت گر کر اب تین سو ڈالر فی بٹ کوئن تک آگئی ہے۔

 

گزشتہ سال کا سب بڑا دھچکہ بٹ کوئن کے سب سے بڑے منی چینجر یا ایکسچینج ایم ٹی گوکس Mt.Gox کا دیوالیہ نکل جانا ثابت ہوا۔ Mt.Gox  جو بنیادی طور پر ایک جاپانی کمپنی ہے، کے مطابق ان کے ساڑھے چھ لاکھ بٹ کوائن چوری کرلئے گئے ہیں۔ ان کے اس دعوے کے وقت ایک بٹ کوئن کی قیمت آٹھ سو ڈالر تھی۔ یعنی چوری ہوجانے والے بٹ کوائنز کی مجموعی مالیت 52 کروڑ امریکی ڈالر تھی۔ Mt.Gox کے مطابق بٹ کوائنز کی اس چوری کے پیچھے بٹ کوئن الگورتھم میں پائی جانے والی ایک خرابی تھی۔ تاہم اب ایک چاپانی اخبار Yomiuri Shimbunنے دعویٰ کیا ہے کہ Mt.Gox نے بٹ کوائن چوری ہوجانے کا جھوٹا اعلان کیا تھا۔ اخبار کے مطابق انہیں صرف ساڑے سات ہزار بٹ کوائنز کی چوری ہوجانے کے قابل بھروسہ ثبوت ملے ہیں۔ جبکہ باقی چھ لاکھ 43 ہزار بٹ کوائنز کے چوری ہوجانے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ Mt.Gox نے خود ہی ان بٹ کوائنز کو غائب کیا ہے یا یہ کمپنی کے اندر سے کسی نے غائب کئے ہیں۔ یاد رہے کہ Mt.Gox پر پہلے بھی اس قسم کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

ایم ٹی گوکسبٹ کوائن