کیا پے پال اکاؤنٹ پاکستان میں رہتے ہوئے بنایا جاسکتا ہے؟

سوال:

کیا پاکستان میں رہتے ہوئے پے پال (PayPal) کا اکائونٹ بنایا جاسکتا ہے؟ اگر کسی طریقے سے اس کا اکائونٹ بنا بھی لیا جائے تو کیا اس میں موجود رقم پاکستان میں حاصل کی جاسکتی ہے؟

جواب:

پے پال دنیا کی مقبول ترین ای کامرس ویب سائٹ ہے جس کے صارفین کی تعداد کروڑوں میں ہے جو سینکڑوں ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں۔بدقسمتی سے پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہیں جہاں پے پال (PayPal) دستیاب نہیں۔ یہ بات خاصی عجیب ہے کہ پے پال تو پاکستان میں کام نہیں کرتا لیکن ای بے (پے پال اسی کمپنی کا ذیلی ادارہ ہے) کو پاکستان میں بخوبی استعمال کیا جاسکتا ہے اور کئی احباب جنہیں کریڈٹ کارڈ / ڈیبٹ کارڈ کی سہولت میسر ہے، ای بے سے اشیاء خرید کر پاکستان منگواتے ہیں۔

پاکستان میں رہتے ہوئے پے پال کا اکائونٹ بنانے کے لئے کوئی قانونی طریقہ موجود نہیں، ہاں ’’دو نمبر‘‘ طریقے کئی ہیں۔ لیکن یہ دونمبر طریقے کبھی نہ کبھی مشکل میں ضرور ڈال دیتے ہیں۔ اگر آپ پے پال کا اکائونٹ بنانا چاہتے ہیں تو بیرون ملک رہنے والے کسی ایسے دوست یا رشتے دار کی مدد حاصل کریں جس کے ملک میں پے پال کام کرتا ہو۔ پے پال کا اکائونٹ بنانے کے لئے بینک اکائونٹ، فون نمبر اور پتے کی تصدیق کی جاتی ہے۔ اگر کسی بھی مرحلے کے دوران تصدیقی عمل پورا نہ ہو تو اکائونٹ پر کئی پابندیاں لگا دی جاتی ہیں۔ ایسے اکائونٹ کو limited اکائونٹس کہا جاتا ہے۔ ان میں سے رقم نکالنا اس وقت تک ممکن نہیں ہوتا جب تک پے پال کے مانگے ہوئے ڈاکیومنٹس فراہم نہ کردیئے جائیں۔

پاکستان میں پے پال کیوں دستیاب نہیں، اس کی کوئی حتمی وجہ معلوم نہیں۔ تاہم بیشتر کا خیال ہے کہ اس کی وجہ حکومت اور اسٹیٹ بینک کے غیر لچکدار رویئے کے علاوہ پاکستانی بینکنگ سسٹم میں پائی جانے والی خامیاں ہیں۔ نیز پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں آن لائن پیمنٹ سسٹمز کو ایک ’’رسک‘‘ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

پاکستان میں پے پال کا اکائونٹ بنانے کا جو (غیر قانونی) طریقہ اختیار کیا جاتا ہے وہ کچھ یوں ہے کہ ایسی آن لائن سروسز جو کہ ورچوئل بینک اکائونٹ فراہم کرتی ہیں، کے ذریعے ایک بینک اکائونٹ کھولا جاتا ہے۔ پاکستان میں Payoneer اس حوالے سے سب سے زیادہ مقبول ہے کیونکہ ان کے ورچوئل بینک اکائونٹ ، ان ہی کے فراہم کردہ ماسٹر ڈیبٹ کارڈ سے منسلک ہوتا ہے۔ ورچوئل بینک اکائونٹ بنانے کے لئے آپ کو کسی قسم کی کاغذی کاروائی نہیں کرنی ہوتی، صرف آپ کے پتے کی تصدیق کی جاتی ہے جو کہ پاکستان کا بھی ہوسکتا ہے۔ پھر اس ورچوئل اکائونٹ کے ذریعے پے پال اکائونٹ کی تصدیق کروائی جاتی ہے۔ چونکہ ورچوئل بینک اکائونٹ امریکہ یا کسی دوسرے پے پال کی سہولت رکھنے والے ملک کا ہوتا ہے، اس لئے پے پال کوئی اعتراض بھی نہیں کرتا۔ البتہ پے پال پر پتا اور فون نمبر جعلی ہی استعمال کیا جاتا ہے تاکہ اکائونٹ کامیابی سے بن جائے۔ اس طرح پے پال کا اکائونٹ استعمال کے قابل ہوجاتا ہے ۔ پے پال کے اکائونٹس میں موجود رقم پاکستانی بینکوں میں براہ راست منتقل نہیں کی جاسکتی اس لئے اس میں موجود رقم Payoneer یا ورچوئل بینک اکائونٹ میں منتقل یا withdraw کروائی جاتی ہے جسے بعد میں ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے کسی بھی اے ٹی ایم سے نکال لیا جاتا ہے۔ لیکن اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ یہ اکائونٹ ہمیشہ کام کرتا رہے گا۔ کسی بھی وقت پے پال کا فراڈ ڈیٹیکشن سسٹم اس اکائونٹ کو limited کرسکتا ہے جس کے بعد جعلی اکائونٹ میں موجود رقم سے آپ کو ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے کیونکہ جعلی پتے اور فون نمبر کی تصدیق نہیں ہو پاتی۔

ہمارے علم میں حال ہی میں کچھ ایسی اطلاعات آئی ہیں ورلڈ بینک کے ایک وفد نے پے پال کے نمائندوں سے ملاقات کی ہے جس میں پے پال اور پاکستان کے معاملات کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ یہ کہنا تو قابل از وقت ہوگا کہ پے پال کب پاکستان میں دستیاب ہوگا، لیکن اس جانب کئی مثبت قدم اٹھائے جارہے ہیں۔

ای بےپےپال