تاریخ کے 5 بہترین ایچ ٹی سی فونز

2,854

ایچ ٹی سی آج بھی میدان میں موجود ہے۔ ہر صنعت کی طرح موبائل انڈسٹری میں بھی عروج اور زوال آتا رہتا ہے، لیکن ایچ ٹی سی سے زیادہ کسی ادارے نے اس کا تجربہ شاید نہیں اٹھایا ہوگا۔ تائیوانی ادارہ نے ہر عروج دیکھا ہے اور ہر زوال کو بھی چکھا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ ایچ ٹی سی نے دنیا کا پہلا اینڈرائیڈ فون پیش کیا، المونیم سے بنے دنیا میں متعارف کروائے اور سخت ترین معاشی دور میں بھی خوب کمایا۔ اب عالم یہ ہے کہ چند سال جس ایچ ٹی سی کو بہت سنجیدہ لیا جاتا تھا، اب وہ پہلے جیسی بات نہیں رہی۔ پھر بھی ایچ ٹی سی کی تاریخ چند شاندار فونز سے بھری پڑی ہے۔ آئیں آپ کو دکھاتے ہیں ایچ ٹی سی کی تاریخ کے بہترین فونز:

5۔ گوگل نیکسس ون – 2010ء


گوگل کافی انتظار کے بعد ہارڈویئر کے میدان میں کودا۔ نیکسس ون کے آنے تک اینڈرائیڈ کا مکمل انحصار اپنے پارٹنرز کی کامیابی پر تھا۔ نیکسس پروگرام 2010ء میں شروع کیا گیا جب ایچ ٹی سی نے ایک گوگل برانڈڈ فون بنانے کے لیے معاہدہ کیا تھا۔ ایپل کا آئی فون 3جی ایس دم توڑ رہا تھا اور آئی فون 4 جاری ہونے والا تھا۔ یہ گوگل کے لیے بہت ضروری تھا کہ وہ اینڈرائیڈ کے لیے مارکیٹ میں مضبوط نمائندگی پیش کرے۔ ایچ ٹی سی نے یہ کام اپنے ذمے لیا اور بخوبی انجام تک پہنچایا۔

نیکسس ون اپنی خصوصیات کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے ڈیزائن کی وجہ سے مشہور ہوا۔ اس کی ہر جگہ دستیابی نے بھی عوام کی توجہ مبذول کروائی۔ اس میں ایک خوبصورت ڈسپلے تھا اور اس کے بٹن میں موجود ٹریک بال مختلف نوٹیفکیشنز کی بنیاد پر مختلف رنگوں میں چمکتا تھا۔ یہ خصوصیات اسے آئی فون سے بھی آگے لے آئی تھیں۔ اس میں 3.7 انچ کا AMOLED ڈسپلے تھا۔ کویلکوم کا اسنیپ ڈریگن ایس1 پروسیسر اور 512 ایم بی کی ریم، 4 جی کی اسٹوریج، 5 میگاپکسل کا کیمرا، 1400 ایم اے ایچ کی بیٹری اور اینڈرائیڈ2.1 اکلیئر آپریٹنگ سسٹم جو بعد میں اپگریڈ ہوکر 2.3.6 جنجربریڈ تک گیا۔

یہ فون گوگل کے مستقبل کے لیے لانچ پیڈ بنا۔ آئندہ چند سالوں میں تقریباً درجن نیکسس ڈیوائسز مارکیٹ میں آئیں۔ گوکہ نیکسس پروگرام اب بند ہو چکا ہے، لیکن گوگل اب بھی اپنی مصنوعات جاری کرتا ہے۔ پکسل فیملی میں فون بھی ہیں اور ٹیبلٹ بھی۔


4۔ ایچ ٹی سی ون (ایم 7) – 2013ء


کوئی بھی ادارہ اہم ترین فون صرف دھات اور شیشے سے نہیں بناتا بلکہ بہت عرصے تک بہت اہم اور مہنگے ترین فون بھی پلاسٹک اور ربڑ کے بنتے رہے۔ ہو سکتا ہے آج یہ سستا مال لگے لیکن تب حالات کچھ ایسے ہی تھے۔ ایپل نے آئی فون4 کے ذریعے اس صورتحال کو بدلا جس میں دھات بھی تھی اور شیشہ بھی۔ ایچ ٹی سی نے پھر المونیم کو پکڑا۔ ایچ ٹی سی ون (ایم7)، جو 2013ء میں آیا مکمل طور پر metal unibody فون تھا۔

ڈیزائن کے معاملے میں ایچ ٹی سی نے ایپل کو بھی مات دے دی تھی کیونکہ آئی فون4 میں انگلیوں کے نشانات اور خراشیں پڑتی تھیں اور یہ ٹوٹ بھی جاتا تھا۔ لیکن ون (ایم 7) بہت زیادہ پائیدار تھا۔

اس فون میں 4.7 انچ کا مکمل ایچ ڈی سپر ایل سی ڈی3 ڈسپلے، کویل کوم اسنیپ ڈریگن 600 پروسیسر اور 2 جی بی ریم، 32 اور 64 جی بی کی اسٹوریج، 4 میگا پکسل کا ریئر اور 2.1 میگا پکسل کا فرنٹ کیمرا تھا۔ اس میں 2300 ایم اے ایچ کی بیٹری تھی اور آپریٹنگ سسٹم تھا اینڈرائیڈ 4.1.2 جیلی بین جو بعد میں اپگریڈ ہوکر 5.0 لالی پاپ تک پہنچا۔

یہی نہیں بلکہ ون (ایم 7) کسی بھی دوسرے اینڈرائیڈ فون سے زیادہ پرکشش تھا۔ تب سام سنگ پلاسٹک استعمال کرتا تھا جبکہ موٹورولا اپنی ڈرائیڈ ڈیوائسز کے لیے کیولار استعمال کرتا تھا۔


3۔ ایچ ٹی سی ڈریم (جی 1) – 2008ء


گوگل نے دس سال پہلے اینڈرائیڈ کا آغاز اپنے فون کے ذریعے نہیں کیا تھا۔ یہ ایچ ٹی سی کا تیار کردہ ڈریم تھا، جسے منتخب مارکیٹوں میں جی1 بھی کہا گیا۔ اینڈرائیڈ موبائل ڈیوائسز پر کام کر سکتا ہے، یہ ثابت کرنے کے لیے ایک ہارڈویئر ساز ادارے کی ضرورت تھی، تائیوانی ادارہ سامنے آیا، ڈریم بنایا اور دنیا کا پہلا ادارہ بنا جو عام صارفین کے لیے اینڈرائیڈ فون لایا۔

اس میں 3.2 انچ کا ٹی ایف ٹی ڈسپلے تھا اور ساتھ ہی کویلکوم کا ایم ایس ایم 7201 اے پروسیسر، 192 ایم بی ریم، 215 ایم بی کی اسٹوریج، 3.15 میگاپکسل کا کیمرا، 1150 ایم اے ایچ کی بیٹری اور اینڈرائیڈ 1.6 ڈونٹ آپریٹنگ سسٹم۔

ویسے نہ 2008ء میں ایچ ٹی سی کو پتہ تھا اور نہ گوگل نے تصور کیا ہوگا کہ اینڈرائیڈ کہاں تک جائے گا۔ ایپل نے ثابت کیا کہ فون کو صرف کال اور میسیج کرنے کے علاوہ بھی دوسرے کاموں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جبکہ گوگل چاہتا تھا کہ ثابت کرے کہ موبائل ڈیوائسز کو انفرادی ضروریات کے مطابق بھی ترتیب دیا جا سکتا ہے۔ ڈریم اینڈرائیڈ مارکیٹ سے ایپس انسٹال کر سکتا تھا، نوٹیفکیشن کی فہرست دکھا سکتا تھا اور سافٹویئراپڈیٹس بھی حاصل کر سکتا تھا۔آج دنیا بھر میں 2 ارب سے زیادہ اینڈرائیڈ ڈیوائسز موجود ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر متحرک رہتی ہیں اور ان سب کا آغاز ہوا ایک فون سے، ایچ ٹی سی کا ڈریم۔


2۔ گوگل پکسل – 2016ء


پکسل برانڈ نے 2016ء میں نیکسس کی جگہ لی۔ لیکن کیوں؟ دراصل موخر الذکر ڈیولپرز اورٹیکنالوجی کے گروؤں کے لیے تھا۔ گوگل چاہتا تھا ایک ایسا فون مارکیٹ میں لائے جو عوام کے لیے پرکشش ہو سکے۔ بلاشبہ وہ اس میں کامیاب ہوا۔ یہ ایچ ٹی سی کے تیار کردہ پکسل اور پکسل ایکس ایل کی وجہ سے گھر گھر مشہور ہوا۔

اس میں5 انچ کی فل ایچ ڈی AMOLED اور 5.5 انچ کی کویڈ ایچ ڈی AMOLED اسکرینیں ہیں، کویلکوم اسنیپ ڈریگن 821 مع 4جی بی ریم، 32 یا 128 جی بی کی اسٹوریج، 12.3 میگاپکسل کا ریئر اور 8 میگا پکسل کا فرنٹ کیمرا، فنگر پرنٹ اسکینر اور اینڈرائيڈ 7.1 جو 8.1 اوریو پر اپگریڈ ہو سکتا ہے۔

اگر آپ بہترین اینڈرائیڈ تجربہ چاہتے ہیں تو یہ پکسل میں ملے گا۔ آپ کو کبھی بھی آؤٹ ڈیٹڈ اینڈرائیڈ نہیں ملے گا کیونکہ ان ڈیوائسز پر سافٹویئر اپڈیٹس کو گوگل خود سنبھالتا ہے۔ پکسل ان چند فونز میں سے ایک ہیں جو کسی بھی ماحول اورکیسی بھی روشنی میں شاندار تصاویر لے سکتا ہے۔ تیزاور ہموار کارکردگی اور زبردست کیمرے کے ساتھ پکسل اپنے اجراء کے وقت بہترین فونز میں سے ایک تھا۔


1۔ ایچ ٹی سی ون (ایم8) – 2014ء


ون (ایم 8) بلاشبہ ایچ ٹی سی کا سب سے بہترین فون ہوگا۔ 2014ء میں جب ایچ ٹی سی نے metal unibody کے ساتھ یہ فون پیش کیا جو بہت خوبصورت تھا۔ شاید ہی کوئی فون دیکھنے میں، اور دو اسٹیریو اسپیکرز کی وجہ سے سننے میں بھی،اتنا اچھا محسوس ہوا ہو۔

اس میں 5 انچ کی فل ایچ ڈی سپر ایل سی ڈی 3 اسکرین تھی، کویلکوم کا اسنیپ ڈریگن 801 مع 2 جی بی ریم، 16 یا 32 جی بی کی انٹرنل اسٹوریج، 4 میگا پکسل کے دو کیمرے، فرنٹ پر 5میگاپکسل کا کا فرنٹ کیمرا وار اینڈرائيڈ 4.4.2 کٹ کیٹ آپریٹنگ سسٹم جو بعد میں 6.0 مارش میلو تک اپگریڈ ہوا۔

ایچ ٹی سی نے پشت پر دو کیمرے لگا کر سب کو حیران کردیا تھا۔ ایک ایسی پیشرفت جو اب عام بات بن چکی ہے، یہ ایک ایسا خطرہ تھا جو ایچ ٹی سی نے مول لیا۔ گو کہ سننے میں 4میگاپکسل سننے میں کم لگتا ہے لیکن یہ بہت متاثر کن تصاویر لیتا تھا۔

اس کی کارکردگی بھی کسی طرح آئی فون سے کم نہ تھی ۔ ایچ ٹی سی ون (ایم 8) بہت تیز تھا کیونکہ اس میں وہ بلاٹویئر اور پہلے سے انسٹال شدہ ایپس نہیں تھی جو دوسرے برانڈز کے فون کے ساتھ آتی تھیں۔ ایچ ٹی سی کا سینس آج بھی صنعت کے بہترین سافٹویئرز میں سے ایک ہے۔ ایچ ٹی سی اپنا رنگ ضرور کرتا ہے لیکن یہ اینڈرائیڈ کی اصل شکل و صورت میں بنیادی طور پر کوئی تبدیلی نہیں لاتا۔

لیکن اس کے بعد آنے والا ایم 9 وہ کامیابیاں نہ حاصل کر سکتا بلکہ 10 تو اپنے اوور ہیٹنگ پروسیسر کی وجہ سے میدان میں قدم ہی نہ جما سکا۔ البتہ 11 ایک عمدہ فون ہے لیکن اس کے لیے ایچ ٹی سی کو جدت کے بجائے پیچھے جاکر قدم جمانا پڑے ہیں۔ امید ہے مستقبل میں ایچ ٹی سی ایک مرتبہ پھر ایک کامیاب فارمولا لے کر میدان میں آئے گا اور یوں اپنے برانڈ کو ایک مرتبہ پھر مستحکم کرے گا۔