مائیکروسافٹ ونڈوز10 میں کلاسک اسٹارٹ مینو حاصل کریں

اسٹارٹ مینو مائیکروسافٹ ونڈوز کی پہچان ہے۔ یہ ونڈوز یوزر انٹرفیس کا اہم ترین جُز ہے۔ ونڈوز کے ابتدائی ورژن سے لیکر آج تک اسٹارٹ مینو ونڈوز کے فیچرز اور نصب پروگراموں تک آسان رسائی فراہم کررہا ہے۔ پہلی بار اسے ونڈوز 95 میں پیش کیا گیا تھا۔ لیکن مائیکروسافٹ اسٹارٹ مینو میں تبدیلیاں کرتا رہا ہے۔ یہ تبدیلیاں عموماً کاسمیٹک (بناوٹ، شکل و صورت) ہوتی تھیں۔ ونڈوز کے ہر نئے ورژن میں اسٹارٹ مینو ایک نئی جہت کے ساتھ سامنے آیا ہے۔

مائیکروسافٹ کی بدقسمتی کہیں یا تجربے کا شوق کہ اس نے ونڈوز8 میں اسٹارٹ مینو کو سرے سے غائب ہی کردیا ۔ تکنیکی اعتبار سے ونڈوز 8 میں بھی اسٹارٹ مینو موجود ہے لیکن یہ ویسا اسٹارٹ مینو نہیں جس سے مائیکروسافٹ ونڈوز کے صارفین ایک زمانے سے آشنا ہیں۔ اس تجربے کا کافی منفی اثر ہوا۔ مائیکروسافٹ کے اس قدم کی کسی نے تعریف نہیں کی۔ ونڈوز 8 پر سخت تنقید ہوئی اور مائیکروسافٹ کو بلاآخر اپنے قدم سے پیچھے ہٹنا پڑا۔
ونڈوز 10 کے اجراء کے ساتھ ہی اسٹارٹ مینو کی بھی واپسی ہوئی ہے۔ لوگ خوش ہیں، لیکن اب بھی اس مینو میں کمی ہے۔ یہ ونڈوز 8 کے اسٹارٹ مینو سے الگ ضرور ہے اور اس میں کلاسک اسٹارٹ مینو کی شباہت بھی موجود ہے۔ مگر یہ ونڈوز سیون یا ونڈوز ایکس پی کے اسٹارٹ مینو سے اب بھی بہت الگ ہے۔

explorer

مائیکروسافٹ ونڈوز 10 میں آپ سیٹنگز میں جاکر اسٹارٹ مینو کی کچھ سیٹنگز تبدیل بھی کرسکتے ہیں مگر رنگ وغیرہ سے زیادہ نہیں۔ بنیادی شکل و صورت ویسی ہی رہتی ہے۔

تحریر جاری ہے۔ یہ بھی پڑھیں

اگر آپ مائیکروسافٹ ونڈوز سیون یا ایکس پی جیسا کلاسک اسٹارٹ مینو ونڈوز 8 یا 10 میں بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لئے ایک تھرڈ پارٹی ٹول استعمال کرنا ہوگا۔
Classic Shell ایسی ہی ایک تھرڈ پارٹی ایپلی کیشن ہے جو بالکل مفت ڈاؤن لوڈنگ کے لئے دستیاب ہے۔ اسے آپ درج ذیل ربط سے ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں:

کلاسک شیل ڈاؤن لوڈ کریں

Classic-Menu

اس کے ذریعے آپ ونڈوز 7 اور اس کے بارے بعد جاری ہونے والی تمام ّونڈوز آپریٹنگ سسٹمز (بشمول سرور آپریٹنگ سسٹم) میں اسٹارٹ مینو میں من چاہی تبدیلیاں کرسکتے ہیں۔ اس کے لئے درجنوں تھیم بھی دستیاب ہیں جن سے اسٹارٹ مینو کو مزید خوبصورت بنایا جاسکتا ہے۔
اس کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعے آپ ونڈوز ایکسپلورر میں بھی کئی تبدیلیاں کرسکتے ہیں۔
(یہ تحریر کمپیوٹنگ شمارہ جولائی 2016 میں شائع ہوئی)

Comments are closed.