متحدہ عرب امارات دبئی کے صحرا میں مریخ کی نقل تیار کررہا ہے

مریخ پر جانے کی چاہت بڑھتی ہی جارہی ہے۔ لیکن فی الحال ہمارے پاس ایسی ٹیکنالوجی موجود نہیں جو ہمیں مریخ پر بحفاظت پہنچا سکے۔مگر ہمیشہ ایسا نہیں رہے گا۔ جس تیزی سے ٹیکنالوجی کو بہتر کیا جارہا ہے، اس کو مدنظر رکھتے ہوئے قوی امکان ہے کہ اگلی چند دہائیوں کے دوران انسان بردار خلائی مشن مریخ تک بحفاظت پہنچنے میں کامیاب ہوجائے گا۔

دنیا کے بیشتر ممالک مریخ پر کمند ڈالنے کے لیے اپنے طور پر تحقیق کررہے ہیں۔ اس میں ایک نام متحدہ عرب امارات کا بھی ہے۔ متحدہ عرب امارات نے دبئی کے قریب ایک صحرا میں مارس سائنس سٹی کے نام سے ایک نیا پروجیکٹ شروع کیا ہے۔ یہ پروجیکٹ متحدہ عرب امارات کی مارس 2117ء اسٹریٹجی کا حصہ ہے جس کا اعلان اسی سال شروع میں کیا گیا تھا۔ اس اسٹریٹجی کے تحت متحدہ عرب امارات اگلے 100 سالوں میں مریخ پر ایک نیا شہر آباد کرے گا۔

مارس سائنس سٹی دراصل ایک ایسا پروجیکٹ ہے جس میں دبئی کے قریب صحرا میں مریخ جیسا ماحول بنایا جائے گا اور اس میں انسانوں کو آباد ہونے میں مشکلات کا جائزہ اور ان کا حل تلاش کیا جائے گا۔ یہ واحد ایسا پروجیکٹ نہیں جس میں زمین پر مریخ جیسا ماحول بنانے کا تجربہ کیا گیا ہو۔ بلکہ دنیا کے کئی ممالک ایسے تجربات کررہے ہیں۔

مریخ پر بحفاظت پہنچنا ہی ایک مسئلہ نہیں۔ مریخ اور زمین کے ماحول میں بہت فرق ہے۔ مریخ پر آکسیجن نہیں، درجہ حرارت انتہائی کم ہے اور انسانوں کے لیے خوراک موجود نہیں۔ سیارہ مریخ کا اپنا مقناطیسی میدان بھی نہیںجس کی وجہ سے سورج کی خطرناک تابکار شعاعیں مریخ کی سطح پر پہنچ جاتی ہیں جو کسی بھی جاندار کے لیے بے حد خطرناک ہیں۔ زمین کا مقناطیسی میدان ان تابکار شعاعوں کو سطح زمین تک پہنچنے نہیں دیتا۔

مارس سائنس سٹی میں سائنسدان مریخ پر دستیاب وسائل سے آکسیجن بنانے، تابکار شعاعوں سے بچنے، انسانوں کے لیے پانی اور خوراک بنانے پر تحقیق کریں گے۔ تاکہ مستقبل میں جب انسان وہاں آباد ہونے کے لیے پہنچیں تو ہر طرح کی مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لیے پہلے سے تیار ہوں۔ متحدہ عرب امارات جولائی 2020ء میں مریخ کے لیے ایک خلائی مشن Hope بھی بھیجے گا جو 2021ء میں مریخ پر پہنچے گا اور مریخ کے ماحول کا مطالعہ کرے گا۔

 

 

Comments are closed.