اب بجلی بنے گی آنسوؤں سے

786

سائنس دانوں نے دریافت کیا ہے کہ ہماری آنکھوں اور جسم کے دیگر حصوں سے خارج ہونے والی رطوبت سے بجلی بنائی جا سکتی ہے۔ یہ ایک پروٹین یعنی لحمیے لائسوزائم (lysozyme) کی وجہ سے ممکن ہے جسے دباؤ میں رکھا جائے تو بجلی پیدا کر سکتا ہے اور موثر انداز میں استعمال کیا جائے تو انسانی جسم میں نصب کیے جانے والے آلات کے لیے توانائی فراہم کر سکتا ہے۔

لائسوزائم آنسوؤں، لعاب، دودھ، بلغم اور انڈے کی سفیدی میں موجود ہوتا ہے۔ یہ ایسا خامرہ (enzyme) ہے جو جراثیمی خلیے کی دیوار توڑنے میں مدد دیتا ہے لیکن آئرلینڈ کی یونیورسٹی آف لائمرک کے سائنس دانوں نے پایا ہے کہ کرسٹلائزڈ شکل میں ہو تو یہ خامرہ برقی چارج بھی پیدا کر سکتا ہے۔

تحقیق کے دوران لائسوزائم کے کرسٹلز کو شیشے کی دو تہوں کے درمیان رکھ کر ان پر دباؤ ڈالا گیا تو پایا گیا کہ خامرے ایک قسم کی توانائی پیدا کر رہے ہیں جسے پیزو الیکٹریسٹی (piezoelectricity) کہتے ہیں۔ اس عمل کے دوران میکانیکی دباؤ کے ردعمل میں برقی چارج پیدا ہوتا ہے۔ پیزو الیکٹریسٹی کوئی نیا نام نہیں، تحقیق میں شامل ایمی اسٹیپل ٹن کہتی ہیں کہ "جیسا کہ پیزو الیکٹریسٹی ہمارے اردگرد استعمال ہوتی رہتی ہے لیکن اس خاص پروٹین کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا پہلے کسی کو علم نہیں تھا۔”

پھر یہ ایک حیاتیاتی مادّہ ہے، جو زہریلا بھی نہیں اس لیے اس کے کئی جدید استعمال ہو سکتے ہیں جیسا کہ جسم میں نصب کیے جانے والے طبّی آلات میں۔

تحقیقی ٹیم کے مطابق لائسوزائم کرسٹلز کی موثریت کوارٹز کرسٹل جتنی ہی ہے جو اپنی پیزوالیکٹرک کارکردگی کی وجہ سے بہت معروف ہیں۔ 19 ویں صدی کے اواخر میں فرانسیسی طبیعیات دانوں پیری اور ژاک کیوری نے کوارٹز کو دریافت کیا تھا اور اب یہ عام پایا جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے آپ کی گھڑی بھی کوارٹز سے چلتی ہو لیکن کوارٹز ایک غیر حیاتیاتی مادّہ ہے۔ اس لیے جسم کے اندرونی حصوں سے مطابقت رکھنے والے مادّے کی دریافت تحقیق کے نئے دروازے کھول رہی ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ کسی پروٹین جیسی سادہ چیز میں یہ صلاحیت دیکھی گئی ہے۔ اگر مستقبل میں اس دریافت کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے تو ٹیم کو پوری امید ہے کہ یہ ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔ اس سے جسم میں دوا چھوڑنے والے نئے آلات بننے کی راہ بھی ہموار ہوگی۔

تو جب اگلی بار آپ کا دل ٹوٹے اور آنکھوں سے آنسو رواں ہو جائیں تو ضائع مت کریں، یہ بہت قیمتی ہیں 🙂