اب موبائل کیمرے سے لیں DSLR تصاویر

2,815

اسمارٹ فونز کے کیمرے بھی کیا عجب شے ہیں۔ گوگل کے پکسل2 جیسے فونز تو بہت ہی شاندار تصاویر لیتے ہیں لیکن آج بھی یہ کیمرے وہ کام نہیں کر سکتے جو بڑے اور فل فریم DSLR کر لیتے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کیمرے نہ جیب میں آ سکتے ہیں اور نہ ہی سستے ہیں۔

شاید یہیں سے WESPE کے خیال نے جنم لیا۔ اگر آپ بھی اپنے فون کی تصاویر سے خوش نہیں تو یہ پروجیکٹ آپ کی تصاویر کو ڈی ایس ایل آر کوالٹی دے سکتا ہے۔

WESPE یعنی Weakly Supervised Photo Enhancer نامی اس منصوبے پر کام کرنے والے سائنس دانوں کا مقصد ہے اسمارٹ فون کیمروں میں ڈی ایس ایل آر جیسا معیار لانا، جس کے لیے وہ مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) رکھنے والا نظام استعمال کر رہے ہیں جس کی تربیت کی گئی ہے۔ اسے ایک ہی جگہ کی فون کیمرے اور ڈی ایس ایل آر سے لی گئی تصاویر دی گئیں۔ یہ ان دونوں کے درمیان فرق کو جانتے ہوئے سیکھ رہا ہے اور اب خود تصاویر کو ایسی صورت دے رہا ہے جس کا ہم تصوّر بھی نہیں کر سکتے۔

یہ بھی پڑھیے: کیمرے میں موجود ایچ ڈی آر کیا ہے اور اسے کیسے استعمال کریں؟

اصل میں یہ پروجیکٹ تصویر دونوں سے کھینچی گئی تصاویر کے معیار میں آنے والے فرق کو سمجھ چکا ہے اور اب اسے خود بہتر بنا رہا ہے۔ ہم اسے فوٹوشاپ کے Automatic Calibration Tools کا اسمارٹ ورژن کہہ سکتے ہیں۔ جو بھی ہے، کمال ہے۔

لیکن ۔۔۔۔ اس اس پروسس کے بعد چند تصاویر تو بہتر ہو جاتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ابھی اس پروجیکٹ پر کافی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ آپ ان کی ویب سائٹ پر موجود تصاویر کو دیکھ کر اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہر تصویر میں فطری نہیں لگتی، بلکہ واضح طور پر پروسس شدہ لگتی۔ یعنی دیکھ کر ہی اندازہ ہو جاتا ہے یہ کہ DSLR سے نہیں لی گئی، بلکہ اسے بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ بیشتر تصاویر میں رنگ زیادہ ہیں اور یہ تصاویر کو کچھ زیادہ ہی شارپ بھی کر رہا ہے۔ یوں ایک مصنوعی صورت ابھرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: رات یا کم روشنی میں فون فوٹوگرافی سے بہتر نتائج حاصل کریں

پھر بھی اسمارٹ فون سے لی گئی بے جان تصاویر کو دیکھنے کے قابل ضرور بنا رہا ہے۔ پھر یہ ڈیپ لرننگ سسٹم ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ خود کو بہتر بھی بناتا رہے گا۔ اس لیے بہتر سے بہترین کی امید تو برقرار ہے۔

اگر آپ اس پروجیکٹ کو آزمانا چاہیں تو ڈیمو مفت دستیاب ہے جہاں آپ اپنی تصاویر اپ لوڈ کر کے اسے آزما سکتے ہیں:

وزٹ کریں