کمپیوٹر نہیں مرغیاں غربت کو ختم کر سکتی ہیں

nextshark.com
1,567

مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس اس وقت دنیا کے امیر ترین انسان ہیں جن کی مالیت 79.4 بلین امریکی ڈالر ہے۔ فرض کریں اگر وہ اتنے امیر نہ ہوتے بلکہ انتہائی غریب ہوتے اور یومیہ صرف دو ڈالر کما رہے ہوتے تو وہ کیا کام کرتے؟

اس سوال کا جواب انھوں نے خود ہی اپنے تازہ ترین بلاگ میں دے دیا ہے۔ بل گیٹس کہتے ہیں کہ اگر وہ یومیہ دو ڈالر کما رہے ہوتے تو مرغیاں پال لیتے۔ ان کے خیال میں مرغیاں پالنا غریبوں کے لیے سب سے منفع بخش کاروبار ہو سکتا ہے۔

بل گیٹس کا کہنا ہے کہ انھوں کے کافی وقت افریقہ کے غریبوں کی مدد کرتے ہوئے گزارا ہے اس لیے وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ غریب ہونے کی صورت میں کیسے حالات کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ وہ کئی غریب خاندانوں سے مل چکے ہیں جو اس کاروبار سے وابستہ ہیں۔

وہ لکھتے ہیں کہ اگر میں غریب ہوتا تو یقیناً مرغیاں پالنے کا کام کرتا ہے۔ کیونکہ اس کے کئی فائدے ہیں۔ مرغیوں کے انڈوں سے چوزے حاصل کر کے مرغیوں کی تعداد بڑھائی جا سکتی ہے اور ان کے انڈے بطور غذا بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

بل گیٹس اس حوالے ایک مثال دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ فرض کریں ایک کسان پانچ مرغیاں پالتا ہے اور اس کے پڑوسی کے پاس ایک مرغا موجود ہے تو صرف تین مہینے میں اس کے پاس چالیس چوزے موجود ہوں گے۔ جبکہ یہی چوزے مرغی بنیں گے تو ان کی قیمت پانچ ڈالر تک ہو سکتی ہے۔ اس طرح سات سو ڈالر سالانہ کمانے والا باآسانی ایک ہزار ڈالر سالانہ کما سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بل گیٹس نے غریب افریقی خاندانوں کی مدد کے لیے انھیں مرغیاں عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت ایک لاکھ مرغیاں غریبوں میں بانٹی جائیں گی تاکہ پولٹری کو وہ اپنا کاروبار بنا کر اپنی کفالت خود کر سکیں۔