بل گیٹس ‘اسمارٹ سٹی’ بسائیں گے

734

دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک اور ٹیکنالوجی و انسان دوستی کی دنیا کے بڑے نام بل گیٹس  نے امریکی ریاست ایریزونا میں 25 ہزار ایکڑ رقبہ خریدا ہے، جہاں وہ مکمل طور پر نیا ‘اسمارٹ سٹی’ بسائیں گے۔

اس جگہ کے مالک بیلمونٹ پارٹنرز اور گیٹس کے سرمایہ کاری ادارے کیسکیڈ انوسٹمنٹ نے 80 ملین ڈالرز کے ذریعے ایسی آبادی بسانے کا عہد کیا ہے جو دفاتر، دکانوں، اسکولوں اور گھروں پر مشتمل ہوگی اور اسے بیلمونٹ کا نام دیا جائے گا۔ 25 ہزار میں سے لگ بھگ 4 ہزار ایکڑ رقبہ دفاتر، کمرشل اور بازاروں کے لیے مخصوص ہوگا، جبکہ 470 ایکڑ اسکولز کے لیے۔ اس نئے شہر میں 80 ہزار مکانات ہوں گے جو تقریباً ایک لاکھ 82 ہزار کی آبادی رکھیں گے۔

بیلمونٹ پارٹنرز کو توقع ہے کہ اس میں مستقبل کے شہر کی تمام خصوصیات ہوں گی جیسا کہ تیز رفتار انٹرنیٹ جو شہر کی بنیادوں میں شامل ہوگا، سیلف ڈرائیونگ کارز یعنی خودکار طور پر چلنے والی گاڑیوں کے لیے نظام بشمول اسمارٹ ٹریفک لائٹس جو رش کو کم کرنے کے لیے باہم رابطے میں ہوں گی۔

یہ تجربہ بعد میں نئے اسمارٹ شہر کے لیے اہم ثابت ہوگا اور مستقبل میں ملک میں بلکہ دنیا بھر میں نئے اسمارٹ شہر بسانے کے لیے مثال بنے گا۔

اس سے قبل بل گیٹس اپنے گھر کو بھی اسمارٹ ہاؤس میں بدل چکے ہیں جس کی تفصیل آپ یہاں پڑھ سکتے ہیں۔

smart-city

بل گیٹس نے 2006ء میں مائیکروسافٹ سے استعفی دے دیا تھا اور اہلیہ میلنڈا کے ساتھ دنیا سے غربت کے خاتمے اور امریکا میں تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے کام کرنا شروع کردیا تھا۔ اس دوران انہیں بہت کچھ سیکھنے کو ملا اور یہیں سے مستقبل کی شہری منصوبہ بندی کے خیال نے جنم لیا۔ ایک ایسا شہر جو محدود وسائل کے ساتھ بھی بڑھتی ہوئی آبادی کو سہارا دے سکے۔

یہ بھی پڑھیے: میں اگر غریب ہوتا تو کس طرح امیر بنتا۔ بل گیٹس

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ 2050ء تک دنیا کی ڈھائی ارب آبادی شہروں میں منتقل ہو جائے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ہجرت صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب تعمیرات، نقل و حمل اور ڈجیٹل کمیونی کیشن اس بوجھ کو برداشت کر سکے۔ لیکن اس وقت دنیا کے بیشتر شہروں میں بنیادی ڈھانچے کی ٹیکنالوجی دہائیوں پرانی ہے۔

اب تک بیلمونٹ شہر کی تعمیر کے حوالے سے نہ کسی تاریخ کا اعلان کیا گیا ہے اور نہ کچھ مزید تفصیلات دی گئی ہیں لیکن ادارے کا کہنا ہے کہ جلد ہی اعلان کردیا جائے گا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ ٹیکنالوجی اس شہر کی ریڑھ کی ہڈی تو ہوگی، لیکن اس کے قیام کا اصل مقصد نہیں۔ اصل توجہ شہر کے ڈیزائن، اس رہنے کے قابل بنانا اور یہاں مقیم افراد کو رہنے، کام کرنے اور زندگی کا لطف اٹھانے کا موقع دینا ہے۔