بٹ کوائن فراڈ ہے لیکن اس کی قیمت ایک لاکھ ڈالر تک پہنچ سکتی ہے

2,334

مالیات کی دنیا کے ایک بڑے نام جے پی مورگن کے باس جیمی ڈیمون کا کہنا ہے کہ بٹ کوائن ایک دھوکا ہے ، جلد ہی اس غبارے میں سے ہوا بھی نکل جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ڈیجیٹل کرنسی منشیات فروشوں، قاتلوں اور شمالی کوریا جیسے ممالک میں رہنے والوں کے لیے بہتر ہے۔ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بٹ کوائن کے زوال سے پہلے اس کی قیمت ایک لاکھ ڈالر فی بٹ کوائن تک بھی پہنچ سکتی ہے۔

نیویارک میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکا کے سب سے بڑے بنک کے باس نے کہا کہ اگر ان کے بنک میں کسی نے بھی بٹ کوائن میں سرمایہ کاری کی تو وہ اسے نوکری سے ہٹانے میں ایک لمحہ کی تاخیر نہیں کریں گے۔ اُنہوں نےا س کی دووجوہات بتائیں کہ ایک تو یہ اُن کے اصولوں کے خلاف ہے اور دوسرا ایسا کرنے والے بے وقوف ہیں اور دونوں ہی خطرے میں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ کرنسی اب مزید نہیں چلے گی۔ انہوں نے بتایا کہ آپ کوئی ایسا کاروبار نہیں کرسکتے جو ہوا میں کرنسی بناتا ہو اور پھر سوچے کہ جو لوگ اسے خرید رہے ہیں وہ ذہین ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ وینزویلا یا ایکواڈور یا شمالی کوریا یا انہی جیسے علاقوں میں رہتے ہیں اور اگر آپ منشیات فروش یا قاتل یا اسی طرح کا کام کرتے ہیں توبہتر ہے کہ امریکی ڈالر کی بجائے بٹ کوائن میں کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورت میں اس کی مارکیٹ بھی ہوگی، جو خاصی محدود ہوگی۔

بٹ کوائن ایک مجازی کرنسی ہے جو معاشی بحرانوں کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس کرنسی میں لوگ بنک اور ادائیگی کے روایتی طریقوں کو بائی پاس کرتے ہوئے اشیاء یا خدمات کے لیے ادائیگی کرتے ہیں۔ بٹ کوائن کے منی لانڈرنگ اور آن لائن جرائم کے جڑنے سے بنک اور دوسرے مالیاتی اداروں کے اس پر شدید تحفظات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی ملک نے آج تک باقاعدہ طور پر اس کرنسی کو نہیں اپنایا۔

پچھلے دسمبر سے اس کرنسی کی قدر میں چار گنا سے بھی زیادہ اضافہ ہو کر اس کی قدر 4700ڈالر سے بھی زیادہ ہوگئی تھی۔جیمی ڈیمون کے تبصرے کے بعد اس کی مالیت میں مزید 5 فیصد کمی واقع ہو گئی ہے۔ اس وقت اس کی مالیت 4000 ڈالر سے بھی کم ہے۔