ایس ایم ایس کے ذریعے تنگ کرنے والوں کو مستقل طور پر بلاک کریں

674

آج کل ہر چیز کی مارکیٹنگ زوروں ہے۔ ایس ایم ایس مارکیٹنگ کی بات کی جائے تو اس پر تو کچھ زیادہ ہی زور نظر آتا ہے۔ تقریباً ہر فون رکھنے والے کو دن بھر کہیں نہ کہیں سے تشہیری ایس ایم ایس آتے ہی رہتے ہیں۔ فالتو ایس ایم ایس بھیجنے میں موبائل نیٹ ورک کمپنیز خود کسی سے پیچھے نہیں، دن بھر ان کے اپنے تشہیری ایس ایم ایس ناک میں دَم کر دیتے ہیں۔

ان ایس ایم ایس سے جان چھڑانے کے کئی طریقے موجود ہیں۔ موبائل نیٹ ورک کے اپنے تشہیری ایس ایم ایس بند کرنے کے لیے آپ اُن کی ہیلپ لائن پر بات کر کے کہہ سکتے ہیں کہ آپ کو ایسے ایس ایم ایس نہ بھیجے جائیں تو وہ آپ کے نمبر پر آیندہ کم سے کم ایس ایم ایس کریں گے۔

دیگر فالتو ایس ایم ایس کو بلاک کرنے کے لیے اینڈروئیڈ اور آئی او ایس دونوں میں پہلے سے بندوبست موجود ہوتا ہے۔ جس ایس ایم ایس بھیجنے والے کو آپ بلاک کرنا چاہیں اینڈروئیڈ میں اس پر ٹچ کر کے رکھیں تو ایک مینو ظاہر ہو جائے گا جس میں اس نمبر کو Register spam number کرنے کا آپشن موجود ہو گا۔ اگر آپ کسی نمبر کو اسپیم کے طور پر منتخب کر لیں تو آیندہ اس کے ایس ایم ایس آپ کو تنگ نہیں کریں گے۔

Block-sms-sender
اسی طرح کا آپشن آئی فون میں بھی موجود ہوتا ہے۔ جس میسج بھیجنے والے کو آپ خاموش کرنا چاہیں اس کا میسج کھول کر اوپر موجود Details کے بٹن پر کلک کریں۔ اگلی اسکرین پر Do Not Disturb کا آپشن موجود ہو گا جسے آپ فعال کر کے ان پیغامات سے جان چُھڑا سکتے ہیں۔

آئی فون میں کسی نمبر کو مکمل طور پر بلاک کرنے کا آپشن موجود ہوتا ہے۔ اس کے لیے اسی طرح نمبر کے ساتھ موجود ڈیٹیلز کے آئی کن پر کلک کریں۔ ڈیٹیلز کا حصہ کھل جائے تو سب سے آخر میں دیکھیں Block this Caller کا آپشن موجود ہو گا۔ اس طرح یہ نمبر بلاک ہو جائے گا اور آیندہ ایس ایم ایس تو کیا کال بھی نہیں کر پائے گا۔

Block-sms-sender3

اگر بعد میں کبھی آپ کسی نمبر کو اَن بلاک کرنا چاہیں یا تمام بلاک کیے گئے نمبرز دیکھنا چاہیں تو آئی فون کی سیٹنگز میں آجائیں۔ سیٹنگز میں آنے کے بعد فون کے آپشن میں آئیں جہاں Blockedکا آپشن موجود ہو گا۔ اس پر کلک کریں تو تمام بلاک نمبرز موجود ہوں گے جنھیں یہاں سے اَن بلاک بھی کیا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ اگر آپ چاہیں تو ایپ اسٹور سے ایس ایم ایس بلاکر ایپلی کیشن بھی انسٹال کر سکتے ہیں۔
(یہ تحریر کمپیوٹنگ شمارہ مارچ 2016 میں شائع ہوئی)