وٹس ایپ ویب… وٹس ایپ کو کمپیوٹر پر استعمال کریں

1,162

آپ آئی فون پسند کرتے ہوں، اینڈروئیڈ، بلیک بیری یا ونڈوز فون… اس میں وٹس ایپ کا ہونا بہت ہی ضروری ہے۔ وٹس ایپ کی جانب سے پیش کیے گئے اعدادو شمار کے مطابق دنیا بھر میں اس کے 900 ملین فعال صارفین موجود ہیں۔ اکثر لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ وٹس ایپ کمپیوٹر پر بھی استعمال کر سکیں۔ اس لیے وٹس ایپ نے خود ہی اس کا طریقہ کار فراہم کر دیا ہے۔ وٹس ایپ کو اس کی ویب سائٹ پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے لیے وٹس ایپ آپ کے اسمارٹ فون پر بھی انسٹال ہونا چاہیے۔ اس طرح دونوں طرف چیٹس ایپ ڈیٹ ہوتی رہیں گی۔ اس کے علاوہ یہ سہولت صرف کروم براؤزر میں حاصل کی جا سکتی ہے۔
اگر آپ وٹس ایپ کو کروم براؤزر میں استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں تو سب سے پہلے اپنے فون میں موجود وٹس ایپ کو اپ گریڈ کر لیں، کیونکہ یہ فیچر نئے ورژن میں فراہم کیا گیا ہے۔

WhatsApp_Web_2
وٹس ایپ کو اپ گریڈ کرنے کے بعد فون پر چلائیں۔ مینو کھولیں تو یہاں WhatsApp Web موجود ہونا چاہیے۔ جس کا مطلب ہے کہ آپ اس فیچر کو استعمال کر سکتے ہیں۔
اب وٹس ایپ ویب کو اپنے کمپیوٹر پر کروم براؤزر میں کھول لیں۔
web.whatsapp.com

Whatsapp-web-01
یاد رہے کہ اس میں آپریٹنگ سسٹم کی کوئی قید نہیں۔ ونڈوز، لینکس، میک یا کروم او ایس پر اس فیچر کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اس ویب سائٹ کو کھولیں تو یہاں QR کوڈ موجود ہو گا۔ دراصل آپ کو اپنے فون سے اس کوڈ کو اسکین کرنا ہو گا، تاکہ اس بات کی تصدیق ہو سکے کہ آپ اپنا ہی وٹس ایپ اکاؤنٹ استعمال کر رہے ہیں۔

WhatsApp_Web_3
اس کوڈ کو اسکین کرنے کے لیے کوئی ایپلی کیشن درکار نہیں، بس اپنے وٹس ایپ کے مینو میں موجود WhatsApp Web پر کلک کریں، QR کوڈ اسکینر آجائے گا۔ اس کی مدد سے کمپیوٹر پر کھولی گئی ویب سائٹ میں دکھایا گیا کیوآر کوڈ اسکین کریں۔ یہ فوراً ہی آپ کے فون میں موجود وٹس ایپ کو کروم براؤزر میں کھول دے گا۔
یہاں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ آپ کی تمام تر چیٹ ہسٹری اور دوست موجود ہیں، جن سے آپ اب کمپیوٹر کے ذریعے بھی چیٹ کر سکتے ہیں۔
یہاں یہ بات یاد رہے کہ اس فیچر کو استعمال کرنے کے لیے فون اور کمپیوٹر دونوں پر انٹرنیٹ کا چل رہا ہونا ضروری ہے۔ اگر فون پر نیٹ نہ چل رہا ہو تو یہ وٹس ایپ ویب کام نہیں کرے گا۔
ویب ورژن کے ذریعے وٹس ایپ پر موصول ہونے والے نئے پیغامات کے الرٹس بھی کمپیوٹر پر حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
(یہ تحریر کمپیوٹنگ شمارہ فروری 2015 میں شائع ہوئی)