انٹل کا نیا ’’آل ان ون ‘‘پی سی

357

intelx296کمپیوٹر چپس بنانے والی مشہور کمپنی انٹل نے ایک ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر پیش کیا ہے جس کی ٹچ اسکرین بالکل منفرد اور اسکرین کا سائز حیرت انگیز طور پر 27 انچ ہے اور اس کی بیٹری 4 گھنٹے تک اس کمپیوٹر کو چلا سکتی ہے۔ اسے ایک بڑا ٹیبلٹ کہا جاسکتا ہے۔ انٹل کے اس نئے سسٹم کی پروٹو ٹائپ کی ڈسپلے کی ریزولیشن ہائی ڈیفی نیشن یعنی 1080p ہے۔ یہ ڈسپلے 2.5 انچ موٹا ہے جس میں پروسیسر کے علاوہ تمام کمپیوٹر کے لوازمات بمع دو بڑی فلیٹ بیٹریاں بھی ہیں۔ ڈیسک ٹاپ کے طور پر استعمال کرنے کے لیے اسے ایک ڈوک (dock) پر رکھ سکتے ہیں جہاں سے یہ چارج بھی ہوتا ہے اور اسے کی بورڈ اور ماؤس سے جوڑا جا سکتا ہے ۔ اسی میں ایک ڈی وی ڈی ڈرائیو اور دوسری پورٹس بھی لگی ہوتی ہے۔اسکے علاوہ گرافکس پروسیسر کی مدد سے اس کی کارکردگی بہت شاندار ہو جاتی ہے۔ٹچ ڈسپلے کوڈوک پر اورڈوک کے بغیر دونوں صورتوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

انٹل میں کام کرنے والی ارنیسٹو مارٹینیز نے کمپنی کی سالانہ ٹیکنالوجی کانفرس میں جو کہ سان فرانسسکو میں منعقد ہوئی، کے ایک سیشن میں اس سسٹم کو پیش کیا۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ انٹل اپنے وسائل اس کے مزید پروٹو ٹائپ تیار کرنے پر صرف کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے کمپیوٹر ساز اداروں سے بھی اشتراک کر رہا ہے جس سے اس طرح کے کمپیوٹر گھریلو اور کاروباری صارفین میں مقبولیت حاصل کریں گے۔

اس نئے سسٹم میں مائیکرو سافٹ کا آنے والا آپریٹنگ سسٹم ونڈوز 8 کا پری ویویو ورژن انسٹال کیا گیا ہے جسے ٹچ اسکرین اور کی بورڈ اور ماؤس سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔مارٹینیز نے مزید بتایا کہ اسے آواز اور بازو یا ہاتھ کی حرکات سے بھی کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ ایک دوسرے سیشن میں اینٹل نے آواز سے کنٹرول ہونے  والے سسٹم سے متعارف کرایا جو کہ لیپ ٹاپ کے لیے بنائے گئے تھے۔ اس میںNuance کی آواز کی شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔ یہی ٹیکنالوجی اپیل کے Siri میں بھی استعمال کی گئی ہے۔ اس کے اگلے پروٹو ٹائپ میں یہ خصوصیت بھی ہو گی کہ تھری ڈی کیمرے کی مدد سے اسے جسمانی حرکات سے کنٹرول کیا جا سکے بالکل اسی طرح جس طرح پچھلے سال کنزیومر الیکٹرونکس شو میں جو لاس ویگاس میں ہوا تھا لیپ ٹاپ کنٹرول کئے گئے تھے۔

انٹل کے انجینئر کی پہلی ترجیح یہ ہے کہ کسی طرح اس ’’آل ان ون‘‘ کمپیوٹر کو مزید ہلکا کیا جائے۔ اس کے لیے انٹل اسکرین اور بیٹری بنانے والی کمپنیوں کے ساتھ مل کر انہیں بہتر بنانے کے لئے کام کررہا ہے۔  موجودہ پروٹوٹاپ کے وزن کا ایک تہائی وزن اسکرین  کی وجہ سے ہے۔ اسکرین کے اپنے وزن کا بڑا حصہ گلاس پینل کی وجہ سے ہے جو دو ملی میٹر تک موٹا ہے۔ اگرچہ یہ وزن بڑھانے کا سبب تو ہے لیکن اس کی وجہ سے اسکرین کسی iPADیا دوسرے اسمارٹ فون جیسی خوبصورت نظر آتی ہے۔ مستقبل میں اس کی ریزولوشن کو ’’4K‘‘ میں بدل دیا جائے گا جو کہ موجودہ ہائی ڈیفی نیشن سے چار گنا بہتر ہے۔

انٹل اس وقت تمام کمپنیوں کی حوصلہ افزائی اور مدد کر رہا ہے کہ اس نئے ڈیسک ٹاپ سسٹم کے لیے ایپلی کیشنز تیار کی جائیں۔انٹل کی نمائندہ نے مزید بتایا کہ وہ اس وقت  ایسی ایپلی کیشنز کی تیاری کی کوششوں میں ہیں جس سے بہت سے صارف ایک سسٹم پر کام کر سکیں نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ کاروباری صارفین بھی۔ اس کے لیے انٹل اپنے پارٹنرز کے ساتھ تحقیق میں مصروف ہے۔

اینٹل اس سسٹم کا ایک اور ورژن بھی تیار کر رہا ہے جس میں پراسیسنگ کا تمام کام ڈوک اسٹیشن پر ہو گا اور ڈسپلے کو وائی فائی لنک کی مدد سے ڈوک سے جوڑ دیا جائے گا۔ اس طرح سسٹم کا وزن بھی کافی کم ہو نے کے ساتھ ساتھ یہ مزید پورٹیبل ہو جائے گا۔مختلف تجربات کے بعد اس بات کی کوشش کی جائے گی کہ اس کے وائی فائی کا دائرہ عمل پچاس فٹ تک ہواور اس کے سگنل کے لئے دیواریں بھی کوئی مسئلہ نہ کریں۔ یہ موجودہ روایتی امریکی گھروں کے لئے کافی ہے۔

اس وقت موجودہ ’’آل اِن ون‘‘ کمپیوٹروں پر ایپل کے پرستاروں کا یہ اعتراض رہا ہے کہ یہ سب ایپل کے iMac کمپیوٹروں سے متاثر ہو کر بنائے گئے ہیں لیکن تاحال اس طرح کی کوئی خبر نہیں کہ ایپل اپنے iMac میں ٹچ، آواز اور حرکات سے کنڑول ہونے کو اپنے کمپیوٹروں میں استعمال کر نے کا ارادہ رکھتا ہے نہ ہی اپیل ایسا کمپیوٹر بنا رہا ہے جسے اسکرین سے الگ کیا جا سکے۔ انٹل کی لنڈا گرنڈ اسٹاف کا کہنا ہے کہ موجودہ ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر صرف ایک سیاہ یا بھورے صندوق کی شکل میں ہوتے ہیں اور زیادہ تر ڈیسک کے نیچے رکھے جاتے ہیں، جب کہ یہ نئے آل ان ون سسٹم روایتی کمپیوٹروں سے بالکل مختلف ہیں اور لوگوں کے کمپیوٹر استعمال کرنے کے طریقہ کار کو بالکل بدل کر رکھ دیں گے۔ اس نئے آل ان ون سسٹم کی مدد سے گھریلو صارفین اسکرین کو الگ کر کے گیم کھیل سکیں گے، اپنے دوستوں عزیزوں اور رشتے سے چیٹ کر سکیں گے، فوٹو شیئرنگ اور بھی آسان ہو گی۔  کاروباری صارفین کے لیے بھی اس کے کم فوائد نہیں ہیں۔ صرف ایک بڑی اسکرین سے ہی وہ اپنے تمام کاروباری امور سر انجام دے سکیں گے۔ اس کی مدد سے ہائی کوالٹی ویڈیو کانفرنس بھی آسانی سے ممکن ہو گی۔ لیکن اس کمپیوٹر کو عام کرنا انٹل کے لئے ایک چیلنج ہوگا کیونکہ اس طرح کے کمپیوٹر بنانے والی دیگر کمپنیوں ابھی تعداد میں کم ہیں اور فی الوقت دنیا بھر کی کمپنیاں کمپیوٹر ٹیبلٹس اور اسمارٹ فونز میں دلچسپی رکھے ہوئے ہیں۔