اینڈروئیڈ فون کی ورانٹی پر اثرانداز ہوئے بغیر اسے روٹ کریں

1,313

اینڈروئیڈ کے تمام فیچرز تک رسائی حاصل کرنے کے لیے اسے روٹ (Root) کیا جاتا ہے۔ روٹنگ کے بعد اینڈروئیڈ پر کئی اضافی فیچرز حاصل ہو جاتے ہیں اور صارف خود اینڈروئیڈ میں بڑی سے بڑی تبدیلی کر سکتا مثلاً اینڈروئیڈ کا تازہ ترین ورژن بھی خود انسٹال کر سکتا ہے۔

جانیے روٹ یا جیل بریک کیا ہے

تاہم یہ بات یاد رکھیں کہ اینڈروئیڈ ڈیوائس کو روٹ کرنا اس کی ورانٹی کو ختم کر سکتا ہے اور فون کی رفتار بڑھنے کے بجائے کم بھی ہو سکتی ہے۔ بہرحال اگر آپ اینڈروئیڈ کو روٹ کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو اس حوالے سے کئی پروگرامز مفت دستیاب ہیں جن میں سے ’’آئی روٹ‘‘ (iRoot) کو سب سے زیادہ قابلِ بھروسا مانا جاتا ہے۔

آئی روٹ اس حوالے سے بھی ہماری اوّلین ترجیح ہے کیونکہ یہ فون کی ورانٹی کو قائم رکھتے ہوئے فون کو روٹ کر سکتا ہے اور یہ کام انجام دینے والا یہ اس وقت واحد پروگرام ہے۔

اگر آپ آئی روٹ کے ذریعے اپنے اینڈروئیڈ فون کو روٹ کرنا چاہتے ہیں اور فون کی ورانٹی بھی قائم رکھنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے آئی روٹ کا ڈیسک ٹاپ ورژن استعمال کریں کیونکہ یہ ایپلی کیشن کی صورت میں بھی دستیاب ہے۔ اس کا ڈیسک ٹاپ ورژن درج ذیل ربط سے ڈاؤن لوڈ کر لیں:

www.iroot.com

اس پروگرام کو انسٹال کرنے کے بعد یو ایس بی کیبل کے ذریعے اپنے فون کو کمپیوٹر سے منسلک کر لیں۔ روٹنگ کے آغاز سے قبل ایک انتہائی اہم کام ضرور کر لیں اور وہ ہے اپنے مکمل ڈیٹا کا بیک اپ۔

مکمل فون کا بیک اپ کرنے کے لیے آپ ’’سِنک ڈروئیڈ‘‘ کا استعمال کر سکتے ہیں۔ اس پروگرام کا مکمل احوال اس ربط پر ملاحظہ کریں:
www.computing.com.pk/?p=3260

اگر آپ سام سنگ کا فون رکھتے ہیں تو بیک اپ کے لیے سام سنگ کا اپنا پروگرام ’’کائیز‘‘ بھی استعمال کر سکتے ہیں، جس کی تفصیل یہاں موجود ہے:
www.computing.com.pk/?p=4364

اسی طرح اگر آپ ایچ ٹی سی کا فون استعمال کرتے ہیں تو HTC کا پروگرام بھی درج ذیل ربط سے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں:
htc.com/us/software/htc-sync-manager

دراصل روٹنگ کے عمل میں آپ کے فون کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے اس لیے آپ کے قیمتی ڈیٹا کا بیک اپ ہونا انتہائی ضروری ہے۔

روٹنگ کے عمل کا آغاز کرنے کے لیے فون پر USB debugging کا فعال ہونا بھی ضروری ہے۔ یہ آپشن سیٹنگز میں ڈیویلپر آپشنز کے اندر موجود ہوتا ہے۔ ڈیویلپر آپشنز بذاتِ خود پہلے سے فعال نہیں ہوتے اور سیٹنگز میں نظر نہیں آتے۔ انھیں سامنے لانے کے لیے About phone کے حصے میں جا کر فون کے build number پر کئی دفعہ ٹچ کرتے رہیں یہ آپشنز فعال ہو جائیں گے۔ اب آپ اس کے اندر جا کر یو ایس بی ڈی بگنگ کو بھی فعال کر سکتے ہیں۔

iroot-01

اب فون کو یو ایس بی کیبل کے ذریعے کمپیوٹر سے کنیکٹ رکھتے ہوئے آئی روٹ پروگرام کو چلا دیں۔ آئی روٹ اور فون کا رابطہ قائم کرنے کے لیے سامنے موجود Connect کے بٹن پر کلک کر دیں۔

iroot-02

آئی روٹ فوراً آپ کے فون سے رابطہ کرنے کا کام شروع کر دے گا۔
فون کو پہچاننے کے بعد آئی روٹ اسے روٹ کرنے کے لیے تیار ہو گا۔ کام کے آغاز کے لیے آپ Root کے بٹن پر کلک کر سکتے ہیں۔

iroot-03
اس کے بعد آپ کو چند منٹس کے لیے انتظار کرنا ہو گا تاکہ پروگرام یہ کام مکمل کر سکے۔
روٹنگ کا عمل مکمل ہوتے ہی آپ کو اس کی نوید سنا دی جائے گی کہ کام مکمل ہو چکا ہے یعنی آپ کا فون اب روٹ ہو گیا ہے۔

iroot-04

اس مضمون سے آپ اندازا لگا سکتے ہیں کہ اینڈروئیڈ ڈیوائس کو روٹ کرنے کا یہ سب سے آسان طریقہ ہے۔ اگر آپ چاہیں تو آئی روٹ کی ایپلی کیشن استعمال کرتے ہوئے بھی فون کو بغیر کمپیوٹر کے بھی روٹ کر سکتے ہیں لیکن یہ یاد رکھیں کہ ماہرین ہمیشہ بذریعہ کمپیوٹر اس عمل کو انجام دینا پسند کرتے ہیں۔

ایپلی کیشن یہاں سے حاصل کریں:

http://www.iroot.com/iroot-apk

اینڈروئیڈ کے روٹ ہو جانے کے بعد اس بات کی تصدیق بھی ضروری ہے کہ آیا واقعی میں فون روٹ ہو چکا ہے یا نہیں۔ اس کے لیے آپ دیکھیں تو فون میں ایک نئی ایپلی کیشن SuperUser کے نام سے موجود ہو گی۔ اس کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ فون روٹ ہو چکا ہے۔

اس کے علاوہ اگر آپ گوگل پلے اسٹور سے Root Status (root checker) ایپلی کیشن انسٹال کر کے بھی اس امر کی تصدیق کر سکتے ہیں۔
rootstatus

فرض کریں فون کو روٹ کرنے کے بعد آپ کا ارادہ بدل جاتا ہے اور آپ اسے واپس Un root حالت میں لانا چاہیں تو اس کے لیے کمپیوٹنگ اگست کے شمارے میں ٹپ ’’روٹ کیے ہوئے اینڈروئیڈ فون کو باآسانی واپس اَن روٹ حالت میں لائیں‘‘پڑھنا مت بھولیں۔

اس ٹپ میں تفصیلاً بتایا گیا ہے کہ کس طرح آپ SuperSU یا Kingoroot پروگرام کو استعمال کرتے ہوئے اینڈروئیڈ ڈیوائس کو واپس اَن روٹ حالت میں لا سکتے ہیں۔-

یہ تحریر کمپیوٹنگ شمارہ نمبر 122 میں شائع ہوئی