شمالی کوریا، رقوم کی چوری کے لیے فوج

848

محض ایک چھوٹی سی غلطی شمالی کوریا کے ہیکروں کی راہ میں رکاوٹ بن گئی جب گزشتہ سال انہوں نے امریکی فیڈرل ریزرو سسٹم سے ایک ارب ڈالر چوری کرنے کی کوشش کی تاہم آخر کار وہ خالی ہاتھ نہیں لوٹے اور 81 ملین ڈالر کی رقم لے اڑے۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق شمالی کوریا کی الیکٹرانک فوج میں 6 ہزار سے زیادہ "ہیکر” شامل ہیں جن کی نظریں رازوں پر نہیں بلکہ پیسوں پر ہوتی ہیں۔

اخبار کے مطابق جب ساری دنیا کی نظریں شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام پر مرکوز تھیں اس وقت شمالی کوریا کی یہ "الیکٹرانک فوج” کروڑوں امریکی ڈالر کی ہیکنگ میں مصروف تھی۔

مغربی تجزیہ کاروں کے مطابق "پیانگ یانگ جیسے کٹے ہوئے ملک کے لیے ہیکنگ ایک مثالی ہتھیار ہے کیونکہ کوئی بھی ملک الیکٹرانک حملوں کے جواب میں عسکری حملے نہیں کرے گا جو پیانگ یانگ کی قیادت کے لیے تسلی بخش بات ہے”۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جہاں ہیکنگ ترقی یافتہ ممالک کے بنیادی ڈھانچے کو خطرے میں ڈالتی ہے وہیں یہ آمدنی کا بہترین ذریعہ بھی ہے، یہ کہا جاسکتا ہے کہ شمالی کوریا کرہ ارض کا سب سے کامیاب ہیکنگ پروگرام چلا رہا ہے، یہ اس لیے نہیں کہ یہ پروگرام انتہائی ترقی یافتہ ہے بلکہ اس لیے کہ اس پروگرام نے اپنے اہداف کم سےکم خرچ پر حاصل کیے ہیں۔

انٹیلی جینس رپورٹوں کے مطابق "انٹرنیٹ کی جنگ” سے شمالی کوریا کو سالانہ کروڑوں ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی کے میدان میں شمالی کوریا کے ایران کے ساتھ خصوصی مراسم ہیں اور ایران نے شمالی کوریا کو "اہم چیزیں” سکھائی ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ جون میں برطانوی پارلیمنٹ سمیت برطانوی وزیرِ اعظم ٹیریزا مے 12 گھنٹوں پر محیط ہیکنگ حملوں کا شکار ہوئے جس کے دوران 90 ای میل اکاؤنٹس کو نشانہ بنایا گیا، شروع میں روس پر شک کیا گیا تاہم بعد میں برطانوی انٹیلی جینس رپورٹ میں بتایا گیا کہ دراصل یہ حملہ ایران نے کیا تھا۔