زیر سمندر فائبر آپٹک کیبل کٹنے سے پاکستان بھر میں انٹرنیٹ متاثر

map_2

 

 

زیر سمندر فائبر آپٹک کیبل SEA-ME-WE 4 میں فنی خرابی کی وجہ سے پاکستان سمیت دیگر کئی ممالک میں انٹرنیٹ شدید سست رفتار ہوگیا ہے۔ اس فائبر آپٹک کیبل کو سولہ ممالک کی ٹیلی کمیونیشن کمپنیز کے ایک کنسورشیم نے 27 مارچ 2004ء کو تشکیل دینے کا معاہدہ کیا تھا۔ پاکستان کی جانب سے اس کنسورشیم میں PTCL شامل ہے۔ اس پروجیکٹ کی تکمیل 13 دسمبر 2005ء کو ہوئی۔ پاکستان، بھارت، سری لنکا، تھائی لینڈ، بنگلہ دیش، سنگاپور،متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، اٹلی، فرانس، تیونس اور الجیریا کے مابین ہونے والی ہر قسم کی ڈیجٹیل کمیونی کیشن میں اہم کردار ہے۔ اس کیبل کی طوالت 18800 کلو میٹر کے لگ بھگ ہے اور یہ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا کو یورپ سے جوڑنے والی مرکزی انٹرنیٹ بیک بون ہے۔ اس کیبل کو بچھانے کا بنیادی مقصد ایک دوسری زیر سمندر فائبر آپٹک کیبل SEA-WE-ME 3 کا متبادل تیار کرنا تھا۔ اس کیبل میں فنی خرابیاں اکثر واقع ہوتی رہتی ہیں جس کی وجہ سے اس کیبل پر انحصار کرنے والے ممالک میں انٹرنیٹ ٹریفک دیگر ذرائع جیسے SEA-WE-ME 3 وغیرہ پر منتقل کرنا پڑتا ہے۔ چونکہ SEA-WE-ME 3 کی گنجائش صرف 0.96 ٹیرا بٹس فی سیکنڈ ہے اس لئے انٹرنیٹ سمیت دیگر ٹیلی کمیونیشن سروسز کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ SEA-ME-WE 4 کی کپیسٹی 1.28 ٹیرا بٹس فی سیکنڈ ہے۔

اپ ڈیٹ: SEA-ME-WE4 ریپئر کردی گئی ہے۔

تبصرے
لوڈنگ۔۔۔۔