جیل بریک کیا ہے؟

608

jailbreakبہت سی ڈیوائسس جیسے ایپل آئی فون وغیرہ ڈیجیٹل رائٹس منیجمنٹ (DRM) سافٹ ویئر کے ساتھ آتی ہیں۔ اس سافٹ ویئر کا مقصد ڈیوائس کی سیکیوریٹی میں اضافہ یا پھر صارف کو کمپنی کی جانب سے غیر تصدیق شدہ سافٹ ویئر انسٹال کرنے سے روکنا ہے۔ جیل بریکنگ یا ڈیوائسس ہیکنگ دراصل ڈیوائس کے ہارڈو یئر یا سافٹ ویئر میں موجود خامیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، اس کے آپریٹنگ سسٹم کا روٹ ایکسس (Root Access) حاصل کرنے کا نام ہے۔ لینکس اور یونکس سے واقف قارئین ضرور جانتے ہونگے کہ روٹ ایکسس حاصل ہوجانے کے بعد آپریٹنگ سسٹم کو ہر طرح سے اپنا تابع کیا جاسکتا ہے۔ ڈیوائس کا روٹ ایکسس حاصل ہونے کے بعد اس پر DRM کی لگائی ہوئی پابندیوں کو ختم کردیا جاتا ہے اور غیر قانونی یا غیر تصدیق شدہ سافٹ ویئر بھی ایسی ڈیوائسس پر آسانی سے انسٹال کئے جاسکتے ہیں۔ ساتھ ہی ڈیوائس کے آپریٹنگ سسٹم کے ساتھ بھی چھیڑ چھاڑ کرکے اسے اپنی منشاء کے مطابق چلایا جاسکتا ہے۔
لفظ جیل بریک (Jailbreak) آئی فون کے ہیکرز نے متعارف کروایا تھا۔ اس لئے جب بھی کہیں جیل بریک کا ذکر آتا ہے، پہلا خیال ایپل آئی فون کا ہی ذہن میں آتا ہے جسے ایپل آئی ٹیون کی جیل سے آزاد کروانا ہی جیل بریکنگ ہے۔ جولائی 2007 ء میں جب پہلی بار آئی فون متعارف کروایا گیا تھا، اس کے چند روز بعد ہی اسے جیل بریک کرنے کے لئے سافٹ ویئر بھی جاری کردیا گیا تھا۔ اس لئے آپ کہہ سکتے ہیں کہ جیل بریکنگ اور آئی فون کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ لیکن جیل بریکنگ صرف آئی فونز تک محدود نہیں بلکہ آئی پیڈز ، آئی پوڈ ٹچ اور ایپل ٹی وی کو بھی جیل بریک کیا جاتا ہے۔
کچھ لوگ ایپل iOS کے علاوہ دوسرے پلیٹ فارمز جیسے انڈروئڈ پر چلنے والی ڈیوائسس کی ہیکنگ کو بھی جیل بریکنگ کہتے ہیں۔ لیکن ایسے ڈیوائسس کے لئے درست لفظ ’’ روٹنگ ‘‘(rooting) ہے۔ اگرچہ نام اور طریقہ ضرور مختلف ہے لیکن مقصد دونوں کا ایک ہی ہے یعنی ڈیوائس کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا۔
جیل بریکنگ کے سافٹ ویئر ونڈوز اور میک اوایس ایکس دونوں کیلئے عام دستیاب ہیں جنھیں انٹرنیٹ سے ڈائون لوڈ کیا جاسکتا ہے۔ اس وقت iOS 5.0.1 جو کہ آئی فون 4 S اور آئی پیڈ 2 میں انسٹال ہوتا ہے کہ لئے Absinthe نامی سافٹ ویئر جیل بریکنگ کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ جبکہ iOS 5.0.1 کے علاوہ آپریٹنگ سسٹم والے ڈیوائسس کے لئے دوسرے سافٹ ویئر استعمال کئے جاتے ہیں۔
جیل بریک کی گئی ڈیوائسس پر ایپلی کیشنز انسٹال کرنے کے لئے Cydia استعمال کیا جاتا ہے جو ایک بذات خود ایک App Store ہے۔ جیل بریک کرنے والے سافٹ ویئر صارف کی آسانی کے لئے Cydia بھی انسٹال کردیتے ہیں تاکہ وہ اپنی من پسند ایپلی کیشنز با آسانی ڈائون لوڈ اور انسٹال کرسکیں۔
جیل بریک کرنے کی ایک وجہ ایپل کی جانب سے اپنے اسٹور پر ایپلی کیشن شائع کرنے کے حوالے سے سخت سینسر شپ ہے۔ اس سینسر شپ کی وجہ سے کئی ایپلی کیشنز یا تو ایپ اسٹور پر شائع ہی نہیں ہوتیں یا پھر ڈیویلپر لائسنس کی کسی شق کی خلاف ورزی پر ایپ اسٹور سے ہٹا دی جاتی ہیں۔ ایسی ایپلی کیشنز جو ایپل سے منظور شدہ نہ ہوں، کو انسٹال اور استعمال کرنے کے لئے صارف کو لازماً ڈیوائس کو جیل بریک کرنا پڑتا ہے۔

JailBreak02
امریکہ اور یورپ میں موبائل آپریٹر اپنے صارفین کو آئی فون جیسے مہنگے فون کم قیمت پر یا ماہانہ معمولی فیس پر استعمال کرنے کے لئے فراہم کرتے ہیں۔ یہ فون Network Locked ہوتے ہیں اور صرف مخصوص نیٹ ورک پر ہی قابل استعمال ہوتے ہیں۔ ایسے فونز کو جیل بریکنگ کے ذریعے نیٹ ورک کی قید سے بھی آزاد کیا جاسکتا ہے۔
کسی ڈیوائس کو ہیک کرنے کے جہاں بہت سے فائدے ہیں، وہیں اس کے کئی نقصانات بھی ہیں۔ چونکہ DRM کا مقصد ڈیوائس کی سکیوریٹی بھی ہوتا ہے، اس لئے ہیک ہونے کے بعد اس ڈیوائس کے Infected ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ ساتھ ہی ڈیوائسس میں ڈیٹا کا استعمال بڑھ جاتا ہے جو فون بل میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ چونکہ ایپلی کیشن ایپل کے Approval Processسے ہوکر نہیں گزرتی اس لئے فون میں موجود ڈیٹا کی سیکیوریٹی کے خدشات بھی رہتے ہیں۔
بظاہر تو جیل بریکنگ غیر قانونی محسوس ہوتی ہے لیکن آپ کو یہ بات جان کر حیرت ہوگی کہ امریکی قوانین کے حساب سے جیل بریکنگ ایک قانونی عمل ہے اور ایپل یا کوئی دوسری کمپنی کسی صارف کی جانب سے ڈیوائس کو جیل بریک کرنے پر قانونی کاروائی کا نشانہ نہیں بنا سکتی۔ 2010ء میں الیکٹرانک فرنٹیئر فاؤنڈیشن کے جیل بریکنگ کے حق میں دلائل کو تسلیم کرتے ہوئے اسمارٹ فون کی جیل بریکنگ کو Digital Millennium Copyright Act میں قانونی عمل کی فہرست میں شامل کردیا گیا۔ ایپل اور چند دوسری کمپنیاں جیل بریکنگ کے سخت خلاف ہیں اور قانون بنانے والے اداروں کے ساتھ اکثر اس معاملے پر گھتم گھتا رہتی ہیں۔ فی الحال ان کا بس صرف ڈیوائس کی وارنٹی پر چلتا ہے اس لئے ایسی ڈیوائسس جو جیل بریک کی گئی ہوں، خراب ہونے کے بعد کمپنی کی جانب سے وارنٹی کیلئے قبول نہیں کی جاتیں۔

(یہ تحریر کمپیوٹنگ شمارہ اگست 2012 میں شائع ہوئی)