مادے کی ایک نئی حالت، مقناطیسیت کی ایک نئی قسم

1,551

میسا چیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ریسرچرز نے مادے کی ایک نئی حالت دریافت کی ہے جو کہ ایک نئی طرز کی مقناطیسی خاصیت رکھتی ہے۔ مادے کی یہ نئی حالت جو کوانٹم اسپن لیکوئیڈ (QSL) کہلاتی ہے، ڈیٹا اسٹوریج کی دنیا بدل سکتی ہے۔ یہی نہیں، QSL لانگ رینج انٹینجلمنٹ(Long-range Entanglement) کہلانے والے کوانٹم مظہر جیسا برتائو بھی پیش کرسکتا ہے۔ اس کی یہ خاصیت بالکل اچھوتی قسم کے نئے کمیونی کیشن سسٹمز بنانے میں مددگار ہوسکتی ہے۔

ہم جب ٹیکنالوجی کی دنیا میں مقناطیست کی بات کرتے ہیں تو صرف دو طرز کی مقناطیسیت ہی ہمیں نظر آتی ہیں۔ اول ’’فیرو میگناٹزم‘‘ اور دوم ’’اینٹی فیرو میگناٹزم‘‘۔ فیرو میگناٹزم سے انسان صدیوں سے واقف ہے اور یہی وہ مقناطیسیت ہے جو کمپاس کی سوئی کو شمال و جنوب کی جانب گھماتی ہے اور مستقل مقناطیس کو لوہے سے چپکاتی ہے۔ ہم فیرو میگنٹس سے گھِرے ہوئے ہیں۔ ان مقناطیسوں میں ہر الیکٹران کا گھمائو (اِسپن، ایٹمی ذرات کی ایک کوانٹم خاصیت) ایک ہی سمت کی جانب ہوتا ہے جس سے دو قطب بن جاتے ہیں۔ جبکہ اینٹی فیرو میگنٹ میں ہر الیکٹران کے پڑوس میں موجود الیکٹران کے گھمائو کی سمت بالکل اُلٹ ہوتی ہے۔ اس طرح تمام الیکٹرانز ایک دوسرے کی مقناطیسیت کو منسوخ کردیتے ہیں اور اینٹی فیرو میگنٹ کی کل مقناطیسیت صفر ہوجاتی ہے۔

ان دونوں طرح کے مقناطیسوں کے ذریعے وہ مقناطیسی سینسر (Spin Valves) بنائے جاتے ہیں جو ہارڈڈسک کے ڈیٹا پڑھنے والے ہیڈز میں استعمال ہوتے ہیں۔
کوانٹم اسپن لیکوئیڈ میں مادہ درحقیقت ٹھوس کرسٹل کی شکل میں ہوتا ہے لیکن اس کی اندرونی مقناطیسی حالت مائع کی طرح بیان کی جاتی ہے۔ اس حالت میں الیکٹرانز کی مقناطیسی سمت اپنے اردگرد موجود دیگر الیکٹرانز کی مقناطیسی سمت کے مطابق تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی مائع میں مالیکیولز مسلسل حرکت میں رہتے ہیں۔QSL کی یہ خاصیت اسے منفرد بناتی ہے اور ٹیکنالوجی و طبیعات کی دنیا میں یہ کئی انقلابی ایجادات کا ماخذ ہوسکتی ہے۔

کوانٹم لیکوئیڈ اسپن میٹریل جسے محققین نے استعمال کیا ہے، وہ herbertsmithite کہلاتا ہے۔ اس کے بارے میں بہت پہلے سے شبہ تھا کہ یہ QSLہوسکتا ہے لیکن کبھی بھی اس پر سنجیدگی سے تحقیق نہیں کی گئی۔ یہ بذات خود ٹھوس ہے جسے خالص بنانے کیلئے ریسرچرز کو 10ماہ لگے۔ اس کا وزن صرف 2/10گرام اور لمبی ایک تہائی انچ کے برابرہے۔ ریسرچرز نے اس پر neutron scattering تیکنیک استعمال کرتے ہوئے اس کی اندرونی ساخت کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ اس تکنیک میں کسی شے پر تیز رفتار نیوٹرونز کی بمباری کی جاتی ہے ۔ نیوٹرونز پر چونکہ کوئی چارج نہیں ہوتا اس لئے وہ کسی ایٹم میں زیادہ اندر تک جاسکتے ہیں۔

مادے کی اس حالت کے بارے میں 1973ء میں طبیعیات دان ’’فل اینڈرسن‘‘ نے پیش گوئی کی تھی جسے دسمبر 2012ء میں ایم آئی ٹی کے محققین نے ’’ینگ لی ‘‘ کی سربراہی میں دریافت کیا ہے۔
ینگ لی کے مطابق اس دریافت سے ڈیٹا اسٹوریج اور ڈیٹا کمیو نی کیشن کی دنیا میں ترقی کی نئی راہیں کھل گئی ہیں۔ ساتھ ہی ہائی ٹمپریچر سپر کنڈکٹرز کی جانب بھی یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ ہائی ٹمپریچر سپر کنڈکٹر اگر بنا لیا جاتا ہے تو یہ بذات خود ایک بڑا کارنامہ ہوگا اور دنیا کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں ایک اہم سنگل میل بھی۔

چونکہ یہ بالکل ایک نئی دریافت ہے، اس لئے اس کے ممکنہ استعمالات کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قابل ازوقت ہوگا۔ ہم کوانٹم کمپیوٹرز کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں اور اس میں حاہل رکاوٹیں عبور کرتے جاری ہیں۔ یہ نئی دریافت ہمیں کوانٹم کمپیوٹرز کے مزید قریب لے جائے گی۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept