آئی فون کے لیے حالیہ تباہ کن وائرس اسرائیلی کمپنی نے بنایا

NSO ایک اسرائیلی کمپنی ہے جس کے بارے میں عام تاثر ہے کہ وہ جاسوسی کرنے والے سافٹ ویئر (اسپائی ویئر) بناتی ہے اور انہیں مختلف حکومتوں کو فروخت کرتی ہے۔ اس کمپنی کے بارے میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اس نے آئی فون میں کسی نامعلوم خامی کا پتا لگا کر اسے ایک ایسا مال ویئر بنانے میں استعمال کیا جو آئی فون 6 کا مکمل کنٹرول حاصل کرسکتا تھا۔ اس مال ویئر کے حوالے سے معلومات سامنے آتے ہی ایپل کمپنی کو عجلت میں آئی او ایس کے لئے ایک اپ ڈیٹ جاری کرنی پڑی۔

اس مال وئیر کے حملے کا طریقہ کار کچھ یوں تھا کہ صارف کو ٹیکسٹ مسیج یاکسی بھی طریقے سے ایک یوآر ایل یا لنک (ربط) پر کلک کرنے کو کہا جاتا ۔ جب صارف اس ربط پر کلک کرتا ہے تو سفاری ویب براؤزر میں موجود تین خامیوں (جن کا ایپل سمیت کسی کو علم نہیں تھا) کا فائدہ اٹھا کر حملہ آور آپریٹنگ سسٹم کے اہم جُز کرنل (Kernel) تک رسائی حاصل کرلیتا ہے۔ جس کے بعد حملہ آور آئی فون میں مال ویئر نصب کردیتا ہے جو آئی فون کو جیل بریک کردیتا ہے۔ جیل بریک آئی فون، آئی پیڈ اور دیگر iOS ڈیوائسز کو ایپل کی لگائی ہوئی پابندیوں سے آزاد کرانے کو کہا جاتا ہے ۔ مال ویئر نصب ہونے کے بعد آئی فون مکمل طور پر حملہ آور کے قابو میں آجاتا ہے اور وہ فون سے ہر قسم کا ڈیٹا چُرا سکتا ہے۔

یہ حملہ اس لئے انوکھا ہے کہ ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ یہ پہلا حملہ ہے جس میں ہیکر کو آئی فون 6 تک براہ راست اور طبعی رسائی حاصل نہیں ہوتی لیکن اس کے باوجود وہ اسے جیل بریک کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ معروف ویب میگزین مدر بورڈ کا کہنا ہے کہ یہ آئی فون 6 کے حوالے سے اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔

متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے علمبردار احمد منصور کو اس مال ویئر کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تو یونیورسٹی آف ٹورنٹو کی سٹی زَن (Citizen) لیب کے ماہرین نے اس خرابی کو دریافت کیا۔ سٹیزن لیب کے ماہرین ہی نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس مال وئیر کو اسرائیلی گروپ این ایس او نے بنا یا ہے۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ این ایس او سمارٹ فونز کی ٹریکنگ کے لیے جاسوسی کے سافٹ وئیر بناتا ہے۔ 2014 میں وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی ایک رپورٹ میں این ایس او کی پاور پوائنٹ سلائیڈ کا حوالہ دیا تھا۔ اس سلائیڈ میں این ایس او نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے پاس ایسی ٹیکنالوجی ہے جو دور رہتے ہوئے کسی بھی اسمارٹ فون میں سے ڈیٹا چُرا سکتی ہے اور اس سارے عمل کے دوران صارف بالکل لاعلم رہتا ہے۔

خبر رساں ایجنسی روئٹرز کا کہنا ہے کہ ایسے کسی سافٹ وئیر جو آئی فون 6 کی جاسوسی کرسکے، کی قیمت ایک ملین ڈالر تک ہوسکتی ہے۔ سٹی زن لیب نے خرابی دریافت ہوتے ہی ایپل کو اس سے آگاہ کردیا تھا۔ جس کے بعد ایپل نے فی الفور ایک Patch جاری کیا۔ ایپل کا دعویٰ ہے کہ وہ تمام ڈیوائسز جو آئی او ایس 10 بیٹا ورژن پر چل رہی ہیں وہ اس خرابی سے متاثر نہیں ہونگی۔

اسرائیلی کمپنیوں کے حوالے سے حال ہی میں منظر عام پر آنے والی یہ دوسری بڑی خبر ہے۔ اس سے پہلے ایک اور اسرائیلی کمپنی کے بارے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس نے ایف بی آئی کو سین برنارڈینو حملے کے ملزم کا آئی فون Unlockکرکے دیا تھا۔

https://www.youtube.com/watch?v=oAM92HYL-0s

Comments are closed.