ایمیزن کا نیا ریڈر، جاندار اور شاندار

1,213

ای-بک ریڈرز جنہیں ای-ریڈرز بھی کہا جاتا ہے قبولیت عام پانے کے بعد اب ہماری زندگیوں کا ایک اہم حصہ بن چکے ہیں لیکن اب بھی چند مسائل ایسے ہیں جن کی وجہ سے قارئین کی کاغذی کتب سے محبت ختم نہیں ہو سکی۔ لیکن ایمیزن کا نیا ای-ریڈر ایسا ہے جو روایت پسند قارئین کو مجبور کردے گا۔

نئے کنڈل ریڈر کا نام کنڈل اویسس (Kindle Oasis) ہے، جو 7 انچ کا پیپروائٹ ڈسپلے رکھتا ہے۔ پائیدار المونیم بیک اور خوبصورت شکل و صورت اپنی جگہ لیکن واٹر پروف خصوصیت اور 300 پکسلز فی انچ (پی پی آئی) کا جاندار ڈسپلے ایسی خصوصیات ہیں جو اسے سب سے نمایاں کررہی ہیں۔ پھر بیٹری لائف بھی ہفتوں پر محیط ہے اور کمال یہ کہ صرف دو گھنٹے میں یہ صفر سے مکمل چارج بھی ہو جاتی ہے۔

31 اکتوبر سے فروخت کے لیے دستیاب اس کنڈل ریڈر کی قیمت 250 ڈالرز سے شروع ہوگی۔

کنڈل نے دس سال قبل جب پہلا ریڈر متعارف کروایا تھا تو اس کا ہدف تھا کوئی بھی کتاب 60 سیکنڈ سے بھی کم وقت میں صارف کو مل جائے اور یہ سفر آج 300 پی پی آئی کی 7 انچ اسکرین، واٹر پروف ڈیزائن اور آڈیو بکس کے لیے بلٹ ان خصوصیت "آڈیبل” تک پہنچ گیا ہے۔

اس کی بڑی اسکرین 30 فیصد زیادہ متن کو جگہ دے سکتی ہے یعنی قاری کو صفحات بدلنے کی زحمت کم اٹھانی پڑے گی جبکہ بٹن دباتے ہی صفحہ بھی جلد تبدیل ہوگا۔ اگر آپ ریڈر کا رخ تبدیل کرتے ہیں تو متن بھی خودکار طور پر اسی حساب سے سیٹ ہو جاتا ہے۔

بہتر ریزولیوشن، یونیفارم لائٹننگ اور گلیئر-فری اسکرین، یعنی آپ دھوپ میں بیٹھ کر کتاب پڑھنا چاہیں تو ویسے ہی پڑھ سکتے ہیں جیسے کاغذی کتاب پڑھتے ہیں۔ ویسے ڈیزائن تبدیلیوں کے بعد تو کنڈل اویسس واقعی کسی کتاب کی طرح لگتا ہے۔ صرف 3.4 ملی میٹر چوڑائی، پشت پر المونیم کا تحفظ اور سامنے کے حصے پر مضبوط شیشہ، اسے ماضی کے کسی بھی کنڈل ریڈر سے زیادہ پائیدار بناتا ہے۔ پھر یہ پچھلے ریڈرز سے زیادہ ہلکا بھی ہے، حالانکہ اسکرین بڑی ہے۔ یہ 6 انچ کے پیپروائٹ کے مقابلے میں 10 گرام کم وزن رکھتا ہے۔

واٹر پروف خصوصیت کی کیا بات ہے۔ اویسس 60 منٹ یعنی ایک گھنٹے تک دو میٹر گہرے پانی میں رہ سکتا ہے۔ یعنی اگر آپ نہانے کے ٹب میں بھی کتاب پڑھنا چاہیں تو بے فکر ہو کر پڑھ سکتے ہیں بلکہ گر جائے تو بھی مسئلہ نہيں۔

اس میں روشنی کے سینسرز بھی نصب ہیں یعنی اردگرد جتنی روشنی ہوگی، اسکرین اس حساب سے خود کو ایڈجسٹ کرلے گی۔ صارف اپنے مزاج کے مطابق بھی ریڈر کی روشنی ترتیب دے سکتا ہے۔ اگر آپ کی آنکھیں سفید روشنی کے حوالے سے حساس ہیں تو آپ اس کی سیٹنگ الٹ بھی سکتے ہیں یعنی سفید کی جگہ پر سیاہ رنگ۔

آڈیو بکس بھی دور جدید کا ایک تحفہ ہیں۔ اس کے لیے ایمیزن کی سروس ‘آڈیبل’ کافی مشہور ہے اور کنڈل اویسس میں تو یہ بلٹ اِن فیچر ہے۔ کسی بھی کتاب کو پڑھتے ہوئے اسے سن بھی سکتے ہیں۔ کنڈل اویسس کا 8 جی بی ماڈل 250 ڈالرز کا ہے جبکہ 32 جی بی قیمت 280 ڈالرز ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب ای بکس کی فروخت میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے، کنڈل کے نئے ای ریڈر کا آنا بہت اہم ہے۔ برطانیہ میں 2016ء میں ای بکس کی فروخت میں 17 فیصد کمی ہوئی جبکہ اس کے مقابلے میں کاغذی کتب کی فروخت میں 7 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا۔ امریکا میں بھی کم و بیش یہی صورت حال رہی اور ای-ریڈرز بنانے والے اداروں کے لیے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے ان ریڈرز کی فروخت میں مسلسل کمی ہو رہی ہے۔ 2011ء سے 2016ء کے دوران ای ریڈرز کی فروخت میں 40 فیصد کمی آئی ہے۔ اس لیے کنڈل اویسس کی کامیابی نہ صرف ایمیزن کے لیے بلکہ بحیثیت مجموعی ای-ریڈرز صنعت کے لیے بہت ضروری اور اہم ہے اور جیسی خصوصیات پیش کی گئی ہیں،اس کی مارکیٹ میں ناکامی کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔