فیس بک پر آنے والے نئے جعلی ڈِس لائیک بٹن کی فراڈاسکیم

342

سوشل نیٹ ورکنگ ویب سا ئٹ فیس بک کے سی ای او مارک زکربرگ نے حال ہی میں لوگوں کو آگاہ کیا تھا کہ کمپنی ایک نئے فیچر(feature)پر کام کررہی ہے،اس فیچر کہ ذریعے آپ کسی پوسٹ کو ڈِس لائیک کر سکیں گے۔ یہ ڈِس لائیک بٹن دُکھ اور ہمدردی والی پوسٹس جن پر افسوس کا اظہار کرنا چاہیے ،اُن پر نامعقول لائیک(like) کرنے سے بچنے کے لیے دیا جارہا تھا۔

NEW-EMOTICONS-FEATURE

فیس بک پر آنے والے اس نئے فیچر کی خبر نے سائبرکِرمنلز(cybercriminals) کے لیے ممکن کردیا ہے کہ وہ ویب سا ئٹ استعما ل کر نے والے معصوم لوگوں کو نئے قسم کے فراڈ میں پھنسا سکیں۔

ہیک ریڈ (Hackread)کی رپورٹ کے مطابق ایک پوسٹ فیس بک پر صارفین کو یقین دلاتی ہے کہ وہ دی گئی ویب سائٹ پر جاکر ڈِس لائیک بٹن وقت سے پہلے حاصل کر سکتے ہیں اور اس طرح اُس ویب سائٹ کے وِزٹ بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے علا وہ یہ پوسٹ بتاتی ہے کہ فی الحال یہ صرف انوائٹ اونلی سِسٹم (invite only system) ہے۔

اس فراڈ اسکیم میں بہت سے لِنکس(links) ہوتے ہیں جن پر کلک کرنے سے صارف بد نیتی پر مبنی نقصان دہ ویب سا ئٹس پر چلا جاتا ہے جہاں پرایک کاؤنٹ ڈاؤن ٹائمر(count down timer) ظاہر ہوتا ہے جوصارف کو فوراًدی گئی ریکوائرمینٹس (requirements)کو مقررہ وقت پر بھرنے کے لیے آمادہ کرتا ہے یا پھرڈِس لائیک بٹن وقت سے پہلے حاصل کرنے کا موقع بھول جانے کے لیے خبردار کرتا ہے۔ اس کے بعد یہ فراڈاسکیم صارف کو وہ ویب سا ئٹ فیس بک پر اورمیسنجر(messenger) کی کسی بھی پانچ کنورزیشن گروپس (conversation groups) پر شیئر (share) کرنے کے لیے کہتی ہے۔

facebook-dislike-button-scam-postجب یہ تما م لِنکس پھیلا دیے جائیں گے تب یہ فراڈاسکیم صارف کو ایک نئے پیج کی طرف راغب کرے گی جہاں صارف کو بہت سارے سرویز (surveys)بھرنے کو کہا جائے گاجس کے ذریعے صارف کی تمام ذاتی معلومات اور اکاؤنٹ معلومات (account credentials) حاصل کرلے گا۔ اس کے بعد مبینہ طور پر اُس صارف اور اس کے روابط کو ای میل(email) کے ذریعے ا ندھا دھند پیغام بھیجنا شروع ہو جا تے ہیں۔اس کے علاوہ یہ بات بھی رپورٹ کی گئی ہے کہ اس فراڈاسکیم میں بہت سی ایسی چیزیں بھی ہیں جو آپ کے کمپیوٹر میں مال ویئر (malware) انسٹال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
یہ بات اب تک نا معلوم ہے کہ کتنے افراد اس آن لائن فراڈ سے متاثر ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی فیس بک کے تمام صارفین کے لیے مشورہ ہے کہ کسی بھی مشکوک یا بظاہر بہت اچھی نظر آنے والی کسی بھی پوسٹ پر کلک کرنے سے پہلے دو بار ضرور سوچ لیں۔

فروری میں بھی اِسی طرح کا ایک انٹر نیٹ کرائم رپورٹ کیا گیا تھاجس میں مبینہ طور پر ایک ویڈیو صارفین کو goo.gl ہوسٹ کی طرف لے جاتی تھی جو بہت سی ڈیوائسز (devices)میں مال ویئر پھیلا سکتی ہے۔ ماضی میں بھی فیس بک صارفین کو مختلف طریقوں سے بے وقوف بنانے کی کوشش کی گئی۔ مثلاً آپ کو کس کس نے اَن فرینڈ کیا یا کس کس نے آپ کی پروفائل دیکھی جیسے فیچرز حاصل کرنے کے بہانے وائرس زدہ ویب سائٹس پر لے جا کر انھیں نقصان پہنچایا گیا۔
چونکہ صارفین کو ڈِس لائیک بٹن کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ہر پوسٹ لائیک کرنے والی نہیں ہوتی اس لیے مارک زکر برگ نے حال ہی اطلاع دی ہے کہ آزمائشی بنیادوں پر لائیک کا نیا بٹن متعارف کروا دیا گیا ہے جس پر کلک کر کے رکھنے سے لائیک کے علاوہ دیگر جذبات کے آئی کنز سامنے آئیں گے۔
(یہ تحریر کمپیوٹنگ شمارہ نومبر 2015 میں شائع ہوئی)