فون پر آنے والے خطرناک وائرسز سے نمٹنا سیکھیں

3,648

آج کل انٹرنیٹ استعمال کرنے والے زیادہ تر صارفین اسے بذریعہ اسمارٹ فون استعمال کر رہے ہیں، اسمارٹ فون کا آپریٹنگ سسٹم جتنا بھی اچھا ہو جائے فی الحال یہ ڈیسک ٹاپ آپریٹنگ سسٹم جیسا محفوظ نہیں ہو سکتا کیونکہ اس میں کئی چیزیں محدود ہیں۔

چونکہ صارفین کی بڑی تعداد اسمارٹ فون کے ذریعے انٹرنیٹ استعمال کرتی ہے لیے اب زیادہ تر وائرس اسمارٹ فون کو نشانہ بنانے کے لیے ہی بنائے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر جعلی ویب سائٹس کی تو کوئی حد ہی نہیں جو اپنے فائدے کی خاطر آپ کو نشانہ بنانے کے لیے تیار بیٹھی ہیں۔

کبھی آپ انٹرنیٹ پر کوئی چیز یا گانا تلاش کرتے ہیں اور پہلے ہی لنک کو کھول لیتے ہیں، لیکن لنک کھولنے کے بعد آپ کو کچھ پتا نہیں چلتا کہ وہ گانا ڈاؤن لوڈ کہاں سے کرنا ہے، آپ کہیں کلک کریں نہ کریں مختلف قسم کے پاپ اپ اس تیزی سے کھلتے ہیں کہ پسینے چھوٹ جاتے ہیں۔

scareware-phone

یہ وائرس کی ایک نئی تکنیک ہے جسے اسکیئر ویئر کہتےہیں، آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ کس طرح آپ ایسے مسائل سے بچ سکتے ہیں۔

وائرس یا مال ویئر کے حملوں سے بچنے کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟ عام صارفین کی بات کی جائے تو وہ اتنا جانتے ہیں کہ وائرس سے بچنے کے لیے غیر ضروری لنکس پر کلک نہ کیا جائے۔

کمپیوٹر ہو یا اسمارٹ فون یہ کلیہ دونوں جگہ کارآمد ہے۔ وائرس ایسی چیز ہے کہ کمپیوٹر اور فون استعمال کرنے والے ہمیشہ اس سے خوفزدہ رہتے ہیں اور اسی خوف کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے وائرس بنانے والے انھیں مزید نشانہ بناتے ہیں۔

اسکیئر ویئر کیا ہے؟

یقیناً آپ سوچ رہے ہوں گے کہ خوف کے ذریعے کیسے کسی کے سسٹم یا موبائل فون پر حملہ کیا جا سکتا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ وائرس حملے کی ایک نئی شکل بھی کافی عرصے سے سامنے آچکی ہے اور اس کا نام ہے Scareware ۔ جس طرح ایڈویئر اور مال ویئر ہوتے ہیں بالکل اسی طرح ’’سکیئرویئر‘‘ بھی موجود ہے۔فرق یہ ہے کہ ایڈویئر آپ کو اشتہارات دکھا کر پریشان کرتے ہیں جبکہ سکیئر ویئر میں آپ کو خوف زدہ کرنے کے بعد آپ کی ڈیوائس میں زبردستی مال ویئر منتقل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

chrome-site-settings

دراصل اس میں یہ تکنیک استعمال کی جاتی ہے کہ صارف کو خوفزدہ کر کے اسے نشانہ بنایا جائے۔ جب سے اسمارٹ فون آئے ہیں یہ تکنیک مزید کامیابی کی جانب گامزن ہے۔ اس حملے میں صارف کو بتایا جاتا ہے کہ اس کا فون یا کمپیوٹر وائرس سے متاثر ہو چکا ہے، اگر وہ اسے صاف کرنا چاہتا ہے تو ہمارا سافٹ ویئر ڈاؤن لوڈ کر لے۔ اصل حملہ تو اس ڈاؤن لوڈنگ ربط پر کلک یا ٹچ کرنے کے بعد شروع ہوتا ہے کیونکہ یہی دراصل وائرس ہوتا ہے۔

حملے کا طریقہ کار

سکیئرویئر کے حملے کا طریقہ کار بہت ہی سادہ لیکن انتہائی کارگر ہے اور تقریباً ہر اسمارٹ فون صارف اس کا ضرور سامنا کر چکا ہوتا ہے۔ اس میں کوئی ویب سائٹ دیکھتے ہوئے ایک پاپ یا نئی ونڈو کھلتی ہے جو فون کو وائبریٹ کرتے ہوئے بتاتی ہے کہ آپ کے فون میں وائرس ہے، اگر آپ اسے صاف کرنا چاہتے ہیں تو فلاں آپشن کا استعمال کریں، یعنی دراصل اصلی مال ویئر کو فون میں ڈاؤن لوڈ کر لیں۔

پاپ اپ فون وائبریٹ کیسے کرتا ہے؟

اسمارٹ فون صارفین کو مزید خوف زدہ کرنے کے لیے اس کے وائبریٹ فیچر کو استعمال کیا جاتا ہے۔ گوگل کروم براؤزر میں پہلے سے فون کو وائبریٹ کرنے کی اجازت دی گئی ہوتی ہے اور عام اسمارٹ فون صارفین جو کسی بھی ایپ کی نوٹی فکیشنز سیٹنگز میں جھانکتے تک نہیں وہ باآسانی اس تکنیک سے خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔۔اگر آپ گوگل کروم کی نوٹی فکیشن سیٹنگز دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ آپ نے اسے فون کو وائبریٹ کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔

chrome-vibration-notifications

اس طرح وائرس پھیلانے والی ویب سائٹس کروم کی وائبریشن اے پی آئی (Vibration API) کو استعمال کرتے ہوئے اپنے پاپ اپ کے ذریعے آپ کے فون کو جھنجوڑ کر رکھ دیتی ہیں۔ اس سے صارف یہ سمجھتا ہے کہ ضرور اس کے فون میں وائرس آ چکا ہے اس لیے اب اس کی صفائی انتہائی ضروری ہے۔ اسی خوف کی وجہ سے وہ وائرس کا نشانہ بنتا ہے حالانکہ اس سے قبل تو اسے صرف ڈرایا گیا ہوتا ہے وائرس ابھی سسٹم میں نہیں پہنچتا۔

یہاں یہ بات سمجھنے کی انتہائی اشد ضرورت ہے کہ یہ وائبریشن پر مشتمل الرٹ نہ تو وائرس دِکھاتا ہے اور نہ ہی آپ کا آپریٹنگ سسٹم آپ کو تنبیہ کر رہا ہوتا ہے یہ صرف اور صرف ایک نوٹی فکیشن کا کمال ہے۔

یہ ایک انتہائی اہم معاملہ ہے اور آج کل اینڈروئیڈ استعمال کرنے والی بڑی تعداد اس سے پریشان ہے، اس لیے جب تک براؤزر اس کا بندوبست نہیں کرتا آپ خود اس کی سیٹنگز میں جا کر وائبریشن نوٹی فکیشنز اور پاپ اپس کو بند کر دیں۔

چونکہ اینڈروئیڈ میں گوگل کروم براؤزر پہلے سے ہی موجود ہوتا ہے اس لیے زیادہ تر اینڈروئیڈ صارفین اسے ہی استعمال کرتے ہیں۔ ان غیرضروری چیزوں کو کروم میں بند کر نے کے لیے براؤزر کھولیں اور سیٹنگز کے اندر موجود ’’سائٹ سیٹنگز‘‘ میں آجائیں۔ یہاں پاپ اپ اور وائبریشن نوٹی فکیشنز کو بند کرنے کا آپشن موجود ہو گا۔

سکیئر ویئر حملوں کا مقصد کیا ہے؟

سکیئرویئر حملوں کا مقصد بھولے بھالے صارفین سے پیسے ہتھیانا ہے۔ اگر آپ غلطی سے اس کے چکمے میں آنے کے بعد وائرس صاف کرنے کے لیے اس کے لنک پر کلک کر بیٹھیں تو اس کا جعلی اسکینر فوراً حاضر ہو کر آپ کا سسٹم یا ڈیوائس اسکین کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اس کے بعد وہ ایک جعلی رپورٹ بھی پیش کرتا ہے کہ فلاں فلاں وائرسز آپ کے سسٹم میں دریافت کر لیے گئے ہیں اور اگر آپ انھیں صاف کرنا چاہتے ہیں تو یہ سہولت آپ کو ہمارے مفت پروگرام میں نہیں ملے گی بلکہ اب اس کا پروفیشنل ورژن خریدنا ہو گا۔

fake

اگر کوئی ان کے جال میں پھنس جائے تو ظاہر ہے اس کی رقم ضائع ہی ہوتی ہے، اس کے بعد یہ پلٹ کر خبر بھی نہیں لیتے۔ اگر خوش قسمتی سے ہیکر کوئی نیک دل انسان ہو تو صرف سافٹ ویئر کے عوض ادا کی گئی رقم پر ہی اکتفا کر لیتا ہے لیکن اگر اس کا ارادہ ایک ہی بندے سے سارے دن کی کمائی جمع کرنا ہو تو وہ دی گئی کریڈٹ کارڈ کی تفصیلات کو استعمال کرتے ہوئے مزید مالی نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔

اس حملے کی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟

جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا کہ یہ بہت ہی عام صورتِ حال ہے۔ اگر آج تک آپ کو ایسا کوئی اتفاق نہیں ہوا تو مستقبل میں ضرور ہو سکتا ہے اس لیے یہ بات یاد رکھیں کہ کوئی بھی پاپ آپ کے سسٹم یا فون میں کوئی فائل منتقل نہیں کر سکتا اور نہ کوئی سافٹ ویئر یا ایپلی کیشن انسٹال کر سکتا ہے۔

اگر یہ پاپ اپ آپ کے سامنے آیا ہے اور آپ کا فون وائبریٹ بھی ہوا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وائرس ڈیوائس میں منتقل ہو چکا ہے۔ اس لیے اپنے حواس قابو میں رکھیں کیونکہ اس حملے میں پاپ اپ کی ایک لہر آتی ہے اور وہ کھلتے چلے جاتے ہیں۔ اس لیے فون پر اس حملے کے دوران فوراً ہوم بٹن پر کلک کرتے ہوئے تمام ایپس کو منی مائز کرنے کے بعد سب کو بند کر دیں۔

آئندہ اس ویب سائٹ کا رُخ نہ کریں بلکہ صرف قابل اعتماد ویب سائٹس سے ڈاؤن لوڈنگ کریں۔ بلکہ اب تو سبھی انٹرنیٹ کا اس قدر زیادہ استعمال کرتے ہیں کہ تو آپ کے اندر ویب سائٹس کی پہچان پیدا ہونی چاہیے تاکہ آپ خود اندازہ کر سکیں کہ آپ کی مطلوبہ فائل اس ویب سائٹ پر ہو سکتی ہے یا یہ صرف دھوکا ہے۔

حفاظتی تدابیر

وائرسز سے بچنے کے لیے اپنے فون اور کمپیوٹر میں اینٹی وائرس کی انسٹالیشن یقینی بنائیں۔ اینٹی وائرس کوئی سا بھی ہو اس کا اپ ڈیٹ ہونا انتہائی ضروری ہوتا ہے تاکہ وہ نت نئے حملوں سے آگاہ ہو۔ کمپیوٹر و اسمارٹ فون کے لیے کئی اینٹی وائرس پروگرام مفت دستیاب ہیں، آپ اپنی پسند سے انھیں ایپ اسٹور سے تلاش کر کے اور دوسروں کی اس کے بارے میں رائے پڑھنے کے بعد اسے انسٹال کر لیں۔ سب سے اہم حفاظتی تدبیر یہ ہے کہ اپنے تجسس پر قابو رکھیں اور سوشل میڈیا پر ڈالے گئے غیر مصدقہ ذرائع کے روابط پر بالکل بھی کلک مت کریں۔

ایپلی کیشنز و اینڈروئیڈ کے جعلی اپ ڈیٹ پیغامات کو بھی ہمیشہ نظر انداز کر دیں۔ مثلاً وٹس ایپ وغیرہ کے نئے فیچرز آنے سے قبل ہی خبروں میں آچکے ہوتے ہیں اور سبھی صارفین انھیں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ہیکرز اسی چیز کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے پیغامات پھیلاتے ہیں کہ اس لنک سے آپ وٹس ایپ یا فلاں ایپ کا نیا ورژن ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ صارفین اینڈروئیڈ کو بھی اپ گریڈ کرنے کے شوقین ہوتے ہیں اور اس حوالے سے پیغامات انھیں موصول ہوتے رہتے ہیں۔ اس لیے ایسے تمام پیغامات پر بالکل بھی توجہ مت دیں۔ جب کوئی ایپلی کیشن اپ ڈیٹ ہو گی تو آفیشیل طریقہ کار سے آپ کے پاس بھی اپ ڈیٹ کا نوٹی فکیشن آجائے گا یا ایپ خود بخود اپ گریڈ ہو جائے گی۔ اسی طرح اینڈروئیڈ کی اپ ڈیٹ بھی اپنے فون بنانے والی کمپنی کی طرف سے آنے کا انتظار کریں، ورنہ جلد بازی آپ کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

اپنی اہم فائلوں کو رینسم ویئر سے محفوظ رکھیں

یاد رکھیں کہ اسکیئرویئر تکنیک کو استعمال کرتے ہوئے آپ پر رینسم ویئر (Ransomware) حملہ بھی ہو سکتا ہے۔ رینسم ویئر میں آپ کی ڈرائیو میں موجود تمام فائلز کو اِنکرپٹ کر دیا جاتا ہے اور آپ انھیں استعمال نہیں کر پاتے۔ اگر آپ اپنی قیمتی فائلز واپس حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے تاوان ادا کرنا پڑتا ہے جس کے بعد آپ کو وہ سافٹ ویئر فراہم کیا جاتا ہے جو ان فائلز کو دوبارہ استعمال کے قابل بناتا ہے۔ اس حملے کی صورت میں صارف کو ہر حال میں تاوان ادا کرنا ہی پڑتا ہے کیونکہ اِنکرپٹ کردہ فائلز کو کسی صورت بھی کسی دوسرے پروگرام سے ڈی کرپٹ نہیں کیا جا سکتا اور اس کے بغیر فائلز استعمال کے قابل بھی نہیں رہتیں۔