بٹ کوائنز نیٹ ورک دنیا کے تیز ترین سپر کمپیوٹر سے بھی تیز

478

BitCoin Watch کے مطابق بٹ کوائنز نیٹ ورک پر موجود تمام نوڈز کی مشترکہ پروسیسنگ پاور1 ہگزا فلوپس (exaFLOPS)تک پہنچ گئی ہے۔ یہ رفتار دنیا کے پانچ سو تیز ترین سپر کمپیوٹرز کی مشترکہ رفتار سے بھی 8 گنا زیادہ ہے۔ اس وقت دنیا کا تیز ترین سپر کمپیوٹر آئی بی ایم کا Sequoia ہے جس کی رفتار 16.3 پیٹا فلوپس ہے۔ یاد رہے کہ ایک ہگزا فلوپس ایک ہزار پیٹا فلوپس کے برابر ہے۔

بٹ کوائنز، کرنسی کی آن لائن شکل ہے جس کا طبعی طور پر کوئی وجود نہیں لیکن یہ انٹرنیٹ پر انتہائی مقبول ہورہی ہے۔ اسے جنوری 2009ء میں پیش کیا گیا تھا اور یہ ڈیجیٹل کرنسی اپنے آغاز سے ہی متنازعہ رہی ہے۔ یہ ایک peer-to-peer نیٹ ورک ہے اور کرنسی کو کنٹرول کرنے کے لئے کوئی مرکزی بینک موجود نہیں۔ چونکہ یہ کرنسی ڈیجیٹل ہے اور اس کا طبعی طور پر وجود نہیں، اس لئے یہ مروجہ قوانین کے تحت غیر قانونی بھی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بٹ کوائنز کو غیر قانونی دھندوں کے لئے ایک آئیڈیل کرنسی کہا جاتا ہے۔ مثلاً کچھ ویب سائٹس بٹ کوائنز کے عوض صارفین کو منشیات فروخت کرتی ہیں۔ تاہم اس کی زبردست سکیوریٹی اور آزادی کی وجہ سے اس کی مقبولیت دن بدن بڑھ رہی ہے اور کئی بڑی ویب سائٹس اب بٹ کوائنز کو پے منٹ سسٹم کے طور پر اپنانے پر غور کررہی ہیں۔

بٹ کوائن نیٹ ورک کی پروسسنگ پاور کا اندازہ لگانے کے لئے بے حد سادہ طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے۔ حساب کے مطابق ایک ہیش (hash ) تقریباً 12.7 کلو فلوپس کے برابر ہوتا ہے۔ اس طرح تمام ہیش جو کہ دنیا بھر کے کمپیوٹرز پر کیکولیٹ ہورہے ہیں، کی مجموعی طاقت 1 ہگزا فلوپس بنتی ہے۔ بلاشبہ کیکولیشن کا یہ طریقہ کار انتہائی ناقص ہے کیونکہ ہیش کیکولیشن کے دوران انٹیجر کیکولیشن ہوتی ہے نہ کہ فلوٹنگ پوائنگ۔ تاہم ہمیں یہ اندازہ ضرور ہوجاتا ہے کہ بٹ کوائنز نیٹ ورک بہت تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس کی پروسسنگ پاور بھی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اب جبکہ بٹ کوائنز کو مائن کرنے کے لئے مخصوص ہارڈ ویئر بھی مارکیٹ میں دستیاب ہے، اس نیٹ ورک کی پروسسنگ پاور دن بدن مزید بڑھتی ہی رہے گی۔ یہ اور بات ہے کہ اس پروسسنگ پاور کا عملی طور پر کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا!