چین میں اسکائپ پر بھی پابندی لگ گئی

357

اسکائپ کی کال اور میسیجنگ سروس پر چین میں پابندی لگا دی گئی ہے بلکہ اسے ایپ اسٹورز سے بھی اٹھا لیا گیا ہے۔

ایپل کا کہنا ہے کہ اسکائپ ان چند ایپس میں سے ایک ہے جنہیں حکومت کے مطالبے پر ایپ اسٹور سے نکالا گيا ہے کیونکہ بقول چین کے یہ مقامی قوانین سے مطابقت نہیں رکھتی۔ جبکہ اسکائپ کے مالک ادارے مائیکروسافٹ کا کہنا ہے کہ ایپ کو عارضی طور پر ہٹایا گیا ہے اور اس کی جلد از جلد بحالی پر کام کیا جا رہا ہے۔

اسکائپ کے ساتھ مسائل کا آغاز اکتوبر میں ہوا تھا جس کے بارے میں ایپل کہتا ہے کہ انہیں چین کی پبلک سکیورٹی وزارت کی جانب سے مطلع کیا گیا تھا کہ متعدد وائس اوور انٹرنیٹ پروٹوکول (وی او آئی پی) ایپس مقامی قانون پر پورا نہیں اترتیں، اس لیے چین میں ایپ اسٹورز سے انہیں ہٹا دیا جائے۔ البتہ مائیکروسافٹ کا کہنا ہے کہ یہ قدم عارضی ہے۔

وجہ جو بھی ہو، اس وقت صورت حال یہ ہے کہ چین میں صرف ایپل ہی نہیں اینڈرائیڈ اسٹور پر بھی اسکائپ دستیاب نہیں ہے ۔

ویسے ایپل رواں سال 674 وی پی این ایپس کو چینی حکومت کی درخواست پر اپنے ایپ اسٹورز سے نکال چکا ہے۔ ایپل کو کہا گیا تھا کہ وی پی این آپریٹرز چین کے سائبر سکیورٹی قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں ۔

یہ وہی قوانین ہیں جن پر مغرب تنقید کرتا رہا ہے اور کہتا ہے کہ یہ ملک میں آزادئ اظہار رائے پر قدغن لگا رہے ہیں اور حکومت مخالف آراء کو دبا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں غیر ملکی اداروں کو اپنے صارفین کی تعداد بڑھانے میں دشواریوں کا سامنا رہتا ہے۔

اسکائپ ان غیر ملکی ڈجیٹل اور انٹرنیٹ پلیٹ فارمز میں سے ایک ہے جو چینی صارفین کے لیے دستیاب نہیں ہیں، جیسا کہ گوگل، فیس بک اور ٹوئٹر۔