برقی کتاب۔ ای بک

649

ebookمصر کے فرعونوں کے ہاتھوں دنیا ہزاروں سالوں سے لکھنا جانتی ہے جنہوں نے ہیروگلیفک ابجد ایجاد کیے، تب سے انسان لکھتا اور پڑھتا آرہا ہے۔ پرانے زمانوں میں تحریر مخطوطوں کی شکل میں ہوتی تھی پھر تھوڑی ترقی ہوئی اور ہاتھ سے لکھی ہوئی کتابیں شائع کی جانے لگیں۔ پھر پندرہویں صدی میں جرمنی کے یوہن گٹنبرگ نے پرنٹنگ مشین ایجاد کی اور کتابوں کی اشاعت کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔ پندرہویں صدی سے لے کر اب تک کتابوں کی اشاعت کے میدان میں کوئی خاص تبدیلی نہیں ہوئی کیونکہ اشاعت کا بنیادی طریقہ آج بھی وہی ہے جو پندرہویں صدی سے چلا آرہا ہے تاہم گزشتہ کچھ سالوں میں ای بُک یا برقی کتاب کے منظرِ عام پر آنے سے صورتِ حال میں کچھ تبدیلی واقع ہوئی ہے۔

برقی کتاب کیا ہے؟

برقی کتاب دراصل کتاب سے مشابہ متن کو بیان کرنے کی ایک اصطلاح ہے مگر برقی شکل میں جسے برقی اسکرین پر دیکھا جاسکتا ہے یعنی برقی کتاب لکھی ہوئی تحریر کی برقی شکل ہے۔

برقی کتاب کا تصور

برقی کتاب کا تصور اس وقت منظرِ عام پر آیا جب 1971ء میں مائیکل ہارٹ نے گٹنبرگ منصوبہ شروع کیا جس میں پبلک ڈومین کی تمام کتابوں کو برقی شکل میں انٹرنیٹ پر شائع کیا گیا تاکہ لوگ مختلف زمانوں کی کتابیں انٹرنیٹ کے ذریعے مفت حاصل کر سکیں، سب سے پہلا مصنف جس نے برقی کتاب شائع کی وہ سٹیفن کنگ تھا جس نے سال 2000 میں اپنی کتاب رائیڈنگ دی بولیٹ (Riding the Bullet) برقی شکل میں شائع کی اور کتاب کی اشاعت کے صرف چوبیس گھنٹوں میں چار سو لوگوں نے ڈھائی ڈالر میں کتاب خرید کر برقی شکل میں حاصل کی۔

انٹرنیٹ اور برقی کتابیں

دوسرے کسی سیکٹر کے مقابلے میں کتابوں کی تصنیف، نشر واشاعت میں انٹرنیٹ نے قطعی مختلف اور اہم کردار ادا کیا جو فائدے اور نقصان میں مقابلہ بازی سے کہیں آگے بڑھ کر بقاء کی جنگ کی صورت اختیار کر گیا جس میں اسمارٹ فونز، لیپ ٹاپس، ای بْک ریڈرز جیسے کینڈل، سونی، ریڈر اور نوک وغیرہ نے کتابوں کی فروخت کی شرح کو تاریخ میں پہلی بار چھپی ہوئی کتابوں سے کہیں زیادہ بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا اور برقی کتاب اور انٹرنیٹ کے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔
گزشتہ سال مئی کے مہینے میں برقی کتابوں کا بزنس کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی ویب سائٹ ایمازان (Amazon) نے بتایا کہ وہ چھپی ہوئی کتابوں کے مقابلے میں برقی کتابیں زیادہ فروخت کر رہی ہے حالانکہ برقی کتابوں کی فروخت میں اسے محض چار سال ہی ہوئے ہیں جس سے لوگوں کے رجحانات میں ایک بنیادی تبدیلی کا پتہ چلتا ہے کہ لوگ برقی کتابیں پسند کر رہے ہیں۔
گزشتہ سال اپریل میں کمپنی کا کہنا تھا کہ وہ ہر 105 برقی کتابوں کے مقابلے میں 100 چھپی ہوئی کتابیں فروخت کر رہی ہے جبکہ امریکہ اور برطانیہ میں 242 برقی کتابوں کے مقابلے میں صرف 100 کاغذی کتابیں فروخت کر رہی ہے، یہ کاغذی کتابیں وہ کتابیں ہیں جن کے برقی نسخے دستیاب نہیں ہیں، اس موازنے میں مفت برقی کتابیں شامل نہیں ہیں جنہیں اگر شامل کر لیا جائے تو یہ اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں کہ برقی کتابیں کاغذی کتابوں کے مقابلے میں مقبولیت میں کہیں آگے جاچکی ہیں۔ ایمازان کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال میں اس کی برقی کتابوں کی فروخت تین گنا بڑھ چکی ہے۔
ایمازان نے 1995ء میں کاغذی کتابوں کی فروخت کے ایک اسٹور کے طور پر اپنے کام کا آغاز کیا تھا مگر بعد میں اس نے ڈی وی ڈیز سے لے کر بچوں کے کپڑوں تک ہر چیز فروخت کرنی شروع کردی! ایمازان کی طرف سے کینڈل کے اجراء کے بعد جو برقی کتابوں کا ایک ریڈر ہے، ایمازان کی برقی کتابوں کی فروخت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے اور صرف چھ ماہ میں برقی کتابوں کی فروخت کاغذی کتابوں سے بڑھ گئی تھی، ماہرین کا کہنا ہے کہ فروخت ہونے والی ہر برقی کتاب کاغذی کتابیں فروخت کرنے والے اسٹوروں کے لیے ایک طرح کا نقصان ہے، کیونکہ بعض برقی کتابوں کی قیمت ایک ڈالر سے بھی کم ہے۔

جنگ کس طرف بڑھ رہی ہے؟

سارے معاملے کا انحصار اس امر پر ہے کہ برقی کتابیں کیا کیا خوبیاں پیش کر سکتی ہیں اور ان کے عیب اور کمزوریاں کیا ہیں، کیونکہ کاغذی کتاب کی ایک طویل تاریخ ہے اور قاری کا اس کے ساتھ ایک طویل تجربہ ہے چنانچہ یہ اَمر کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کہ کاغذی کتاب کے ساتھ قاری کی کس قدر الفت ہوتی ہے اور انہیں حاصل کرنے اور پڑھنے کی خواہش کا شاید کوئی متبادل نہیں۔
دوسری طرف معرفت کے حوالے سے برقی کتاب کی ٹیکنالوجی میں بہت ساری بہتریاں دیکھنے کو ملی ہیں، برقی کتابوں کے ریڈر استعمال میں نہ صرف آسان ہیں بلکہ ان کے ذریعے درکار معلومات بھی تیزی سے حاصل کی جاسکتی ہیں اور اس باب میں آئے دن کسی نہ کسی نئی چیز کا اضافہ ہوتا رہتا ہے جس سے برقی کتاب پڑھنے کا مزہ دوبالا ہوجاتا ہے اور جن کا مقابلہ کرنا شاید کاغذی کتاب کے بس کی بات نہیں ہے۔


برقی کتابوں کی خوبیاں

اٹھانے میں آسانی: اپنے کسی طویل سفر میں وقت گزاری کے لیے شاید آپ کئی کتابیں پڑھنا چاہیں جیسے کوئی جاسوسی ناول، کوئی ادبی رسالہ یا کوئی رومانوی افسانہ وغیرہ لیکن اتنی ساری کتابوں کو سفر میں اپنے ساتھ لے جانا کسی بوجھ سے کم نہیں، اس کے مقابلے میں برقی ریڈر ایک بھرپور لائبریری کی طرح ہے جس میں آپ کی پسند کی سیکڑوں کتابیں موجود ہیں جن میں سے آپ جو چاہیں اور جب چاہیں پڑھ سکتے ہیں، ان ریڈرز کے ذریعے آپ صرف ایک کلک پر کوئی بھی نئی کتاب خرید کر اس کا مطالعہ فی الفور شروع کر سکتے ہیں۔
سہولت: پرانی نسل کے ای بک ریڈرز کے مقابلے میں نئے ریڈرز جدید ترین ٹیکنالوجی کے حامل ہیں۔ اب بہت سارے ریڈر وائرلیس سہولتوں سے لیس ہیں جس کے ذریعے مقامی اخبار، بلاگ اور عالمی میگزین بغیر کسی قسم کی ادائیگی کے مفت پڑھے جاسکتے ہیں، کسی جگہ پر وائی فائی کی سہولت کی موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ کوئی بھی کتاب پڑھ سکتے ہیں۔ ان ریڈرز کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ یہ وزن میں انتہائی ہلکے ہوتے ہیں جبکہ ان میں ہزاروں کتابیں سما سکتی ہیں جبکہ کاغذی کتاب میں ایسی کوئی خوبی یا سہولت نہیں ہوتی، اُلٹا یہ بھاری بھرکم ہوتی ہیں اور کافی جگہ گھیرتی ہیں مزید برآں انہیں منظم کرنے اور گرد وغبار سے صاف کرنے میں بھی اضافی محنت کرنا پڑتی ہے۔
متعدد آپشنز: برقی کتابوں کے بْک اسٹور آپ کو ہزاروں آپشنز دیتے ہیں، انٹرنیٹ کے ذریعے لاکھوں کتابیں ڈاؤن لوڈ کے لیے دستیاب ہیں۔ بہت سارے ڈیجیٹل بْک سٹور مفت ڈاؤن لوڈ بھی فراہم کرتے ہیں تاکہ آپ کو صحیح کتاب کے انتخاب میں آسانی ہو، یہ کسی لائبریری میں گھومنے اور ورق گردانی کرنے جیسا ہے، اگر آپ کو کتاب پسند نہ آئے تو یہ ضروری نہیں کہ آپ اسے خریدیں، بعض ریڈر آپ کو دوستوں اور خاندان کے دیگر لوگوں کے ساتھ کتاب شیئر کرنے کی صلاحیت بھی دیتے ہیں۔
مختلف استعمال: برقی کتابوں کے ریڈرز ایسی کئی خوبیوں سے بھرپور ہوتے ہیں جو مطالعے کو پہلے سے زیادہ آسان بناتے ہیں، جیسے لکھی ہوئی تحریر کو پڑھنا یعنی اسے آواز میں تبدیل کردینا۔ اس طرح آپ بذاتِ خود کتاب پڑھنے کی بجائے صرف سننے پر اکتفاء کر سکتے ہیں، یہ خوبی نابینا افراد کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ دیگر خوبیوں میں صفحات اور تحریر کو بڑا کرنا شامل ہے یہ خوبی نظر کے کمزور افراد اور ایسی جگہوں کے لیے انتہائی کارآمد ہے جہاں روشنی کم ہو، اس کے علاوہ ان ریڈرز کے ذریعے کسی ریفرینس یا معلومہ تک پہنچنے میں اور تلاش کرنے میں صرف چند کلک کی ضرورت ہوتی ہے۔
ماحول دوست: یہ امر واضح ہے کہ برقی کتابیں ماحول دوست ہوتی ہیں، ان کتابوں نے بلا شبہ ہزاروں درختوں کو چھپائی کے کاغذ میں تبدیل ہونے سے بچایا ہے، کاغذی کتاب پر چھپائی کے دوران بہت سارے وسائل صرف ہوتے ہیں، جن میں بجلی، پرنٹنگ مشینوں کو چلانے کے لیے ایندھن وغیرہ، اس کے علاوہ کتابوں کی وہ ضخیم تعداد جو فروخت نہ ہونے کے سبب ضائع کرنی پڑجاتی ہیں تاکہ انہیں اسٹور کرنے کے خرچ سے بچا جاسکے!
کم قیمت: مہنگی کاغذی کتابوں کے مقابلے میں برقی کتابیں سستی ہوتی ہیں اور ان پر شپمنٹ کا بھی کوئی خرچ نہیں آتا کیونکہ انہیں خریدتے ہی یہ چند سیکنڈز میں دستیاب ہوجاتی ہیں جبکہ کاغذی کتاب کی شپمنٹ سے وصولی تک فاصلے کے اعتبار سے کافی وقت صرف ہوتا ہے۔ مفت کتابوں کے شیدائی کوئی بھی مفت کتاب انٹرنیٹ سے منسلک کسی بھی کمپیوٹر کے ذریعے پڑھ سکتے ہیں جس کے لیے فقط ایک براؤزر کی ضرورت ہوتی ہے۔

برقی کتابوں کے عیب

میدانِ جنگ کے اْس طرف کاغذی کتابیں چھاپنے والے پبلشر برقی کتابوں کے عیب نمایاں کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے۔ بعض پبلشر برقی شکل میں اپنی کتابیں شائع کرنے سے قطعی طور پر انکاری ہیں، مزید برآں ہر شخص اسکرین پر پڑھنے سے راحت محسوس نہیں کرتا، بعض لوگوں کو سر درد شروع ہوجاتا ہے، بعض لوگ گھنٹوں اسکرین پر نظریں جمائے رکھنے کی وجہ سے آنکھوں میں درد کی شکایت کرتے ہیں۔
برقی پائیریسی: پائیریسی کے قوانین کی وجہ سے نشر واشاعت اور ملکیت کے حقوق پر خوف کے کالے بادل منڈلا رہے ہیں کیونکہ برقی کتابوں کو کاپی، تقسیم اور شیئر کرنا کاغذی کتابوں کے مقابلے میں انتہائی آسان ہے۔ رپورٹس کے مطابق مارکیٹ میں دستیاب ساٹھ فیصد کتابیں پائیریٹڈ یعنی چوری کی کتابیں ہیں جس کا مطلب ہے کہ برقی کتابوں کی دنیا کو عالمی قوانین اور برقی کاروائیوں کی عالمی پیمانے پر ضرورت ہے تاکہ کاغذی کتابوں کی طرح ان کی فروخت کو منظم کیا جاسکے، ورنہ پائیریسی کمپیوٹر سافٹ ویئر، فلموں اور موسیقی کی طرح ان پر بھی چھا جائے گی۔ پائیریسی کی وجہ سے موسیقی اور فلم انڈسٹری کو شدید نقصانات کا سامنا ہے، تاہم کچھ ایسی ٹیکنالوجیز ہیں جن کے ذریعے اس صورتحال کے آگے بند باندھا جاسکتا ہے جیسے کتاب کے کاپی کے عمل پر حد لگانا۔
ای بک ریڈرز اور لیپ ٹاپس کی قیمتوں میں اضافہ: رائج ہوجانے کے باوجود ان کی قیمتیں ابھی تک زیاہ ہیں تاہم یہ مسئلہ لیپ ٹاپس اور ای بْکس ریڈرز کے درمیان مقابلہ کی وجہ سے مستقبل میں ختم ہوجائے گا، اور ویسے بھی برقی کتابوں کو ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر اور اسمارٹ فونز میں با آسانی پڑھا جاسکتا ہے۔
کاغذی کتاب کی عادت: قارئین کی ایک بہت بڑی تعداد خاص کر بزرگ حضرات روایتی کاغذی کتاب سے چمٹے ہوئے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ برقی کتاب کے استعمال سے وہ فطرت سے ہٹ جائیں گے اور کتاب اور قاری کا روایتی جذباتی تعلق ختم ہوجائے گا، یقینا کاغذی روایتی کتاب اپنی طویل تاریخ کے سبب معاشروں میں اپنی گہری جڑیں رکھتی ہے۔

میدانِ جنگ سے کچھ حقائق

کچھ حقائق میدانِ جنگ میں اپنا آپ منوا رہی ہیں جن کا خلاصہ کچھ یوں کیا جاسکتا ہے:
اگرچہ برقی کتاب کا مفہوم ستر کی دہائی سے ہی جانا پہچانا ہے جب الینیوا یونیورسٹی میں گیٹنبرگ منصوبہ شروع ہوا، تاہم برقی کتاب جیسا کہ اب ہم اسے جانتے ہیں موبائل ڈیوائسس کی آمد کے بعد ہی رائج ہوسکا جیسے کینڈل جسے ایمازان نے 2007ء میں متعارف کرایا اور اس سے برقی کتابوں کی دنیا میں ایک انقلاب برپا ہوگیا اور نشر واشاعت کی دنیا میں بنیادی تبدیلی دیکھنے کو ملی اگرچہ یہ اب بھی پوری طرح روایتی کاغذی کتاب کی جگہ لینے میں کامیاب نہیں ہوسکا، برقی کتابوں کی مقبولیت اور پھیلاؤ میں انٹرنیٹ نے اہم کردار ادا کیا۔
کسی کتاب کو خرید کر اس کا فوری طور پر مطالعے کے لیے دستیاب ہوجانا ایک ایسی خوبی تھی جس کا مقابلہ روایتی بک اسٹور نہیں کر پائے جب تک کہ وہ برقی ٹیکنالوجی کو نہیں اپناتے۔ برقی کتابوں کے رواج کی وجہ سے اب بہت سارے روایتی کتابوں کے اسٹور اپنی ویب سائٹس پر کتابوں کے برقی نسخے رکھتے ہیں جس کا اثر ان کے کام کرنے کے طریقہء کار پر پڑا۔ مثال کے طور پر بیرنز اینڈ نوبل کمپنی ایک ملین سے زائد برقی کتابیں فراہم کرتی ہے جن کا مطالعہ کمپنی کے ہی نوک  (Nook) نامی ریڈر پر کیا جاسکتا ہے جسے اس نے ایمازان کے کینڈل کا مقابلہ کرنے کے لیے متعارف کرایا تھا۔
روایتی کتابوں کے پبلشروں نے شدید مالی نقصانات اُٹھانے کے بعد ہی برقی ٹیکنالوجی کو اپنایا، مثال کے طور پر 2010 کے اواخر میں بیرنز اینڈ نوبل کے خسارے کی رقم 63 ملین ڈالر تک پہنچ گئی تھی اور کمپنی ڈیفالٹر ہونے کے نہج پر تھی کیونکہ برقی کتابوں کی فروخت میں وہ ایمازان کا مقابلہ کرنے سے قاصر تھی تاہم کمپنی نے یو ٹرن لیتے ہوئے فوری طور پر برقی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی اور فناء سے بچ گئی۔

مطالعے پر انٹرنیٹ کے اثرات

خوبیوں اور خامیوں کے ضمن میں بعض ماہرین کہ کہنا ہے کہ لوگ اب پہلے سے کم پڑھتے ہیں جو درست ہے مگر صرف تحریر کی مخصوص صورتوں میں، حقیقت یہ ہے کہ لوگ انٹرنیٹ پر مختلف ویب سائٹس، سوشل نیٹ ورکس، بلاگ، فورم، خبروں کی سائٹس، ای میلز اور چیٹ کی صورت میں شاید پہلے سے بھی کہیں زیادہ مطالعہ کر رہے ہیں۔ اب مطالعہ صرف چھپے ہوئے افسانوں، درسی کتابوں، رسالوں، اخبارات، کالموں اور کہانیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اب مطالعہ ایک اور میڈیم پر منتقل ہوگیا ہے جسے انٹرنیٹ کہتے ہیں جہاں یہ ساری مطبوعات برقی شکل میں دستیاب ہیں۔

(یہ تحریر کمپیوٹنگ شمارہ مارچ 2013  میں شائع ہوئی)