فیس بک کے ادب و آداب

سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کا ہماری زندگی میں عمل دخل بہت زیادہ ہو چکاہے۔ ہم اپنی ہر چھوٹی بڑی بات ان ویب سائٹس کے ذریعے دوسروں سے شیئر کرتے ہیں۔ کوئی بھی تقریب ہو اس کا احوال اور تصاویر جب تک فیس بک وغیرہ کے ذریعے دوسروں تک نہ پہنچائیں ہمیں چین نہیں آتا۔

فیس بک چونکہ اس وقت سب سے مقبول سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ ہے اس لیے نہ صرف ہر کوئی اس ویب سائٹ پر موجود ہوتا ہے بلکہ تصاویر و اسٹیٹس بھی اپ ڈیٹ کرنے میں دن رات مصروف ہے۔

فیس بک ہماری زندگی کا ایک لازمی جُزو بن چکا ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف دوستیاں، رشتے داریاں بڑھ رہی ہیں بلکہ دشمنیاں بھی پیدا ہو رہی ہے۔ فیس بک کو بہتر طور پر استعمال کرنے کے لیے ہمیں اس کے کچھ ادب و آداب معلوم ہونے چاہئیں۔ ضروری نہیں کہ ہر کوئی ان آداب کو ملحوظِ خاطر رکھے، یا ان سے اتفاق کرے۔ آپ ان سب نقاط سے غیر متفق بھی ہو سکتے ہیں لیکن انھیں پڑھ کر آپ کو اندازہ ہو گا کہ اگر فیس بک استعمال کرتے ہوئے ان باتوں کا خیال رکھا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔ اس سے پہلے ہم کمپیوٹنگ میں ایک مضمون ’’بیس باتیں جو ہر فیس بک صارف کو پتا ہونا چاہئیں‘‘ بھی شائع کر چکے ہیں۔ آئیے آپ کو فیس بک کے مزید ادب و آداب سے روشناس کراتے ہیں۔

ذاتی باتیں ذاتی پیغامات تک محدود رکھیں

اپنے کسی دوست کے بارے میں کوئی ذاتی بات اپنی یا اس کی وال پر لکھنے کے بجائے ذاتی پیغام کے ذریعے بھیجیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کے لیے تو وہ بات اتنی اہم نہ ہو لیکن آپ کا دوست اسے سب کے سامنے پیش کر دینا پسند نہ کرے۔ اس لیے جوش کی بجائے ہوش سے کام لیتے ہوئے پہلے ذاتی پیغام میں ایک دوسرے سے بات کر لیں۔ کیونکہ فیس بک ایک عوامی پلیٹ فارم ہے، اگر آپ نے کوئی ذاتی بات لکھ دی تو آپ کو اندازہ نہیں وہ کہاں تک پہنچ سکتی ہے۔

پہلے تولو پھر بولو

فیس بک پر آپ کے اتنے دوست اور جاننے والے ہوتے ہیں کہ سب کے مذہبی، سیاسی خیالات یا سوچ، پسند اور ملازمت وغیرہ کے حوالے سے آپ کو پتا نہیں ہوتا۔ اس لیے کچھ بھی شیئر کرنے سے پہلے ایک دفعہ سوچ لیں کہ کہیں آپ کسی کی دل آزاری کا سبب نہ بنیں۔ مثلاً آپ کسی مذہبی تہور، کسی سیاسی جماعت یا کسی بھی حوالے سے کوئی منفی بات کرتے ہیں، جو آپ کی نظر میں شیئر کرنا تو کوئی غلط بات نہیں ہے لیکن جب کوئی آپ سے متضاد رائے رکھنے والا اس بات کو اپنی فیڈ میں دیکھے گا تو اسے اچھا نہیں لگے گا۔ اس لیے کچھ بھی شیئر کرنے سے پہلے ایک دفعہ ٹھنڈے دماغ سے سوچ لینا بہتر ہے۔

فیس بک ایک اچھی چیز ہے، اسے مثبت کاموں کے لیے استعمال کریں۔ دوسروں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے متنازع باتیں مت شیئر کریں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کل کلاں آپ کی اپنی سوچ بدل جائے، تب آپ کو احساس ہو گا کہ غلط چیز شیئر ہو گئی۔ آپ اس پوسٹ کو جا کر ڈیلیٹ تو کر سکتے ہیں لیکن تب تک دوسرے آپ سے بدگمان ہو چکے ہوں گے۔

ذاتی خبریں فون کے ذریعے دیں

اگر کوئی ذاتی خبر چاہے خوشی یا غم کی ہو بہتر ہے کہ اپنے قریبی دوستوں کو بذریعہ فون یا ایس ایم ایس دیں۔ یہ بات صرف فیس بک کے ادب و آداب کے دائرے میں نہیں آتی بلکہ ہماری عام زندگی میں بھی رائج ہونی چاہیے۔ ذاتی خبریں خاص کر دوسروں کے بارے میں۔

ہو سکتا ہے جس کے بارے میں آپ شیئر کر رہے ہیں وہ اسے پسند نہ کرے۔ اس کے علاوہ سنی سنائی خبریں، جن کے مستند ہونے کا آپ کو پتا بھی نہ ہو فوراً شیئر کرنے سے پہلے فون پر تصدیق ضرور کر لیں۔

تبصروں پر جواب دیں

اگر آپ کچھ اسٹیٹس لگاتے ہیں اور آپ کے دوست اسے لائیک کرتے ہیں یا اس پر تبصرہ کرتے ہیں تو آپ جوابی تبصرہ کر کے، ان کے تبصرے کو لائیک کر کے یا سب لائیک کرنے والوں کا شکریہ ادا کر کے انھیں بتا سکتے ہیں آپ نے ان کی ایکٹیویٹی کو نوٹ کیا ہے۔

اپنے اسٹیٹس پر خاص کر سوالیہ تبصروں کو ضرور جواب دیں۔ اگر آپ ہمیشہ دوسروں کے تبصرے اور لائیک نظرانداز کرتے رہیں گے تو ان میں کمی آتی جائے گی۔ یاد رکھیں کہ کوئی بھی ’’دیواروں سے باتیں کرنا پسند نہیں کرتا۔‘‘

ہر پوسٹ پر تبصرے سے گریز کریں

اگر آپ کا کوئی بہت اچھا دوست ہے تو اپنی دوستی ظاہر کرنے کے لیے ضروری نہیں ہے کہ آپ اس کی ہر پوسٹ کو لائیک یا اس پر تبصرہ کریں۔ اس سے یہ تاثر بھی پیدا ہوتا ہے کہ آپ ہر پوسٹ بنا پڑھے ہی لائیک کیے جاتے ہیں۔ اگر آپ چاہیں تو ہر پوسٹ لائیک کر سکتے ہیں لیکن کبھی کبھی کسی بات کر نظرانداز کر دینا بھی اچھا ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ دوسرے آپ کی اس عادت کو نوٹ کر رہے ہوتے ہیں کہ آپ فلاں بندے کی ہر پوسٹ کو باقاعدگی سے لائیک کر رہے ہیں۔

اپنے لہجے کا خیال رکھیں

لکھی ہوئی بات پڑھنے، اور بولی ہوئی بات کے سننے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ جیسے آپ کوئی بات کریں اور کوئی دوسرا سننے والا جب تیسرے کو بتائے تو بات میں زمین آسمان کا فرق آسکتا ہے اور یہ فرق ہوتا ہے لہجے کا۔ یعنی تیسرے نے چونکہ براہِ راست بات آپ سے نہیں سنی اس لیے اسے نہیں پتا کہ آپ کا لہجہ کیسا تھا۔

اسی طرح فیس بک پر اسٹیٹس اپ ڈیٹ کرتے ہوئے یہ بات دھیان میں رکھیں کہ آپ کا لہجہ مناسب ہو۔ پڑھنے والا اسے کسی بھی ذمرے میں سمجھ سکتا ہے۔ چونکہ ہر کسی کا ٹائپ کرنے کا اسٹائل الگ ہوتا ہے اس لیے کچھ لکھتے ہوئے خیال رکھیں کہ کوئی اس کا غلط مطلب نہ نکال لے۔

سادہ الفاظ میں ہلکی پھلکی اور خوشگوار باتوں کو اپنا فیس بک اسٹیٹس بنائیں۔ جملے کے آخر میں موجود ایک مسکراہٹ بھی اچھا اثر ڈال سکتی ہے۔ مشہو ر کہاوت ہے کہ ’’مسکرائیں… دنیا آپ کے ساتھ مسکرائے گی۔‘‘

اجنبی لوگوں کو فرینڈ ریکویسٹ مت بھیجیں

کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ فیس بک پر زیادہ سے زیادہ دوست ان کی شہرت کو ثابت کرتے ہیں۔ اگر آپ کے لاتعداد دوست ہیں تو یہ بات ٹھیک بھی ہے لیکن اصلی دوست۔ ایسے لوگ نہیں جن کو آپ جانتے بھی نہیں، بس فیس بک پر کہیں نظرآئے اور آپ نے انھیں ایڈ کر لیا۔

دُور کی جان پہچان کے لوگ یا ایسے لوگ جن کے بارے میں آپ جاننا چاہتے ہوں یا ان کو کسی دوسرے کے حوالے سے جانتے ہوں ایڈ کرنے میں کوئی بُرائی نہیں لیکن اجنبی لوگوں اور خاص کر بڑی تعداد میں اجنبی لوگوں کو فیس بک پر ایڈ کرنا کسی بھی طرح آپ کے مشہور ہونے کو ثابت نہیں کرتا، بلکہ یہ آپ کی پروفائل پر منفی اثر ڈالتا ہے۔

دوسروں کی بُری تصاویر مت شیئر کریں

موبائل کے ذریعے کیمرہ ہر وقت ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اندر کا فوٹو گرافر ہر وقت ہر لمحے کو کیمرے میں قید کرنے کو تیار رہتا ہے۔ ایسے میں دوست احباب کی کئی نازیبا یا بُرے پوز میں تصویریں بن جاتی ہیں۔ ایسی تصاویر ہنسی مذاق کی خاطر اپنی حد تک صحیح ہیں لیکن انھیں فیس بک پر شیئر کر دینا کسی طرح موزوں نہیں۔

ایسی تصویر شیئر کر کے دوست کو ٹیگ کرنا اور زیادہ بُرا ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس طرح یہ اس کے دوستوں اور فیملی تک بھی پہنچ جاتی ہے جس نہ صرف وہ مذاق کا نشانہ بن سکتا ہے بلکہ اس کی فیملی بُرا بھی مان سکتی ہے۔

ذاتی تشہیر مت کریں

اپنی نیوز فیڈ دیکھتے ہوئے آپ کو کسی دوست کی کافی پوسٹس نظر آتی ہیں اور بار بار نظر آتی ہیں۔ کیونکہ کچھ لوگ خودنمائی بہت پسند کرتے ہیں اور وہ ہر بات دوسروں تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ مثلاً میں فلاںہوٹل میں ہوں، کھانا بہت اچھا ہے، فلاں میرے ساتھ ہے، اب ہم سنیما جا رہے ہیں فلاں فلاں۔ ہر دس پندرہ منٹ بعد ایک نئی پوسٹ دیکھتے ہوئے آپ عاجز آجاتے ہیں اور آخرکار اس دوست کی تمام پوسٹس کو ہائیڈ کر دیتے ہیں۔ اگر آپ دوسروں کے ساتھ ایسا کرتے ہیں تو کوئی آپ کے ساتھ بھی ایسا کر سکتا ہے لیکن اس صورت میں کہ آپ بھی ایسے تواتر سے پوسٹس کرتے ہوں۔

یہ کوئی غلط بات نہیں لیکن انسانی مزاج مختلف ہوتے ہیں۔ پڑھنے والے ضروری نہیں کہ آپ کی ہر پوسٹ سے لطف اندوز ہوں اس لیے بہتر ہے کہ چاہے اپنے بارے میں شیئر کریں لیکن ایسا کچھ شیئر کریں کہ سب کی دلچسپی برقرار رہے۔

چین پوسٹس

آپ نے فیس پر یقیناً چین پوسٹس دیکھی ہوں گی، ایسی پوسٹس جو بے شمار لوگ شیئر کر چکے ہوتے ہیں اور آپ کو بھی اسے شیئر کرنے کی تلقین یا درخواست کی جاتی ہے۔ بعض پوسٹس تو ایسی ہوتی ہیں جن میں تنبیہ بھی موجود ہوتی ہے کہ اگر آپ نے اسے شیئر نہ کیا تو نقصان اُٹھائیں گے۔ بعض پوسٹس کے پیچھے کوئی رضاکارانہ مقصد پوشیدہ ہوتا ہے، بعض ثواب کے لیے شیئر کرنے کا کہا جاتا ہے اور زیادہ تر کے پیچھے تو کوئی تشہیری عمل کارفرما ہوتا ہے۔ اگرچہ اس بات میں بھی کوئی برائی نہیں لیکن بعض اوقات زیادہ اچھی بات بھی اچھی ثابت نہیں ہوتی۔ بار بار ایسی پوسٹس شیئر کرنے سے کوئی دوسرا آپ سے بے زار ہو سکتا ہے۔

دوسروں کی رائے کا احترام کریں

انٹرنیٹ کی دنیا میں ہر کوئی آزاد ہے۔ ہر انسان اپنی الگ رائے رکھتا ہے اس لیے فیس بک پر اپنی رائے کا اظہار کرنے میں سبھی آزاد ہیں۔ دوسروں کی کسی بات سے اگر آپ کو اتفاق نہیں تو اُن کو صحیح راہ پر لانے کے لیے خدائی فوجدار بننے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر آپ کسی سے متفق نہیں تو کوئی بات نہیں، اس بات کو نظر انداز کر کے اگلے چلیں۔ جذبات میں آکر اُلجھنا آپ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر دوسروں کے لیے بدگمانی مت پالیں۔

ایک چھوٹی سی بات پر اگر آپ کسی دوست سے اُلجھ جاتے ہیں تو کچھ دن وہ کوئی ایسی پوسٹ بھی لگا سکتا ہے جس سے آپ متفق ہوں، پھر آپ اس کی تائید کرنے میں ہچکچائیں گے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ صبروتحمل کا مظاہرہ کریں۔ ہمیشہ دل بڑا رکھیں۔ اگر کسی کی کوئی بات پسند نہ آئے تو فوراً جتلانے کی بجائے درگزر کر دیں۔ غصہ ویسے بھی حرام ہے اس لیے ہمارا کہنا تو یہ ہے کہ آپ کے اندر کتنی برداشت ہے اسے آزمانے کے لیے آپ فیس بک استعمال کریں اور ناپسندیدہ پوسٹس درگزر کرتے جائیں۔ اور جب یہی لوگ کوئی اچھی چیز پوسٹ کریں تو اسے لائیک کر کے ان کی تعریف کریں۔ دیکھیے گا اس عمل سے نہ صرف آپ کی مقبولیت میں اضافہ ہو گا بلکہ آپ کو خود بھی اچھا محسوس ہو گا۔

اکثر ایسا بھی دیکھنے میں آیا کہ لوگ اپنے دوست کے دوست سے تبصروں میں جنگ کر رہے ہوتے ہیں اس طرح بیچ والا دوست بلاوجہ پریشانی اُٹھاتا ہے۔

ضروری نہیں ہوتا کہ چھڑنے والی بحث میں آپ ہر تبصرے کا فوراً جواب دیں، کہ اگر کہیں آپ نے جواب نہ دیا تو اگلا یہ نہ سمجھے آپ لاجواب ہو گئے۔ بعض اوقات بحث و مباحثے سے فرار اس بحث کو وہیں ختم کر سکتا ہے۔ ورنہ بہتر تو یہی ہے کہ شائستگی کا دامن تھامے رکھیں۔ اگر کوئی آپ سے متفق نہیں ہو رہا تو معذرت کرتے ہوئے گفتگو سے الگ ہو جائیں۔ کیونکہ یہ تمام بحث دیگر لوگوں تک پہنچ رہی ہوتی ہے اور لوگ آپ کے بارے میں منفی رائے پال سکتے ہیں۔

پرائیویسی سیٹنگز

اپنے فیس بک اکاؤنٹ کی پرائیویسی سیٹنگز ضرور چیک کریں۔ قریبی دوستوں کے علاوہ رشتے دار، جان پہچان کے لوگ اور دفتر کے ساتھی بھی فیس بک پر ایڈ ہوتے ہیں اس لیے کچھ بھی شیئر کرنے سے پہلے یہ دھیان میں رکھیں کہ آپ کی پوسٹ کن کن لوگوں تک پہنچے گی۔ بہتر ہے کہ دوستوں کے مختلف گروپس بنا لیں۔ اگر کوئی بات صرف فیملی کے لوگوں سے شیئر کرنے والی ہے تو صرف فیملی کے لیے پوسٹ کریں، جو دوستوں سے شیئر کرنے والی بات ہو اسے دوستوں سے کریں اور اگر عام سی کوئی بات ہے جسے آپ سب سے شیئر کرنا چاہتے ہیں تو پوسٹ کرتے وقت پبلک بھی منتخب کر سکتے ہیں۔

اختتامیہ

ہم یہ نہیں کہتے کہ آپ ان تمام ہدایات پر سختی سے کاربند ہو کر فیس بک سے لطف اندوز ہونا ہی چھوڑ دیں۔ دراصل فیس بک ایک دودھاری تلوار ہے، اسے احتیاط سے استعمال کرنا ہی عقل مندی کا تقاضا ہے۔

8 تبصرے
  1. Ali Haider Saleem says

    Salam admin.
    apki tehreer parh k bohat khushi hoi.
    umeed hai meri trah baqi ahbaab bhe in adaab ka khayal rakhen ge.

  2. Hashim Zahiri Afghan says

    zabbbbbbbbbar 10,,, buht he aala hidayat han

  3. Riaz Sultan says

    salam. nice instructions

  4. Riaz Sultan says

    salam. nice instructions

  5. Abdul Khaliq says

    behtrren hedayatnama

  6. Kabir Khan says

    Great 🙂

  7. Guest says

    Great, Thank you!

  8. Kabir Khan says

    Hello Everybody.

Comments are closed.