گوگل شاید ARM پر مبنی اپنے سرورز بنا رہا ہے

673

گزشتہ چند سالوں کے دوران انٹل اور اے آرایم کی ایک دوسرے کے کاروباروں میں گھسنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ انٹل کی کوشش رہی کہ وہ کسی طرح موبائل ڈیوائسس کے لئے کامیاب مائیکروپروسیسر بنا سکے جبکہ دوسری جانب اے آر ایم سرورز کے لئے مائیکروپروسیسر بنانے میں مصروف رہا۔ دونوں ہی کمپنیوں کو ان کوششوں کے نتیجے میں معمولی کامیابی ملی لیکن یہ ایک دوسرے سے کاروبار متاثر نہ کرسکیں۔ انٹل کے تیاری کردہ مائیکروپروسیسر پر مبنی موبائل ڈیوائسس پسند کی گئیں ۔ اسی طرح اے آر ایم کی لائسنس یافتہ کمپنیوں نے انٹل زیون اور ایٹم کے مقابلے پر اے آر ایم پروسیسرز والے سرورز مارکیٹ میں فروخت کے لئے پیش کئے۔

اب بلوم برگ کے مطابق تازہ ترین خبر یہ ہے کہ گوگل ARM پر مبنی اپنا سرور بنانے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ اگر یہ بات مستقبل میں سچ ثابت ہوتی ہے تو یہ انٹل کے کاروبار کے لئے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوسکتی ہے۔ مستقبل سے مراد یہ مستقبل قریب ہرگز نہیں۔ اگر فرض کرلیا جائے کہ گوگل نے اگلے سال سے ہی ARM پر مبنی سرورز کی تیاری شروع کردی تو ان سرورز کو گوگل کے ڈیٹا سینٹرز تک پہنچے اور لگنے میں کئی سال درکار ہونگے۔ ایک سی پی یو کی ڈیزائننگ میں ہی کئی سال لگ سکتے ہیں، پھر اس کی فیبری کیشن، اس کے لئے دیگر آلات کی تیاری سے لیکر انفرااسٹرکچر کی تبدیلی تک کئی مراحل ہیں جن میں بذات خود کئی سال لگ سکتے ہیں۔

انٹل کو کبھی بھی کسی ایسی کمپنی سے مقابلے کا سامنا نہیں رہا جو اس کے ہم عصر ہو۔ اے ایم ڈی یا آئی بی ایم انٹل کا مقابلہ نہیں کرسکے اور دونوں ہی الگ نوعیت کی مارکیٹس میں کام کررہے ہیں۔ لیکن گوگل کی بات الگ ہے۔ گوگل کی ڈیزائن کردہ چپ کو جو اہمیت ملنی ہے، وہ شاید اے ایم ڈی یا آئی بی ایم کی تیار کردہ چپ کو نہ ملے۔ حالانکہ دونوں ہی کمپنیاں دہائیوں سے مائیکروپروسیسرز بنا رہی ہیں۔ گوگل ماضی میں کئی مستحکم کمپنیوں کو ناکوں چنے چبوا چکا ہے اور ممکن ہے اس بار انٹل کی باری ہو۔