ایچ بی او کی ہیکر کو ڈیٹا لیک نہ کرنے کے لیے ڈھائی لاکھ ڈالر کی پیشکش

2,210

ایچ بی او کی مشکلات کم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ ایک ہفتہ قبل ہی کسی ہیکر یا ہیکروں کے گروہ نے ایچ بی او کے سرور سے بڑی تعداد میں ڈیٹا چرایا اور پھر معروف ٹی وی سیریز گیم آف تھرونز کے تازہ ترین سیزن کی چوتھی قسط کا پورا اسکرپٹ آن لائن کردیا۔ یہ گیم آف تھرونز کے فینز کے لیے کسی صدمے سے کم بات نہیں تھی۔ ہیکروں نے اسی پر اکتفاء نہیں کیا، بلکہ اس ٹی وی سیریز کے تمام اداکاروں کے ذاتی فون نمبر اور ان کے گھر کے پتے بھی آن لائن کردیے۔
اس ڈیٹا کو چرانے والا یا والے چاہتے ہیں کہ ایچ بی او انہیں ڈیٹا کو آن لائن کرنے سے روکنے کے لیے تاوان ادا کرے ۔ ایچ بی او ایسا کرنے سے انکاری ہے۔

دوسری جانب آج ہی اس ہیکر نے ایچ بی او کے ایگزیکٹیو زکی جانب سے اسے بھیجی گئی ایک ای میل بھی آن لائن کی ہے جس میں ایچ بی او کے اعلیٰ آفسر ہیکر کو ڈھائی لاکھ ڈالر کی رقم ادا کرنے پر راضی ہیں۔ لیکن یہ رقم وہ تاوان نہیں بلکہ بگ باؤنٹی پروگرام کے تحت دینا چاہتے ہیں۔ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں بگ باؤنٹی پروگرام کے تحت اپنی ایپلی کیشنز، ویب سائٹس اور دیگر مصنوعات میں خرابی ڈھونڈنے والے کو انعام دیتی ہیں۔

دوسری جانب ہیکر کا کہنا ہے کہ اسے اپنی چھ ماہ کی تنخواہ کے برابر تاوان چاہیے۔ اور موصوف کے بقول اس کی تنخواہ 12 سے 15 ملین ڈالر سالانہ ہے۔ یعنی اس حساب سے ہیکر کم از کم 6 ملین ڈالر کا تاوان چاہتا ہے۔

اس معاملے پر نظر رکھنے والے لوگ کہتے ہیں کہ ایچ بی او کی پیشکش دراصل ٹائم حاصل کرنے کی کوشش ہے تاکہ وہ اندازہ لگا سکے کہ ہیکر کے پاس کتنا ڈیٹا ہے اور وہ کس نوعیت کا ہے۔ ایچ بی او کو ڈر ہے کہ کہیں سونی کمپنی کی طرح ان کا تمام حساس ڈیٹا بھی ہیکر آن لائن نہ کردے۔ سونی کمپنی کی ساکھ ہیکنگ کے مذکورہ واقعہ کے بعد بالکل تباہ ہوگئی تھی۔