بچوں کے اسمارٹ فون کی مکمل نگرانی کریں

487

آپ نے کمپیوٹنگ میگزین میں ’’کڈز پلیس‘‘ ایپلی کیشن کے بارے میں پڑھا ہو گا۔ اینڈروئیڈ کے لیے دستیاب اس ایپلی کیشن کی مدد سے فون میں بچوں کے لیے گیم کھیلنے کا الگ حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

kids-place

اس طرح وہ فون کی دیگر ایپلی کیشنز تک نہیں پہنچ سکتے۔ اگرچہ یہ بہت ہی کارآمد ایپلی کیشن ہے لیکن جب بات آتی ہے بچوں کے فون پر انٹرنیٹ استعمال کرنے کی تو اس حوالے سے یہ کوئی مدد نہیں کرتی۔ خصوصاً جب بچوں کے پاس اپنا ذاتی اسمارٹ فون ہو تو اس صورت میں ان کی نگرانی کرنا اور زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔
تو آئیے آپ کو بتاتے ہیں ’’کسپرسکی سیف کڈز‘‘ ایپلی کیشن کے بارے میں۔ اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ کہاں موجود ہے، اس کی فیس بک پر کیا سرگرمیاں ہیں، وہ کن کن کو کالز یا میسج وغیرہ کرتا ہے تو اس کے لیے بچے کے فون پر ’’کسپرسکی سیف کڈز‘‘ ایپلی کیشن انسٹال کرنی ہو گی۔
والدین کے لیے یہ ایپلی کیشن کسی نعمت سے کم نہیں۔ کیونکہ وہ اس ایپلی کیشن کی مدد سے ہر وقت بچے کے مقام سے آگاہ رہ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر وہ مخصوص کردہ علاقے سے باہر نکلیں گے تب بھی والدین کو اطلاع مل جائے گی۔انٹرنیٹ پر اچھی چیزوں کے ساتھ ساتھ کئی برائیاں بھی موجود ہیں۔ یہ ایپلی کیشن بچوں کو ایسے خراب مواد سے دُور رکھتی ہے۔

safe-kids

Kaspersky Safe Kids-03کسپرسکی سیف کڈز تقریباً تمام پلیٹ فارمز کے لیے دستیاب ہے۔ اسے میک سسٹم، ونڈوز، اینڈروئیڈ، آئی فون اور آئی پیڈ پر انسٹال کیا جا سکتا ہے۔ جس فون کی نگرانی کرنی ہو اس پر اس ایپلی کیشن کو انسٹال کر کے والدین کو پہلے اپنا اکاؤنٹ بنانا ہو گا تاکہ وہ اس کی مدد سے بچے کی نگرانی کر سکیں۔
اس کے مفت دستیاب ورژن میں اگرچہ محدود فیچرزہیں لیکن عام صارفین کے لیے وہ بھی کافی ہیں۔
جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا کہ یہ ایپلی کیشن بچوں کی کالز اور ایس ایم سے لے کر ان کی فیس بک سرگرمیوں تک کی نگرانی کرتی ہے اس کے علاوہ اس میں یہ فون کتنی دیر استعمال ہوا کو نوٹ کرنے کا فیچر بھی موجود ہے۔ یعنی آپ جان سکتے ہیں کہ بچے کا کتنا وقت فون استعمال کرتے ہوئے گزرا۔ آج کل کے بچے اپنا جتنا وقت اسمارٹ فون پر گزارتے ہیں اس کے لیے یہ فیچر انتہائی کارآمد ہے۔ اس کی مدد سے والدین باآسانی بچوں کی نگرانی کرتے ہوئے اسے نصیحت کر سکتے ہیں کہ وہ اپنا قیمتی وقت کم سے کم اسمارٹ فون پر گزاریں۔
اگر آپ کے بچے اپنا ذاتی اسمارٹ فون رکھنے کی ضد کرتے ہیں تو انھیں فون ضرور دلائیں لیکن اس کی نگرانی بھی ضرور کریں۔ آپ کو ان کی تمام سرگرمیوں کی اطلاع ہونی چاہیے تاکہ وہ کسی برائی میں نہ پڑ سکیں اور والدین بھی بروقت بچوں کو ٹوک سکیں کیونکہ پچھتاوے سے احتیاط بہتر ہے۔
(یہ تحریر کمپیوٹنگ شمارہ جنوری 2016 میں شائع ہوئی)