PHP سیکھیں – حصہ دوم

1,173

حسابی عمل

یوں تو پی ایچ پی میں مختلف حساب انجام دینے کے لئے بہت سے فنکشنز موجود ہیں۔ لیکن ابھی ابتداء میں ہم ریاضی کے بنیادی حسابات جیسے جمع، تفریق، ضرب اور تقسیم کا ذکر کریں گے۔ مندرجہ ذیل کوڈ ملاحظہ فرمائیں۔

<?php
echo (12 +12 . '<br/>');
echo (22 - 12 . '<br/>');
echo (12 * 12 . '<br/>');
echo (12 / 12 . '<br/>');
?>

اس کوڈ میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ بنیادی ریاضی حسابات پی ایچ پی میں کتنی آسانی سے انجام دیئے جاسکتے ہیں۔ ہم نے یہاں ایک وقت میں صرف ایک حساب کروایا ہے لیکن ایک سے زائد کیلکو لیشنز بھی ایک ہی لائن کے کوڈ میں کی جاسکتی ہیں۔ تاہم اس صورت میں آپ کو قوسین کی مدد سے مختلف حسابات کو الگ الگ کرنا پڑسکتا ہے۔

echo (12 / 12 * 52 + 89 -58 . '<br/>');
echo ((12 - 12) * (52 + 89) -58 . '<br/>');

ویری ایبلز

کسی بھی پروگرامنگ لینگویج میں ویری ایبلز کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔ ان کے بغیر کسی پروگرامنگ لینگویج کا تصور کرنا بھی مشکل ہے۔ کسی متغیر یا ویری ایبل کو آپ کسی ڈبے کی طرح سمجھ سکتے ہیں جس میں چیزیں محفوظ کی جاتی ہیں۔ ویری ایبلز کی ڈیٹا ٹائپس بھی ہوتی ہیں۔ جس طرح چینی کے ڈبے میں مرچیں نہیں ڈالی جاسکتیں، اسی طرح ہر قسم کا ڈیٹا کسی ایک ویری ایبل میں محفوظ نہیں کیا جاسکتا۔ ابتداء میں اگر ایسا ہو بھی جائے جیسے کسی اسٹرنگ ویری ایبل میں کوئی نمبر محفوظ کردیا جائے تو کوئی ایرر واقع نہیں ہوتا۔ لیکن جب اس ویری ایبل پر کوئی حسابی عمل کیا جائے گا تو ایرر واقع ہونے کے امکانات خاصے روشن ہونگے۔

آپ نے اوپر حسابی مثالوں میں دیکھا کہ ہم نے اعداد جو جمع تفریق کیا۔ اس میں اعداد hard-code تھے۔ یعنی یہ کسی بھی موقع پر تبدیل نہیں کئے جاسکتے۔ کسی بڑے پروگرام میں ہر بار اس طرح ہارڈکوڈ اسٹیٹمنٹس لکھنا ناممکن ہے۔ اگر آپ کو بہت سے مختلف اعداد کو مختلف مواقع پر جمع کرنا ہے تو ہر بار ان کو ہارڈ کوڈ جمع کرنا غلط ہوگا۔ اس کے بجائے ایک فنکشن بنایا جاسکتا ہے جو کہ دو اعداد کو بطور پیرامیٹر قبول کرے اور جواب میں ہمیں ان کا حاصل جمع فراہم کردے۔ یہ کام ہم ویری ایبلز کے ذریعے ہی انجام دے سکتے ہیں۔

پی ایچ پی میں کوئی ویری ایبل بنانے کے لئے اس کے شروع میں ایک ڈالر کا سائن ($) لگایا جاتا ہے۔ اس کے بعد ویری ایبل کا نام لکھا جاتا ہے۔ ویری ایبل کا نام میں کوئی اسپیس استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ انڈ اسکور (_) کی اجازت ہے۔ یہ بات بھی یاد رہے کہ ویری ایبل کا نام صرف کسی کریکٹر یا انڈر اسکور ہی سے شروع کیا جاسکتا ہے۔ ملاحظہ کریں یہ مثالیں جن میں درست ویری ایبلز بنائے گئے ہیں۔

$a;
$a_longish_variable_name;
$_2453;
$p3213;

ویری ایبل کا نام بناتے ہوئے اس بات کوبھی مد نظر رکھیں کہ یہ نام ایسا ہو جو اس ویری ایبل کے مقصد کو واضح کرتا ہو۔ نام تحریر کرتے ہوئے اسے چھوٹے بڑے حروف سے لکھنا بھی اسے سمجھنے میں بہت معاون ثابت ہوتا ہے۔ غیر واضح اور مبہم ناموں کی وجہ سے کوڈ کو بعد میں سمجھنا بے حد مشکل ہوجاتاہے۔

آئیے ویری ایبلز کی مدد سے اب حسابی عمل والی مثال کو دوبارہ سمجھتے ہیں۔

<?php
$a = 12;
$b = 12;
$c = 'This is a String'
echo ($a + $b . '<br/>');
echo ($a - $b . '<br/>');
echo ($a * $b . '<br/>');
echo ($a / $b . '<br/>');
echo ($c . '<br/>');
?>

آپ اس مثال میں دیکھ سکتے ہیں کہ ویری ایبل $c میں ہم نے ایک جملہ محفوظ کیا ہے اور یہ جملہ کوٹس کے درمیان لکھا گیا ہے۔ جبکہ دیگر دو ویری ایبلز چونکہ نمبر ہیں اس لئے انہیں کوٹس میں نہیں لکھا گیا۔

یہاں آپ کو یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ = کا سائن اسائنمنٹ آپریٹر کہلاتا ہے۔ یعنی یہ کسی ویری ایبل کو کوئی قدر فراہم کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ مزید آپریٹرز کے بارے میں آپ اسی سلسلے کی آئندہ آنے والی قسطوں میں پڑھیں گے۔
ویری ایبلز کے حوالے سے آپ کو مزید واضح تصور فراہم کرنے کے لئے یہاں دو مثالیں دی جارہی ہیں۔ آپ ان مثالوں کو چلا کر دیکھیں اور ساتھ ہی ان میں اپنی طرف سے بھی کچھ تبدیلیاں کرکے نتائج ملاحظہ کریں۔

<?php
$a = 'This is a String';
$b = 'This is a String as well';
$c = 22;
echo ($a . ' ' . $b . '<br/>');
echo ($a . ' And variable $c has value of ' . $c)
?>
<?php
$a = 2;
echo ('at this time $a = ' . $a);
echo ('<br/>');
$a = 23;
echo ('and now $a = ' . $a);
?>

(اس مضمون کا تیسرا حصہ جلد شائع کیا جائے گا)