اب مصنوعی ذہانت کسی بھی شخص کی تصویر سے اس کے جنسی رجحانات کا پتا چلا سکتی ہے

2,048

سائنسدان مصنوعی ذہانت کو نت نئے شعبوں میں آزما رہے ہیں۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اب مصنوعی ذہانت کسی بھی شخص کی تصویر دیکھ کر اس کے جنسی رجحانات کا پتا چلا سکتی ہے۔

سٹینفورڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں ایک کمپیوٹر الگورتھم سے تصویر کی مدد سے کسی بھی شخص کے ہم جنس پرست ہونے یا نہ ہونے کا پتا چلایا گیا۔ کمپیوٹر الگورتھم نے مردوں میں 81 فیصد اور عورتوں میں 74 فیصد مرتبہ درست نتائج دئیے۔

سائنسدانوں نے 35 ہزار مردوں اور عورتوں کے چہروں کی تصاویر پر اس الگورتھم کا تجربہ کیا۔ یہ تصاویر ایک امریکی ڈیٹنگ ویب سائٹ سے لی گئیں، جہاں ہزاروں افراد نے اپنی معلومات کو پبلک کیا ہوا تھا۔

مصنوعی ذہانت کے مقابلے میں انسانوں کو تصویر دیکھ کر کسی کے جنسی رجحانات کا پتا چلانے کا کہا گیا تو اُن کے نتائج مصنوعی ذہانت سے کافی بُرے تھے۔ انسانوں نے مردوں میں 61 فیصد اور عورتوں میں 54 فیصد درستی کے ساتھ جنسی رجحانات کا اندازہ لگایا۔

جب سافٹ وئیر کو ایک ہی شخص کی پانچ تصاویر کا تجزیہ کیا تو اس کےنتائج میں مزید درستی آئی۔ اس بار سافٹ وئیر نے مردوں میں 91 فیصد اور عورتوں میں 83 فیصد درست نتائج دئیے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انسانی چہرے میں بھی جنسی رجحانات کی معلومات ہوتی ہیں ، جنہیں انسانی دماغ سمجھتا ہے۔

اس تحقیق کے سامنے آنے پر بہت سے لوگوں نے اس پر تنقید کی بھی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ جنسی رجحانات لوگوں کا ذاتی مسئلہ ہے جبکہ سافٹ وئیر سے لوگوں کے رجحانات کا پتا چلانا اُن کی پرائیویسی کی خلاف ورزی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کا سافٹ وئیر بنانا کافی نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ اس سے لوگ اپنے شریک حیات اور نوجوان اپنے دوستوں کے بارے میں حساس معلومات حاصل کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ ایسے ممالک جہاں ہم جنس پرستی جرم ہے، وہاں حکومتوں کے لیے ہم جنس پرستوں کو پکڑنا آسان ہو جائے گا۔