ای میل کے جواب میں اوسطاً صرف پانچ الفاظ لکھے جاتے ہیں، ایک تحقیق

297

دفاتر میں کام کرنے والے نوجوانوں کو اکثر شکایت رہتی ہے کہ بزرگ ملازمین ای میل کا جواب بہت دیر سے دیتے ہیں۔ اسی طرح بزرگوں کو نوجوانوں سے شکوہ رہتا ہے کہ وہ ان کی تفصیلی ای میل کے جواب میں دو چار لفظ لکھ کر بھیج دیتے ہیں۔ اب ایک تحقیق سے نوجوانوں اور بزرگوں کے ای میل پیغامات لکھنے کی عادتوں کی تجزیہ کیا گیا ہے۔ یہ تحقیق جس میں شامل ِ تحقیق پیغامات کی تعداد کی وجہ سے اسے ای میل پیغامات کے حوالے سے تاریخ کی سب سے بڑی تحقیق کہا جاسکتا ہے، سے پتا چلا کہ بیشتر لوگ جب ای میل کا جواب لکھتے ہیں تو صرف پانچ الفاظ لکھنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ تحقیق کے دوران اسپیم پیغامات کو نظر انداز کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی اور صرف ان پیغامات کو شامل تحقیق کیا گیا جو دو یا دو سے زائد ای میل صارفین نے ایک دوسرے کو ارسال کئے۔

محققین نے پایا کہ کسی موضوع پر جب ای میل پیغامات کے ذریعے بات چیت آگے بڑھتی ہے تو جواب ملنے اور بھیجنے کی رفتار میں بتدریج اضافہ ہوتا ہے۔ لیکن جب گفتگو اپنے اختتام کو پہنچنے لگتی ہے تو ای میل کا آخری جواب پہلے کے جوابات کے مقابلے میں تاخیر سے دیا جاتا ہے۔ جوابات دینے یا ملنے میں تاخیر اس بات کی طرف اشارہ سمجھا جاسکتا ہے کہ اب بات چیت اپنے حتمی انجام کو پہنچنے ہی والی ہے۔

اس تحقیق میں یاہو! کے تقریباً بیس لاکھ صارفین کی جانب سے چند ماہ کے دوران بھیجے گئے ای میل پیغامات کا تجزیہ کیا گیا۔ اس دوران محققین کے علم میں یہ بات آئی کہ بیس سال سے کم عمر نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ای میل پیغام کا جواب لکھنے میں بہت کم وقت صرف کرتے ہیں۔اسی لئے ان کے لکھی ای میل میں گنتی کے چند الفاظ ہوتے ہیں۔ البتہ یہ نوجوان کسی ای میل کا جواب اوسطاً 13 منٹ میں دے دیتے ہیں۔ بیس سال سے زیادہ عمر رکھنے والے افراد کسی ای میل کا جواب دینے میں 16 منٹ لگاتے ہیں جبکہ 36 سے 50 سالہ لوگ 24 منٹ صرف کرتے ہیں۔ اپنی عمر کی پچاس بہاریں دیکھ چکے بزرگ ای میل کا جواب دینے میں اوسطاً 47 منٹ کا وقت لیتے ہیں۔ اس کی وجہ صرف ان کی ٹیکنالوجی سے کم واقفیت نہیں بلکہ ان کا ای میل کے طویل اور تفصیلی جوابات لکھنا ہے۔
اس تحقیق سے پتا چلا ہے کہ ابتدا میں آدھے سے زیادہ ای میل کے جواب میں اوسطاً 43 الفاظ لکھے جاتے ہیں۔ بیس سال سے کم عمر الفاظ کے استعمال میں انتہائی کنجوسی کرتے ہیں اور اوسطاً صرف 17 الفاظ لکھنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ پختہ عمر کے نوجوان البتہ 40 الفاظ لکھتے ہیں۔ تحقیق میں شامل صرف 30 فی صد ای میل پیغامات ایسے تھے جن میں 100 یا اس سے زائد الفاظ استعمال کئے گئے تھے۔ موبائل سے ای میل لکھنے والے کوشش کرتے ہیں کہ ہر ممکن حد تک چھوٹا جواب لکھا جائے۔ ظاہر سی بات ہے کہ موبائل فون سے ٹائپ کرنا آسان کام نہیں۔

یہ بھی پتا چلایا گیا ہے کہ 50 الفاظ پر مشتمل ای میل لکھنے میں نوجوان 39 منٹ صرف کرتے ہیں جبکہ بزرگ 79 منٹ کا وقت لیتے ہیں۔ بزرگوں اور پختہ عمر کے لوگ ای میل میں شامل اپنے الفاظ کو چناؤ انتہائی دیکھ بھال کرکرتے ہیں۔ ساتھ ہی ای میل کی پروف ریڈنگ میں بھی خاصا وقت لگاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی ای میل سے پختگی اور سنجیدگی جھلکتی ہے۔ دوسری جانب نوجوانوں کے ای میل پیغامات عموماً غیر رسمی ہوتے ہیں جبکہ رسمی پیغامات میں بھی غلطیاں عام ہوتی ہیں۔

ایک دلچسپ بات یہ بھی پتا چلی ہے کہ جیسے جیسے موصول ہونے والے ای میل پیغامات کی تعداد بڑھتی ہے، ویسے ہی صارف کے جواب دینے کی صلاحیت بھی کم ہوتی جاتی ہے۔ ایسا نہیں کہ صارفین جواب دینے کی کوشش نہیں کرتے۔ لیکن تحقیق میں دیکھا گیا کہ صارفین زیادہ کوشش کے باوجود تمام ای میل پیغامات کے جواب نہیں دے پاتے۔ ایسے صارفین عموماً ای میل پیغامات کے مختصر جواب دیتے ہیں۔ اس لئے اگلی بار اگر آپ کو اپنی کمپنی کے سی ای او کی جانب سے آپ کی لمبی چوڑی ای میل کے جواب میں صرف تھینکس کا جواب آئے تو برا نہ مانئے گا۔