ریڈ ہیٹ بمقابلہ اوبنٹو لینکس

918

redhatVSubuntu1ریڈ ہیٹ ایک ایسی کمپنی سمجھی جاتی ہے جس نے لینکس سے بہترین طریقے سے استفادہ حاصل کیا ہے۔ اس کمپنی کی بنیاد 1995ء میں رکھی گئی تھی۔ ریڈ ہیٹ ڈسٹری بیوشن از حد مقبول اور شہرت رکھنے والی ڈسٹری بیوشن ہے۔ جو چیز اسے ممتاز بناتی ہے وہ ایسے سافٹ ویئر ہیں جو کمپنی خود تیار کرتی ہے۔ جب بھی کوئی نیا سافٹ ویئر جاری کیا جاتا ہے تو کمپنی اس کا بی ٹا ورژن عوام الناس کی ٹیسٹنگ کے لیے جاری کرتی ہے اور صارف اس قابل ہوتے ہیں کہ کسی بھی قسم کی تنقید کمپنی کو ارسال کر سکیں۔ اس طرح صارفین کی تنقید سے استفادہ کرتے ہوئے مطلوبہ سافٹ ویئر میں بہتریاں لائی جاتی ہیں۔ دنیا کے بیشتر بڑے سرورز ریڈ ہیٹ پر کام کرتے ہیں اور مختلف مقاصد کے لیے اس کا استعمال بہت وسیع ہے۔ صارفین کمپنی کی ویب سائٹ سے اپڈیٹس بھی حاصل کر سکتے ہیں جو ضخیم معلومات اور مفت سافٹ ویئر سے بھرپور ہے۔ کمپنی سرٹیفیکیشن بھی کراتی ہے جسے RHCE یعنی ریڈ ہیٹ سرٹیفائیڈ انجینئر کہا جاتا ہے۔ آئی ٹی کی دنیا میں ریڈ ہیٹ کی سرٹیفیکیشن کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔
وسیع استعمال اور کمیونٹی کی طرف سے بھرپور سپورٹ کے باوجود اس میں ملٹی میڈیا کی سپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ اس کے مفت ورژن کی فراہمی بھی کمپنی نے ختم کردی ہے، 31 مارچ 2003ء کو ریڈ ہیٹ 9 کی ریلیز پر کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ اس ورژن کے بعد کمپنی کوئی بھی مفت ورژن  جاری نہیں کرے گی اور عام صارفین کے لیے اس کی ڈیولپمنٹ ختم کر کے صرف سرورز اور اداروں کے لیے اپنی توجہ مرکوز رکھے گی، تاہم کمیونٹی کی طرف سے بھرپور احتجاج کے بعد کمپنی نے الگ سے فیڈورا لینکس کے اجراء کا اعلان کیا تھا جو مفت دستیاب ہوگی۔
فیڈورا لینکس ریڈ ہیٹ کا ایک آزاد منصوبہ ہے جس کا مقصد ریڈ ہیٹ کے سابقہ تجربات کی بنیاد پر کمیونٹی کے لیے ایک پختہ اور جدید آپریٹنگ سسٹم فراہم کرنا اور اوپن سورس کمیونٹی کو سپورٹ کرنا ہے۔ فیڈورا کے لیے کمپنی نے ریڈ ہیٹ کے کئی منصوبے آزاد کردیئے جن میں ریڈ ہیٹ کے کئی خصوصی سافٹ ویئر شامل ہیں۔ فیڈورا مکمل طور پر ایک آزاد آپریٹنگ سسٹم ہے اور اس میں ترقی کے امکانات ریڈ ہیٹ کے سابقہ ورژنز سے کہیں زیادہ ہیں اور چونکہ اس میں مختلف سافٹ ویئر کے تازہ ترین ورژن شامل کیے جاتے ہیں لہٰذا اس کا شمار جدید ترین آپریٹنگ سسٹمز میں ہوتا ہے۔ اب چونکہ ریڈ ہیٹ کی خصوصی توجہ کا مرکز سرورز ہیں لہٰذا ریڈ ہیٹ پہلے سے تیار شدہ بائنری پیکجز فراہم کرنے کی بجائے صرف مصدر یعنی سورس کوڈ فراہم کرنے پر اکتفاء کرتا ہے۔ ریڈ ہیٹ کے سورس کوڈ پر مبنی انٹرپرائز سطح کی کئی مفت ڈسٹری بیوشنز دستیاب ہیں جن میں سب سے زیادہ شہرت سینٹ او ایس CentOS کو حاصل ہے جو آج ویب سرورز کی دنیا پر راج کررہی ہے۔
اس میں شک نہیں کہ ڈیسک ٹاپ کی حد تک اوبنٹو لینکس کو فیڈورا لینکس کی نسبت زیادہ مقبولیت حاصل ہے۔ اگرچہ اوبنٹو کے سرورز کی دنیا میں قدم رکھے بھی ایک عرصہ ہوچکا ہے۔ دونوں کا ان دونوں شعبوں میں تکنیکی موازنہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا یعنی ڈیسک ٹاپ اور سرورز کے میدان میں۔ تاہم موازنے سے قبل یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس کا مقصد لینکس کی کسی ڈسٹرو کی قدر گھٹانا یا تضحیک کرنا نہیں ہے، اس کے برعکس تمام لینکس ڈسٹری بیوشنز کا مقصد لینکس کو زیادہ سے زیادہ پھیلانا اور رائج کرنا ہے، مقصد صرف تکنیکی موازنہ اور کچھ حقائق کو سامنے لانا ہے۔
Linux-logoاگر ڈیسک ٹاپ کمپیوٹنگ کی بات کی جائے تو اس دنیا میں فیڈورا اور اوبنٹو میں شاید کوئی بھی غالب اور مغلوب نہیں ہے۔ ہر نئے ورژن میں اوبنٹو ایسی خوبیاں سامنے لاتا ہے جو فیڈورا میں نہیں ہوتیں، اور فیڈورا ایسی خوبیاں لاتا ہے جو اوبنٹو میں نہیں ہوتیں۔ آغاز میں فیڈورا لینکس ہر 8 ماہ بعد جاری کی جاتی تھی، لیکن گزشتہ کچھ عرصہ سے مقابلے کی فضاء کو بڑھانے کے لیے یہ اوبنٹو کے ساتھ ساتھ ہر 6 ماہ بعد جاری کی جانے لگی ہے۔
یہاں موازنہ تقریباً مشکل ہے کیونکہ اس کا انحصار صارف کی پسند اور نا پسند پر ہے۔ اگر ماہرین کی بات کی جائے تو زیادہ تر لینکس گروز کو کسی خاص ڈیسک ٹاپ سے کوئی اتنی دلچسپی نہیں ہوتی کیونکہ وہ زیادہ تر کمانڈ لائن پر ہی کام کر رہے ہوتے ہیں اور اسی پر ہی ان کا زیادہ تر وقت گزرتا ہے اور وہ بعض چند بنیادی پروگراموں پر ہی انحصار کرتے ہیں جیسے فائر فاکس، ٹرمنل وغیرہ، لہٰذا تکنیکی طور پر ڈیسک ٹاپ کی دنیا میں دونوں کا موازنہ مشکل ہے۔ اگرچہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس ضمن میں اوبنٹو کے شائقین زیادہ ہیں جس کی ایک بڑی وجہ مارکیٹنگ سمجھی جاتی ہے اور یقینا ریڈ ہیٹ کو اس ضمن میں ان سے کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔

FedoraLinux

ریڈ ہیٹ اور اوبنٹو سرورز کی دنیا میں

بات اگر سرورز کے شعبے کی جائے تو یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ریڈ ہیٹ نے دنیا کے بڑے بڑے اداروں کو اہم اور کامیاب کمرشل حل پیش کئے۔ ریڈ ہیٹ وہ پہلی کمپنی تھی جس نے لینکس کی کمرشل سپورٹ ویب براؤزر کے ذریعے فراہم کی! آپ ریڈ ہیٹ نیٹ ورک کے ذریعے اپنا پورا سرور انٹرنیٹ کے ذریعے ایک انتہائی آسان ویب پیج کے ذریعے سے کنٹرول کر سکتے ہیں، آپ نظام پر نظر رکھ سکتے ہیں، صارف بنا سکتے ہیں اور تازہ ترین سیکورٹی اپڈیٹس کی انسٹالیشن کر سکتے ہیں، اگر آپ کے پاس ایسے سرور کثیر تعداد میں ہیں اور آپ مزید آسانی چاہتے ہوئے انٹرنیٹ کے ذریعے ریڈ ہیٹ کے نیٹ ورک (RHN) کی بجائے اپنے نیٹ ورک سے ان کا انتظام کرنا چاہتے ہیں تو ریڈ ہیٹ آپ کے لیے ریڈ ہیٹ نیٹ ورک سٹیلائٹ پیش کرتا ہے!
ریڈ ہیٹ وہ پہلی کمپنی تھی جس نے لینکس کے لیے کلاؤڈ کمپیوٹنگ Cloud Computing صرف ایک کلک پر فراہم کی۔ ریڈ ہیٹ کے اینٹر پرائز ورچوئلائزیشن کے ذریعے آپ اپنا پہلا کلاؤڈ کمپیوٹر بنا سکتے ہیں!

Ubuntu-desktop
اوبنٹو ڈیسک ٹاپ

لینکس اور اوپن سورس کی بھرپور سپورٹ

UbuntuLogo
اوبنٹو کا لوگو

سرور کے حوالے سے ریڈ ہیٹ لینکس کی تاریخ پر نظر رکھنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس ڈسٹرو میں دیگر کے برعکس استعمال ہونے والی ٹیکنالوجیز کتنی تیزی سے ترقی کرتی ہیں۔ ریڈ ہیٹ جدید ترین ٹیکنالوجی کو پیش کرنے میں ہمیشہ سب سے آگے ہوتا ہے جس کی وجہ سے اوپن سورس کی دنیا پر نہ صرف ایک اچھا اثر پڑتا ہے بلکہ اس کے پھیلاؤ میں بھی مدد ملتی ہے، خاص طور سے سرور کے شعبے میں۔ ذیل میں اس حوالے سے کچھ مثالیں پیش کی جارہی ہیں:
1… ایس ای لینکس SELinux لینکس کی ایک حفاظتی تہہ ہے جسے امریکی وزارتِ دفاع نے تیار کیا تھا۔ لینکس پر اس کا اطلاق سب سے پہلے ریڈ ہیٹ نے فیڈورا 2 سے کیا تھا جو 2004ء میں جاری کی گئی تھی۔
2… شبیہ سازی یا virtualization، اس ٹیکنالوجی اور ریڈ ہیٹ لینکس میں اس کے استعمال پر ایک الگ مضمون درکار ہوگا، تاہم اتنا کہنا ہی کافی ہوگا کہ ریڈ ہیٹ لینکس نے شبیہ سازی کی ایک اسرائیلی کمپنی کو خرید کر اس کی ٹیکنالوجی کو آزاد کیا اور اسے لینکس کے کرنل میں شامل کرایا اور اس طرح یہ ٹیکنالوجی تمام لینکس ڈسٹری بیوشنز کو دستیاب ہوگئی۔ جس میں ظاہر ہے کہ اوبنٹو بھی شامل ہے اس طرح لینکس کی تمام ڈسٹری بیوشنز virtualization کو چلانے کے قابل ہوگئیں۔
3… سب کے لیے اعلیٰ اور آزاد حل پیش کرنا، ریڈ ہیٹ کا نہج رہا ہے کہ اس نے اپنی اکثر (اگر سب نہیں) اعلی ٹیکنالوجیز کو ہمیشہ آزاد رکھا تاکہ سب اس سے فائدہ اٹھا سکیں جیسے ورچوئل مشینوں کے انتظام کا oVirt پروجیکٹ چاہے وہ Xen ہو KVM ہو یا VirtualBox سب کے لیے!
4… ریڈ ہیٹ’’ایک لیپ ٹاپ فی بچہ‘‘ منصوبے کا بانی ہے جس کے تحت غریب بچوں کے لیے سستا ترین لیپ ٹاپ فراہم کیا جاتا ہے۔
در حقیقت سرور کے میدان میں ریڈ ہیٹ لینکس پر گفتگو کافی طول پکڑ سکتی ہے، دوسری طرف اوبنٹو لینکس نے سرور کے میدان میں ایسا کیا کارنامہ انجام دیا ہے جو اس کا موازنہ ریڈ ہیٹ سے کیا جائے؟ یہ حقیقت ہے کہ اوبنٹو یا اگر زیادہ وضاحت سے بات کی جائے تو کینونکل (Canonical )نے آزاد مصدر کو جو کچھ دیا ہے اس کا موازنہ ریڈ ہیٹ سے قطعی نہیں کیا جاسکتا، ذیل میں کچھ مثالیں پیش ہیں:
1… ‘‘ گنوم Gnome ’’ ڈیسک ٹاپ کے مجموعی کوڈ میں ریڈ ہیٹ کا حصہ 16% ہے جبکہ اوبنٹو کا صرف 1%!
2… ریڈ ہیٹ وہ سب سے بڑی کمپنی ہے جو لینکس کرنل میں اپنا حصہ ڈالتی ہے، کرنل کے مجموعی کوڈ میں ریڈ ہیٹ کا حصہ 12.3%  ہے جبکہ اوبنٹو کا اتنا کم ہے کہ مذکور ہی نہیں ہے!
3… سرور کی مارکیٹ میں لینکس کی ترقی کے لیے اوبنٹو نے کوئی قابلِ ذکر کردار ادا نہیں کیا، جبکہ ریڈ ہیٹ کا Clustering اور Virtualzation کے میدان میں کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔
4… اوبنٹو کے بارے میں یہ افسوس ناک بات نوٹ کی جاتی ہے کہ اوپن سورس میں اس کی معاونت صرف اس کے غرض کی حد تک ہے، یعنی اگر کوئی مسئلہ ہوجائے یا کرنل میں کسی بہتری کی بات کی جائے اور اوبنٹو کو اس معاملے سے غرض نہ ہو تو وہ کوئی توجہ نہیں دیتے!
Red-hat-logo5… تکنیکی طور اوبنٹو کے سرورز میں یاداشت کے بھر جانے out_of_memory یا بغیر کسی وجہ کے سرور کے بند ہوجانے کی شکایات عام ہیں، خیال رہے کہ اوبنٹو کے سروروں میں یاداشت کے بھرجانے کا مطلب Kernel Panicہوتا ہے! ’’کرنل پے نک ‘‘کا ونڈوز میں متبادل ’’ بلیو اسکرین آف ڈیتھ ہے‘‘
6… کمرشل سپورٹ میں ریڈ ہیٹ جو کچھ پہلے سے کر رہا ہے اوبنٹو نے اسے محض ’’ کاپی – پیسٹ‘‘ کیا ہے!
اوبنٹو نے 2005 ء میں اپنا سرور ایڈیشن جاری کیا تھا مگر ایک طویل عرصے تک وہ ریڈ ہیٹ کا مقابلہ کرنے سے قاصر رہا تاہم 2008ء میں اوبنٹو کو اس وقت ایک بہت بڑی کامیابی ملی جب وکی پیڈیا نے اعلان کیا کہ وہ اپنے 400 کے قریب سرورز اوبنٹو پر منتقل کر رہا ہے … اس سے پہلے وکی پیڈیا کے سرور فیڈورا اور ریڈ ہیٹ پر چلتے تھے۔ وکی پیڈیا ایک مصروف ترین ویب سائٹ سمجھی جاتی ہے اور ایک ماہ میں اس کے کوئی 10 ارب صفحات دیکھے جاتے ہیں یعنی کوئی پچاس ہزار درخواست فی منٹ…!!
وکی پیڈیا کا یہ اقدام کینونکل اور اوبنٹو کے صارفین دونوں کے لیے خوش آئند ثابت ہوا جس سے توقع کی جاسکتی ہے کہ سرورز کے میدان میں اوبنٹو مزید بہتر ہوگا۔

(یہ تحریر کمپیوٹنگ شمارہ مارچ 2013 میں شائع ہوئی)

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept