سام سنگ کا فولڈ ایبل ویلی فون

287

بڑی اسکرین کے فون رکھنے والوں کوایک ہی مسئلہ درپیش ہوتا ہے کہ اس فون کو جیب یا ہینڈ بیگ میں کیسے رکھا جائے۔ اس کے علاوہ ایسے اسمارٹ فون کو پکڑ کر چلنا بھی دشوار ہوتا ہے اور اگر یہ گر جائے تو نقصان بھی اسے زیادہ پہنچتا ہے۔ بڑی اسکرین کے شوقین احباب کے لیے خوشخبری ہے کہ سام سنگ ایک ایسا اسمارٹ فون متعارف کرانے والا ہے جسے کتاب کی طرح درمیان سے موڑا جا سکے گا۔اس فون کی فروخت جنوری میں شروع ہوگی۔اس فون کو فولڈ ایبل ویلی (Foldable Valley) کا نام دیا گیا ہے۔اس فون میں سام سنگ کے ڈسپلے ڈویژن کی بنائی ہوئی مڑنے والی اسکرین لگائی گئی ہے۔

جنوبی کوریا کی کمپنی سام سنگ نے کچھ عرصہ پہلے کہا تھا کہ وہ ایک فولڈ ایبل ڈیوائس بنا رہا ہے جو 2016 ء میں متعارف کی جائے گی۔ لیک ہونے والی اطلاعات کے مطابق سام سنگ چین میں اس ڈیوائس کی جانچ کر رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سام سنگ نے اس ڈیوائس کو پروجیکٹ ویلی کے نام سے بنایا ہے۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ سام سنگ اس ڈیوائس کے دو مختلف ورژن کی جانچ پڑتال کررہا ہے۔ ایک ورژن میں سنیپ ڈریگن 620 پروسیسر ہے جب کہ دوسرے میں سنیپ ڈریگن 820 نصب ہے۔

کچھ اطلاعات کے مطابق اس ڈیوائس میں 3 جی بی ریم، مائیکروایس ڈی کارڈ کی سہولت اور نہ تبدیل ہونے والی فِکسڈبیٹری ہے۔سام نے پروجیکٹ ویلی کی خبروں کے بارے میں کہا ہے کہ وہ اس بارے میں سامنے آنے والی افواہوں یا طلاعات کی نہ تصدیق کرے گا اور نہ ہی تردید۔سام سنگ نے مڑنے والی سکرین 2013 ء کے کنزیومر الیکٹرک شو میں متعارف کرائی تھیں۔اس لچکدار او ایل ای ڈی اسکرین کو یوم(Youm) کا نام دیا گیا تھا۔سام سنگ نے کہا تھا کہ وہ شیشے کی بجائے پلاسٹک کی باریک ہائی ریزولوشن اسکرین بنائے گا جسے موڑا جا سکے گا۔

project-valley-samsung-foldable

ایل جی بھی سام سنگ کی طرح مڑنے والی اسکرین پر کام کر رہا ہے۔ 2014 ءمیں ایل جی نے 18 انچ کی الٹرا ایچ ڈی اسکرین متعارف کرائی تھی جس میں پلاسٹک کی بجائے خصوصی فلم استعمال کی گئی تھی۔اسی وجہ سے اس اسکرین کو موڑ کر کسی ٹیوب میں بھی رکھا جا سکتا ہے۔ایل جی کا کہنا ہے کہ وہ اس کی ڈیوائس کو 2017 میں متعارف کرائے گا۔مئی میں ایل جی نے ایک خصوصی اسکرین کا ٹی وی متعارف کرایا ہے، اس ٹی وی کا ڈسپلے 1 ملی میٹر سے بھی کم موٹا ہے۔”وال پیپر“ نام کے اس ٹی وی کا وزن 4 پاؤنڈ (1.9کلوگرام)ہے۔اتنے ہلکے وال پیپر ٹی وی کو مقناطیس کی مدد سے دیوار سے چپکایا جا سکتا ہے۔
کچھ دن پہلے منعقد ہونے والے آئی ایف اے میں ایل کے ملازمین نے اس ٹی وی کو دیوار سے اتار کر موڑنے کامظاہرہ کیا تھا۔ایل جی کا کہنا تھا کہ اس ٹی وی کو موڑ کر کہیں بھی لے جایا جا سکتا ہے۔

(یہ تحریر کمپیوٹنگ شمارہ اکتوبر 2015 میں شائع ہوئی)