سستے چینی ٹیبلٹس خریدیں یا نہیں؟

2,499

حال ہی میں ایک ریسرچ گروپ کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ نے کمپیوٹرز بنانے والے اداروں کی ہوش اُڑا دیئے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں پرسنل کمپیوٹر خریدنے والے صارفین کی تعداد بہت تیزی سے گھٹ رہی ہے۔ انٹل جیسی بڑی کمپنی بھی اس رپورٹ کے نتیجے میں ہل کر رہ گئی اور اے یم ڈی جو پہلی ہی موت و زندگی کی جنگ لڑ رہی ہے، کہ لئے یہ زہر قاتل ثابت ہورہی ہے۔لیکن  آخر ایسا کیوں ہورہا ہے؟
ریسرچرز کے مطابق اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹ کمپیوٹرز نے صارفین کی ترجیحات بدل دی ہیں۔ پرسنل کمپیوٹر رکھنے والے بیشتر صارفین اسے صرف ای میلز چیک کرنے یا انٹرنیٹ برائوزنگ کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اب جبکہ یہ سہولت اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹس میں بہت خوب موجود ہے، اس لئے پرسنل کمپیوٹرز کی طلب میں کمی واقع ہورہی ہے۔ انٹل کو اس میدا ن میں ARM کی شکل میں سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ انٹل نے بھی اس میدان میں بھی اترنے میں دیر کردی لیکن وہ پھر بھی فٹا فٹ اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹس کے لئے پروسیسرز متعارف کروانے میں کامیاب ہوگیا جبکہ اے ایم ڈی تو سُتا ہی رے گیا!

یہاں یہ بات بھی دلچسپی سے پڑھی جائے گی کہ ایک اور رپورٹ کے مطابق مائیکر وسافٹ کا کمپیوٹرز کی دنیا میں حصہ جو پہلے 80فی صد کے لگ بھگ تھا، پچھلے سات سالوں میں کم ہوکر صرف 20%فی صد رہ گیا ہے۔ جبکہ اسی عرصے میں گوگل اور ایپل کے حصے میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ وجہ؟ اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹس! گوگل نے مارکیٹ کے بہائو کو بھانپتے ہوئے اپنے توجہ اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹس کی طرف مرکوز کرلی لیکن مائیکروسافٹ مارکیٹ کی اس تبدیلی کو پہچانے میں ناکام رہا اور اپنے سرفس ٹیبلٹ اور ونڈوز فون آپریٹنگ سسٹم کے ساتھ بہت دیر سے مارکیٹ میں داخل ہوا جہاں پہلے ہی اس کے حریف و حلیف پنجے گاڑے بیٹھے ہیں۔
قصہ مختصر یہ ہے کہ اگلے چند سالوں میں ٹیبلٹس اور اسمارٹ فونز جو پہلے ہی عام ہیں، اتنے زیادہ عام ہوجائیں گے کہ پرسنل کمپیوٹرز کو صرف مخصوص کاموں کیلئے استعمال کیا جانے لگے گا۔ ماہرین کے مطابق ٹیبلٹس کمپیوٹر 2016ء تک لیپ ٹاپس کو بالکل پیچھے چھوڑ چکے ہونگے۔

اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹس کی مانگ دنیا بھر میں تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس وقت ایپل اپنے آئی فون اور آئی پیڈ کے ساتھ سرفہرست ہے جبکہ توشیبا، ایمازون، لنیوو، آسُس، ہٹاچی، سام سنگ، ایسر، گوگل سمیت درجنوںکمپنیاں ٹیبلٹس بنا رہی ہیں جن کی قیمت چند ہزار روپوں سے لاکھوں روپوں تک ہے۔ اگر صرف ایپل آئی پیڈ کی ہی بات کی جائے تو اس کی کم از کم قیمت 500ڈالر یعنی کم و بیش اڑتالیس ہزار پاکستانی روپے ہے۔ دیگر کمپنیوں کے بنائے ہوئے ٹیبلٹس کی قیمت اگرچہ اتنی زیادہ نہیں ہے لیکن پاکستانی مارکیٹ کے حساب سے پھر بھی بہت زیادہ ہے۔
جس طرح پاکستانی مارکیٹ میں چائنا کے موبائل فونز نے موبائل فونز بنانے والی کمپنیوں کی ناک میں دم کررکھا ہے، اسی طرح چائنا کی ٹیبلٹس بھی ہمارے یہاں اب عام دستیاب ہیں جن کی قیمت چند ہزار روپے سے زیادہ نہیں ہوتی!
ہمارے مشاہدے میں چائنا کے ایسے ٹیبلٹس بھی آئے ہیں جن کی قیمت صرف چھ ہزار روپے تھی!

چائنا کے موبائل فون ہمارے یہاں ویسے بھی بدنام ہے۔ ان کی کارکردگی کو اچھا نہیں سمجھا جاتا لیکن چونکہ یہ انتہائی سستے ہوتے ہیں ، اس لئے یہ عام بھی ہیں۔ ان کے بارے میں اکثر لوگ کہتے سنے گئے ہیں کہ ’’چائنا کا موبائل، چلے تو چاند تک، ورنہ شام تک‘‘۔ یہ بات کافی حد تک درست بھی ہے۔ چونکہ ان موبائل فونز کو بنانے میں معیار کا کوئی خاص خیال نہیں رکھا جاتا، اس لئے ان کی کارکردگی بھی واجبی سی ہی ہوتی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا موبائل فونز کی طرح چائنا کے ٹیبلٹس بھی اتنے ہی بیکار ہوتے ہیں؟ ہم اسی سوال کا جواب اس مضمون میں ڈھونڈنے کی کوشش کریں گے۔
کسی بھی ٹیبلٹ کی کارکردگی کا دارومدار چند اہم چیزوں جیسے پروسیسر، ٹچ اسکرین، بیٹری ، آپریٹنگ سسٹم وغیرہ پر ہوتا ہے۔ ہم ان سب کا جائزہ یکے بعد دیگرے لیتے ہیں۔

پروسیسر

ایپل ، سام سنگ وغیرہ اپنے ٹیبلٹس میں ARM پروسیسرز ہی استعمال کرتے ہیں۔ یہ پروسیسر ARM کمپنی صرف ’’ڈیزائن‘‘ کرتی ہے اور دیگر کمپنیاں اس ڈیزائن کو لائسنس پر لے کر پروسیسر تیار کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ARMپروسیسر بنانے والی کوئی ایک کمپنی نہیں، بلکہ درجنوں یا شاید سینکڑوں کی تعداد میں ہیں۔ ARM پروسیسرز کی مقبولیت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ مائیکروسافٹ نے ونڈوز 8 کے لئے خاص طور پر اس کی سپورٹ شامل کی ہے۔ ایپل کے بارے میں بھی افواہ گرم ہے کہ وہ میک کمپیوٹرز کو انٹل کے پروسیسرز سے شاید ARM پروسیسرز کی جانب لے جائے۔
ٹیبلٹس میں Cortex-A سیریز کے پروسیسرز استعمال ہوتے ہیں۔ Cortex-A5 پروسیسرز بہت عام ہیں اور پرانے بھی۔ ان کی رفتار 300تا 800میگا ہرٹز تک ہوتی ہے۔ A8پروسیسرز سنگل کوراور dualکور ہوتے ہیں ۔ ان کی ملٹی میڈیا کارکردگی بھی بہت خوب ہوتی ہے۔ ان کی رفتار 600میگا ہرٹز تا 1.5گیگا ہرٹز تک ہوتی ہے۔ Cortex-A9 پروسیسرز نئے اور جدید ٹیبلٹس میں استعمال ہوتے ہیں۔ یہ ڈوئل کور ہوتے ہیں اور ان کی رفتار کی حد 600 میگا ہرٹز تا 1.2گیگا ہرٹز ہوتی ہے۔ ہر پروسیسر بنانے والی کمپنی ان پروسیسرز میں کسی حد تک تبدیلی بھی کرلیتی ہے لیکن ان کا بنیادی ڈیزائن وہی ہوتاہے۔ اس لئے آئی فون میں نصب A5 چپ جو Cortex-A9 پر مبنی ہے اور کسی دوسری کمپنی کے بنائے ہوئے Cortex-A9 چپ میں بنیادی طور پر کوئی فرق نہیں ہوتا اور ان کی رفتار بھی ایک جیسی ہی ہوتی ہے۔ چینی ٹیبلٹس میں بھی یہی پروسیسرز استعمال ہوتے ہیں۔ آپ کو دیکھنا یہ ہوگا کہ جو ٹیبلٹ آپ خرید رہے ہیں اس میں Cortex-A سیریز کا کون سا پروسیسر نصب کیا گیا ہے اور وہ کتنی coresکا حامل ہے۔ بیشتر چینی ٹیبلٹس میں آپ کو AllWinner کمپنی کے بنائے ہوئے ARMپروسیسرز ملیں گے۔ اگر ٹیبلٹ میںCortext-A9یا جدید ترین Cortext-A15 نصب ہے تو ٹیبلٹ کی رفتار سے آپ مطمئن ہوسکتے ہیں۔

آپریٹنگ سسٹم

چینی ٹیبلٹس کے سستے ہونے کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ ان میں گوگل اینڈروئیڈ انسٹال ہوتا ہے جو کہ مفت ہے۔ ایپل آئی پیڈ میں iOS انسٹال ہوتا ہے جو کہ ایپل کی اپنی جاگیر ہے۔ لہٰذا اس کی ڈیویلپمنٹ پر اٹھنے والے اخراجات بھی ایپل اپنے صارفین سے وصول کرتا ہے۔ اینڈروئیڈ کے ساتھ ایسا معاملہ نہیں۔ گوگل نے اس آپریٹنگ سسٹم کو اوپن سورس رکھا ہے یعنی اس کا تمام سورس کوڈ ڈائون لوڈنگ کے لئے دستیاب ہے۔ جس کی وجہ سے چینی ’’ماہرین‘‘ بڑی ہی مہارت سے اینڈروئیڈ میں اپنے ٹیبلٹ کے مطابق تبدیلیاں کرلیتے ہیں۔ انہی تبدیلیوں کی وجہ سے کچھ ایپلی کیشنز ان پر چلتی ہی نہیں۔ چینیوں کی ’’مہارت‘‘ کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ دنیا کا پہلا ٹیبلٹ جس پر اینڈ روئیڈ آئس کریم سینڈوچ 4.0 انسٹال تھا، چینی کمپنی نے ہی بنایا تھا۔
چینی کمپنی کی اس شعبے میں مہارت کے پیچھے مغربی دنیا کی کمپنیوں کا ہی ہاتھ ہے۔ اس وقت ہر بڑی کمپیوٹر کمپنی، چاہے وہ انٹل ہو یا ایپل، ڈیل ہو یا ایچ پی اپنی مصنوعات چین میں ہی بنوارہی ہے۔ ایپل بھلے ہی امریکی پراڈکٹ ہو، لیکن بنتی چین میں ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین میں ماہرین کی ایک پوری نسل تیار ہوچکی ہے جسے کمپیوٹر مصنوعات بنانے میں مہارت حاصل ہے۔ اسی مہارت کا نتیجہ ہے کہ چینی کنزیومر الیکٹرانکس میں اب چھا گئے ہیں۔

کچھ چینی ٹیبلٹ آپ کو ایسے بھی ملیں گے جن میں ونڈوز سی ای انسٹال ہوگی لیکن ایسے ٹیبلٹس کی تعداد کافی کم ہے۔ کچھ لینکس پر مبنی ٹیبلٹس بھی آپ کو نظر آسکتے ہیں لیکن آپ کو ننانوے فیصد ایسے ہی ٹیبلٹ ملیں گے جن میں گوگل اینڈروئیڈ انسٹال ہوگا۔ اگر آپ ایسا کوئی ٹیبلٹ خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اس بات کی یقین دہانی کرلیں کہ اس پر آپ کی ضرورت کی تمام ایپلی کیشنز جیسے اسکائپ وغیرہ چلتی ہیں۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بتایا، چینی ٹیبلٹس میں اینڈروئیڈ عموماً customized ہوتا ہے، اس لئے ضروری نہیں کہ گوگل Play Store پر دستیاب ہر ایپلی کیشن اس پر چل جائے۔
ان ٹیبلٹس کے ساتھ ایک مسئلے اپ گریڈ کا بھی ہے۔ شاذو نادر ہی کوئی ایسا چینی ٹیبلٹ ملتا ہے جس کا آپریٹنگ سسٹم اپ گریڈ کیا جاسکتا ہو۔ اینڈروئیڈ کے حوالے سے مخصوص فورمز پر کچھ فرم ویئر اپ ڈیٹس ملتی ہیں لیکن انہیں استعمال کرنا خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔ ٹیبلٹ بنانے والے کی جانب سے آپ امید نہ رکھیں کہ کوئی اپ ڈیٹ ریلیز کی جائے گی۔

اسکرین کا سائزاور ٹچ

ایپل آئی پیڈ کی اسکرین کا سائز متعین ہے۔ ایسا نہیں کہ مختلف سائز کے ٹیبلٹس دستیاب ہوں۔ لیکن دیگر تمام کمپنیاںجو ٹیبلٹ بنا رہی ہیں، اپنے مصنوعات مختلف سائز میں پیش کرتی ہیں۔ چائنا کے ٹیبلٹ بھی آپ کو پانچ سے لیکر دس انچ کے سائز میں مل جائیں گے اور وہ بھی رنگ برنگے!
جن چینی ٹیبلٹس کی قیمت کم ہوتی ہے، ان کی اسکرین اتنی شاندار نہیں ہوتی۔ رنگ پھیکے اور چمک بہت کم ہوتی ہے۔ لیکن وہ ٹیبلٹ جو قدرے مہنگے ہیں (دس ہزار سے زائد قیمت والے) ان کی اسکرین عموماً گزارے لائق ضروری ہوتی ہیں۔ یہاں معاملہ جتنا گڑ ڈالو گے اتنا میٹھا ہوگا کہ مصداق جتنا مہنگا ٹیبلٹ ہوگا، اس کی اسکرین اتنی ہی بہترین ہوگی۔ البتہ چینی ٹیبلٹس میںآپ ’’ریٹینا ‘‘ جیسے ریزلٹ ڈھونڈ کر اپنا وقت ضائع نہ کریں۔اسکرین کے سائز کے ساتھ ساتھ اس کی ریزولوشن بھی بہت اہم ہے۔ اگر آپ ٹیبلٹ پر ایچ ڈی موویز دیکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اس سلسلے میں ریزولوشن بہت اہم ہے۔
اگر آپ نے ایپل ، سام سنگ یا کسی دوسری ’’برانڈڈ‘‘ کمپنی کا کوئی ٹیبلٹ استعمال کررکھا ہے تو چینی ٹیبلٹس میں آپ کو اس بات کا شدت سے احساس ہوگا کہ ان کا ’’ٹچ‘‘ اتنا مزیدار نہیں جتنا کہ برانڈڈ ٹیبلٹس کا ہے۔ یہ ایک ایسی وجہ ہے جو اکثر لوگوں کو چائنا کے ٹیبلٹ خریدنے سے باز رکھتی ہے۔
ٹیبلٹ خریدتے ہوئے اس بات کو ضرور مدنظر رکھیں کہ آیا وہ ملٹی ٹچ ہے کہ نہیں۔ چینی ٹیبلٹس عموماً ملٹی ٹچ ہی ہوتے ہیں مگر پھر بھی احتیاطاً اسے ضرور چیک کرلیں۔

اسٹوریج

اسٹوریج میڈیا اب انتہائی سستے ہوچکے ہیں۔ 2GBکی یو ایس بی جو آج سے چند سال پہلے تک ہزاروں روپے کی ملتی تھی، اب صرف دو سو روپے میں مل جاتی ہے۔ قیمت میں اس کمی کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ ٹیبلٹس چاہے وہ برانڈڈ ہوں یا چائنا کے، ان میں کئی کئی گیگا بائٹس کی گنجائش ہوتی ہے۔ ایپل آئی پیڈ کی اسٹوریج میں آپ اضافہ نہیں کرسکتے، لیکن چائنا کے ٹیبلٹس میں آپ مائیکروایس ڈی کارڈ لگا کر اس کی گنجائش میں مزید اضافہ کرسکتے ہیں۔
چینی ٹیبلٹ اسٹوریج کے معاملے میں کچھ زیادہ ہی فراغ دل واقع ہوئے ہیں۔ ان میں اسٹوریج کی کوئی کمی نہیں۔ دس ہزار روپے والے ٹیبلٹ میں آپ کو 8گیگا بائٹس تک کی گنجائش بہ آسانی مل جائے گی جسے آپ مائیکرو ایس ڈی کارڈ لگا کر مزید بڑھا سکتے ہیں۔ 16جی بی والے ٹیبلٹس کی قیمت بھی ایک دو ہزار روپے ہی زائد ہوگی۔ اس کے مقابلے میں اگر آئی پیڈ کی بات کی جائے تو 16جی بی اور 32جی بی کے آئی پیڈ میں ہزاروں روپے کا فرق ہے۔

بیٹری ٹائمنگ

اگر یہ کہا جائے کہ بیٹری ٹائمنگ چائنا ٹیبلٹس کی سب سے بڑی خامی ہے تو غلط نہ ہوگا۔ ہمارے مشاہدے میں اب تک ایسا کوئی چینی ٹیبلٹ نہیں آیا جس کی بیٹری ٹائمنگ تین چار گھنٹوں سے زائد ہو۔ بیشتر ٹیبلٹس 2گھنٹے سے زائد نہیں چلتے۔ اسٹینڈ بائے ٹائم بھی انتہائی کم ہوتا ہے جو بعض اوقات پانچ ، چھ گھنٹے بھی نہیں ہوتا۔ اگر آپ ان ٹیبلٹس پر کوئی ویڈیو دیکھنے بیٹھ جائیں تو پھر اس بات کے روشن امکانات ہیں کہ مووی ختم ہونے سے پہلے بیٹری ’’پھک‘‘ جائے گی۔ یہ خامی آپ کو برانڈڈ ٹیبلٹس میں نظر نہیں آئے گی۔ آئی پیڈ کئی کئی گھنٹے بہت آرام سے چل سکتا ہے۔ جبکہ سام سنگ، لینوو، توشیبا کے ٹیبلٹس کی بیٹری ٹائمنگ بھی شاندار ہوتی ہے۔

ہماری نظر میں چینی ٹیبلٹ انٹرنیٹ برائوزنگ اور ویڈیو گیم کھیلنے کی حد تک تو بہترین ہیں، لیکن اگر آپ اسے موویز دیکھنے کیلئے خریدنا چاہ رہے ہیں تو پھر آپ کو اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارا مشورہ ہے کہ آپ سستے چینی ٹیبلٹ کے بجائے کوئی برانڈڈ ٹیبلٹ خریدنے کو ترجیح دیں۔ ضروری نہیں کہ آپ آئی پیڈ ہی خریدیں۔ سونی ایکسپیریا، توشیبا ، ہنڈائی ، گوگل نیکسس وغیرہ اگرچہ چینی ٹیبلٹس سے مہنگے ہیں لیکن آئی پیڈ سے پھر بھی کافی سستے ہیں اور ان میں اینڈروئیڈ آپریٹنگ سسٹم بھی ہوتاہے جو بذات خود ایک نعمت کی طرح لگتا ہے۔سستا ٹیبلٹ ہر چھ ماہ بعد نیا خریدنے سے بہتر ہے، ایک ہی اچھا ٹیبلٹ خریدیں اور اسے کم از کم سال بھر بے فکر ہوکر چلائیں۔چینی ٹیبلٹسکے ساتھ لیپ ٹاپس والا معاملہ بھی نہیں کہ بیٹری خراب ہوجانے کے بعد دوسری بیٹری لگا لی جائے۔ اگر ایک بار ان کی بیٹری خراب ہوگئی تو سمجھیں پورا ٹیبلٹ ہی بیکار ہوگیا۔ اب یہ صرف اسی وقت چلے گا جب آپ اسے چارجر سے لگا کر رکھیں گے اور بجلی بھی ہوگی جو بذات خود پاکستان میں ایک مسئلہ ہے! اس کے مقابلے میں برانڈڈ ٹیبلٹس کے پارٹس بشمول بیٹری کہیں اور نہیں تو ان کے اپنے سروس سینٹرز پر مل ہی جاتے ہیں۔
بیٹری کا معاملہ ایسا ہے جسے آپ بہ آسانی نظر انداز نہیں کرسکتے۔ اگر آپ نے ایک ایسا ٹیبلٹ خرید لیا جو صرف ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد ہی جواب دے جاتا ہے، تو بھلے ہی آپ نے اسے دس ہزار روپے کا خریدا ہو، کسی طور پر سود مند نہیں۔ تاہم سب چینی ٹیبلٹس ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کچھ چینی کمپنیاں جیسے ainol وغیرہ کی بیٹری ٹائمنگ کافی قابل قبول ہوتی ہے۔ لیکن یہ پھر بھی اتنی نہیں ہوتی جتنی کہ آئی پیڈ یا گوگل نیکسس یا سونی ایکسپریا آپ کو دے سکتا ہے۔

انٹرنیٹ کنکٹویٹی

چینی ٹیبلٹس میں انٹرنیٹ استعمال کرنے کے صرف دو ہی طریقے ہیں۔ اول وائی فائی اور دوم ایتھرنیٹ۔ سیلولر انٹرنیٹ کا کوئی آپشن موجود نہیں ہوتا یعنی آپ اپنی موبائل سم لگا کر انٹرنیٹ استعمال نہیں کرسکتے۔ آئی پیڈ کا البتہ ایسا ورژن بھی آتا ہے جس میں آپ سیلولر انٹرنیٹ استعمال کرسکتے ہیں۔
ایتھرنیٹ پورٹ کی چینی ٹیبلٹ میں موجودگی ، ٹیبلٹ کے سائز پر منحصر ہے۔ اگر یہ ٹیبلٹ پانچ یا سات انچ کا ہے تو شاید اس میں ایتھر نیٹ پورٹ موجود نہ ہو۔ لیکن اگر ٹیبلٹ 10انچ کا ہے تو اس میں ایتھر نیٹ پورٹ موجود ہوسکتی ہے۔
اگر آپ کے پاس وائی فائی کے آسان رسائی ہے تو چینی ٹیبلٹ انٹرنیٹ برائوزنگ کے لئے بہترین ہے۔ لیکن سیلولر نیٹ ورک کے ذریعے انٹرنیٹ استعمال کرنے کے خواہش مند افراد کے پاس اگر کوئی اسمارٹ فون ہو تو وہ اسے وائی فائی ہاٹ اسپاٹ بنا کر ٹیبلٹ پر انٹرنیٹ استعمال کرسکتے ہیں۔
چینی ٹیبلٹس اور برانڈڈ ٹیبلٹس کی وائرلیس ڈیٹا ٹرانسفر کی رفتار میں کچھ خاص فرق نہیں۔ بیشتر ٹیبلٹس ایک جیسے ہی اسٹینڈرز اپنائے ہوئے ہوتے ہیں۔

وارنٹی

بیٹری کے بعد اگر کوئی دوسری چیز لوگوں کو چینی ٹیبلٹ خریدنے سے روکتی ہے، وہ اس کی ورانٹی ہے۔ بیشتر چینی ٹیبلٹس بنانے والی کمپنیاں گمنام ہوتی ہیں۔ آپ کو ٹیبلٹ پر شاید کمپنی کا نام و نشان بھی نہ ملے جبکہ پیکجنگ بھی بالکل کوری ہوتی ہے۔ ایسے ٹیبلٹس کو OEM کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ چین میں مختلف مصنوعات کی بنائی جانے والی نقلیں OEMکی صورت میں ہی ملتی ہیں جنھیں مختلف چھوٹی کمپنیاں یا افراد خرید کر اپنے نام سے فروخت کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھی کئی کمپنیاں ایسی ہیں جو OEM پراڈکٹس چین سے امپورٹ کرکے یہاں اپنے نام سے فروخت کرتی ہیں۔ ہمارے علم میں ایک مشہور پاکستانی برانڈڈ کمپیوٹر بنانے والی کمپنی ہے جو چین سے OEM لیپ ٹاپ اور ٹچ اسکرینز منگوا کر پاکستان میں اپنے برانڈ نیم کے تحت فروخت کرتی ہے۔
اگر کوئی اچھی چینی کمپنی ٹیبلٹ اور اس کی پیکجنگ پر اپنا نام لکھ بھی دیتی ہے تو بھی کوئی فائدہ نہیں۔ ہمارے علم میں ایسی کوئی چینی کمپنی نہیں جس کا رجسٹرڈ آفس پاکستان میں ہو اور وہ ورانٹی کی ذمہ داری بھی قبول کرتی ہو۔ ٹیبلٹس اب ٹی وی یا گاڑی کی طرح تو ہیں نہیں کہ ان کے ’’مکینک‘‘ گلی کی نکڑ پر مل جائیں۔ لہٰذا خراب ٹیبلٹ آپ کے گلے آسکتا ہے۔
جب آپ یہ چینی ٹیبلٹ خریدنے جاتے ہیں، تو آپ سے ورانٹی کی مد میں کافی سارے وعدے کئے جاسکتے ہیں۔لیکن ان وعدوں میں کوئی سچائی نہیں ہوتی۔ آپ اگر چینی ٹیبلٹ خریدیں تو یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ ان کی ورانٹی ویسی نہیں ہوتی جیسی آپ کے برانڈڈ اسمارٹ فون کی ہوتی ہے۔ ورانٹی کے نام پر چینی ٹیبلٹ بیچنے والے کچھ دوست ’’سافٹ ویئر ‘‘ کی ورانٹی دیتے ہیں جس کے مطابق اگر سافٹ ویئر خراب ہوگیا تو وہ ٹھیک کردیں گے۔ کمپیوٹر کی ذرا سے بھی سمجھ بوجھ رکھنے والا یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ سافٹ ویئر کی ورانٹی ایک لایعنی چیز ہے۔ وہ زیادہ سے زیادہ فرم ویئر دوبارہ انسٹال کردیں گے یا ٹیبلٹ کو ’’روٹ‘‘ کردیں گے۔ اس سے زیادہ ان کے بس کی بات نہیں۔
برانڈڈ ٹیبلٹس جنہیں بنانے والی کمپنیوں کے پاکستان میں آفسز ہیں، میں البتہ آپ کو مکمل ورانٹی ملتی ہے۔ اگر کسی وجہ سے ہارڈویئر میں کوئی مسئلہ پیدا ہوجائے تو چینی ٹیبلٹس کی صورت میں اسے ٹھیک کرنے والا کوئی نہیں ہوگا لیکن برانڈڈ ٹیبلٹ کی صورت میں ان کے سروس سینٹر ضرور آپ کی مدد کرسکتے ہیں۔
اس لئے ہماری کمزور دل صارفین سے یہی گزارش ہے کہ اگر آپ ورانٹی کے معاملے میں حساس واقع ہوئے ہیں تو چینی ٹیبلٹ خریدنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لیں کہ یہ ’’ڈسپوزیبل‘‘ بوتل کی طرح ہیں، پانی پیئو اور تروڑ مروڑ کر پھینک دو!

چینی ٹیبلٹ سستے ضرور ہیں لیکن ان کی اپنی خامیاں ہیں۔ اگر آپ کا ٹیبلٹ خریدنے کا مقصد ہلکی پھلکی تفریح، انٹرنیٹ برائوزنگ، سوشل نیٹ ورکنگ یا موسیقی سے لطف اندوز ہونا ہے تو چینی ٹیبلٹ آپ کو انتہائی کم قیمت میں یہ سب کچھ بہ آسانی فراہم کرسکتے ہیں۔ بچوں کے لئے بھی یہ شاندار ’’Gadgets‘‘ ہیں لیکن اگر آپ کا مقصد موویز دیکھنا، لمبے سفر میں انٹرنیٹ برائوزنگ کے لئے ٹیبلٹ رکھنا ہے تو پھر شاید یہ آپ کے کام نہ آئیں۔ ان کا کم بیٹری ٹائم آپ کے لئے کئی مسائل پیدا کرسکتا ہے ۔
سائز میں چھوٹا ہونے کی وجہ سے ٹیبلٹس چاہے وہ کسی بھی کمپنی کے ہوں، ان کا ہاتھوں سے پھسل کر گرنا اور ادھر ادھر لڑک جانا عام بات ہے جس کا نتیجہ ان میں کئی طرح کی خرابیوں کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ خراب چینی ٹیبلٹس کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا۔ برانڈڈ ٹیبلٹس کی صورت میں کسی حد تک امید ضرور ہوتی ہے کہ سروس سینٹر سے شاید یہ ٹھیک ہوجائے۔

(یہ تحریر کمپیوٹنگ شمارہ جنوری 2013 میں شائع ہوئی)