ورلڈ وائیڈ ویب کی سلور جوبلی … پاکستان کی دس فیصد سے زائد آبادی آن لائن

311

12 مارچ 2014ء کو ورلڈ وائڈ ویب کی سلور جوبلی یعنی 25 ویں سالگرہ منائی جائی گی۔ آج سے پچیس سال پہلے 1989ء میں بابائے ورلڈ وائیڈ ویب ’’ٹم برنرزلی‘‘ نے ایک پروجیکٹ پروپوزل تحریر کیا تھا جو بعد میں ورلڈ وائیڈ ویب کی پیدائش کا باعث بنا۔ ورلڈ وائڈ ویب کو پچیس سال گزرنے کے بعد پاکستان میں اس سے مستفید ہونے والی آبادی بھی 10 فیصد سے تجاوز کرچکی ہے۔ پاکستان میں انٹرنیٹ نوّے کی دہائی کے شروع میں ہی دستیاب ہوگیا تھا۔ 2001ء میں جب پاکستان کی آبادی تقریباً ساڑھے چودہ کروڑ تھی، کل آبادی کا صرف 1.3 فی صد حصہ ہی انٹرنیٹ استعمال کرنے کے قابل تھا۔ انفارمیشن اور کمیونی کیشن ٹیکنالوجی پاکستان میں سب سے تیز ترقی کرنے والی صنعتوں میں سے ایک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سال 2006ء میں کل آبادی کا 6.5 فیصد اور 2012ء میں جبکہ آبادی اٹھارہ کروڑ کو پہنچ چکی تھی، انٹرنیٹ استعمال کرنے والی آبادی کی شرح 10 فی صد ہوچکی تھی۔

براڈ بینڈ انٹرنیٹ کی ملک کے طول و ارض میں دستیابی انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ جبکہ دوسری بڑی وجہ موبائل فون آپریٹرز کی جانب سے فراہم کردہ انٹرنیٹ ہے جو ان جگہوں پر بھی دستیاب ہے جہاں براڈ بینڈ موجود نہیں۔ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کی سال 2012-13 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں براڈ بینڈ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد ستائیس لاکھ سے زائد تھی۔ پاکستان میں انٹرنیٹ ٹیکنالوجیز پر بیرون ملک اور اندرون ملک سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ کئی کمپنیوں کی جانب سے انٹرنیٹ سروسز کی فراہمی نے ان کے درمیان مقابلے کی فضا کو انتہائی سخت کردیا ہے۔ اس وقت ملک بھر میں 50 سے بھی زائد انٹرنیٹ سروس پروائیڈرز ہیں اور ان کے درمیان مقابلے نے انٹرنیٹ سروسز کی قیمتوں میں زبردست کمی پیدا کی ہے۔