بِنا دھوکا آن لائن کمائی کے جائز ذرائع

5,191

ہم میں سے کتنے ہی لوگ گھر بیٹھے کمائیے، آن لائن کمائیے کے اشتہارات پڑھ کر انٹرنیٹ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں لیکن یہاں آ کر اکثر ہمیں مایوسی ہی ہوتی ہے کہ یہ یا تو جھوٹ ہے یا ہمارے بس کا کام نہیں لیکن درحقیقت مسئلہ ہماری کم علمی اور گزرے وقت کے بعد لکیر پیٹنے کا ہے۔

 

بلاگنگ وغیرہ سے دنیا کہیں آگے جا پہنچی ہے اور آج کا یہ مضمون موجودہ حالات کے تناظر میں لکھا جا رہا ہے کہ آپ اب بھی انٹرنیٹ سے پیسہ کما سکتے ہیں لیکن اس کے لیے آپ کو دنیا کی سمت کا علم ہونا چاہیے کہ وہ کس طرف جا رہی ہے۔

اس سے پہلے ہم کمپیوٹنگ میں آن لائن کمائی کے حوالے سے دو مضامین شائع کر چکے ہیں۔ جن میں فری لانسنگ اور اس کے ذریعے کمائی گئی رقم کو وصول کرنے کے حوالے سے مکمل رہنمائی فراہم کی گئی تھی۔

 

یہ بھی پڑھیے: انٹرنیٹ کے ذریعے پیسے کمانا سیکھیں

یہ بھی پڑھیے: آن لائن کمائی کے لیے دس بہترین ایپلی کیشنز

یہ بھی پڑھیے: سوشل میڈیا کے ذریعے پیسے کمانا سیکھیں

 

آن لائن کمائی بالکل ممکن اور حقیقت ہے لیکن آپ کو درست طریقے کا معلوم ہونا چاہیے۔ درست طریقہ سیکھنے کے ساتھ ساتھ فراڈیوں سے بچنے کا طریقہ بھی معلوم ہونا چاہیے اس لیے آغاز سے قبل آپ اس مضمون کا بھی مطالعہ کر لیں تو بہتر ہے: آن لائن کمائی کا دھوکہ دینے والے فراڈیوں سے ہوشیار رہیں– آئیے آپ کو کچھ اور ذرائع کا بتاتے ہیں جن سے آن لائن کمائی ممکن ہے۔

بلاگنگ

بلاگ بنا کر ایڈ سینس سے پیسے کمانا انٹرنیٹ پر سب سے آسان طریقہ سمجھا جاتا ہے لیکن یونی کوڈ اردو میں بنائے گئے بلاگز کے لیے ایڈسینس استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔ لہٰذا اب یا تو آپ تصویری اردو میں (ان پیج) میں لکھیں اور گوگل پر رجسٹریشن انگریزی کی کرائیں یا انگریزی میں لکھیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان پیج کے ذریعے تصویری اردو کو چونکہ گوگل اور دیگر سرچ انجنز پڑھ نہیں سکیں گے اس لیے آپ کو اپنے بلاگ کی مشہوری پر محنت کرنی ہو گی کیونکہ اس طرح گوگل سے سرچ کر کے آپ کے بلاگ پر آنے والوں کی تعداد صفر ہو گی۔ انگریزی میں لکھنے کی صورت میں یا تو آپ انتہائی تخلیقی سوچ کے حامل ہوں کہ پاکستان سے باہر کے لوگ بھی آپ کے بلاگ پر آئیں یا موضوع ایسا ہو کہ پاکستانی بھی آپ کے بلاگ پر انگریزی پڑھنے آئیں کہ پاکستان میں انگریزی جاننے والوں کی تعداد اتنی زیادہ نہیں۔
’’بلاگنگ کیا ہے اور مفت بلاگ کیسے بنائیں‘‘ اس حوالے سے تفصیلی مضمون ہم کمپیوٹنگ میں شائع کر چکے ہیں جسے یہاں پڑھا جا سکتا ہے:

مضمون نگاری

گھر بیٹھے کمانے کے حوالے سے مضمون نگاری ایک انتہائی عمدہ کام ہے۔ اکثر لوگ اپنی ویب سائٹس کے لیے مضامین لکھوانا چاہتے ہیں، اس کے علاوہ اپنی پروڈکٹس کے مینوئل اور دیگر موضوعات پر تحریریں لکھوانے والے بھی بہت موجود ہیں۔ کسی بھی فری لانسنگ ویب سائٹ پر اس حوالے سے کام تلاش کیے جا سکتا ہے۔

اپنے ہی ملکی جرائد و رسائل کے لیے لکھ کر اُجرت حاصل کی جا سکتی ہے۔ تقریباً تمام اخبارات و رسائل مصنّفین کو ان کی تحریروں کا معاوضہ ادا کرتے ہیں۔ اگر آپ کسی حوالے سے جیسے کہ کھیل، سائنس، تاریخ، کمپیوٹر، کہانیاں و افسانے وغیرہ لکھ سکتے ہیں تو رسائل سے رابطہ کر کے انھیں اپنی تحریریں پیش کریں۔

eHow.com ایک بہت بڑی اور مشہور ویب سائٹ ہے۔ کسی بھی حوالے سے آپ کچھ تلاش کریں تو اس کا رزلٹ ضرور ملتا ہے۔ اس کی وجہ اس پر لکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔ جنھیں ویب سائٹ کی آمدن میں سے ان کا حصہ ادا کیا جاتا ہے۔ یہ ویب سائٹ ہر طرح کے انتہائی سادہ و آسان مضامین شائع کرتی ہے۔ اگر لوگ تلاش کرتے ہوئے اس ویب سائٹ پر آئیں اور مضامین پڑھیں تو ویب سائٹ کو حاصل ہونے والی آمدنی میں سے کچھ فیصد حصہ مصنف کو ادا کیا جاتا ہے۔ بعض لوگوں نے سادہ سے لیکن کارآمد 30 مضامین یہاں شائع کر رکھے ہیں جو انھیں ماہانہ 100 سے 150 امریکی ڈالر کمانے میں مدد دیتے ہیں۔
مضامین نگاری کے حوالے سے کام تلاش کرنے کے لیے آپ فری لانسر، ای لانس اور اوڈیسک کو آزما سکتے ہیں:
www.freelancer.com
www.odesk.com

فری لانسنگ کے حوالے سے فائیور (www.fiverr.com) ویب سائٹ بھی موجود ہے۔ یہ ویب سائٹ دیگر فری لانسنگ ویب سائٹس سے ذرا منفردہے۔ جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے یہاں ہر کام پانچ ڈالر میں ہوتا ہے۔ مثلاً آپ کوئی لوگو بنا دیں، کسی کی ویب سائٹ کا کوئی مسئلہ حل کر دیں، کچھ خطاطی کر دیں، کوئی آڈیو یا وڈیو بنا دیں غرض کوئی بھی کام جو آپ کو آتا ہو یہاں اپنی پروفائل میں بتا سکتے ہیں۔

مضمون کا باقی حصہ پڑھنے کے لیے نیچے موجود صفحات کے نمبر پر کلک کرتے جائیں