ورڈپریس سکیوریٹی، ایک مکمل گائیڈ

1,899

ویب سائٹ فائلز اسکین کریں

اگر آپ کی ویب سائٹ خدانخواستہ ہیک یا مال ویئر سے متاثر ہو جائے اور آپ کو مال ویئر کا سراغ نہ مل رہا ہو تو تمام فائلوں کو زپ کر کے کسی آن لائن اسکینر سے اسکین کریں۔ فائلز کو زپ کرنے سے پہلے اس میں سے میڈیا فائلز جیسے کہ تصاویر اور وڈیوز کو حذف کر دیں، اس طرح فائل کا سائز کم ہو گا۔ اس کے بعد آپ اسے وائرس ٹوٹل یا ’’جوتی‘‘ آن لائن اسکینر سے اسکین کر سکتے ہیں۔ وائرس ٹوٹل پر پچاس سے زائد اینٹی وائرس بیک وقت موجود ہوتے ہیں جبکہ جوتی پر ان کی تعداد کم ہے جو کہ پندرہ کے قریب ہے۔ لیکن دونوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ وائرس ٹوٹل پر اینٹی وائرسز کے ونڈوز ورژن موجود ہوتے ہیں جبکہ جوتی اسکینر پر اینٹی وائرسز کے لینکس ورژن موجود ہیں چونکہ ویب سرور زیادہ تر لینکس پر مبنی ہوتے ہیں اس لیے جوتی اسکینر بھی ایک بہترین انتخاب ہو سکتا ہے۔ دونوں سروسز کی بس ایک خرابی ہے کہ جب آپ سیکڑوں فائلز اسکین کرتے ہیں تو صرف یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ وائرس زدہ ہیں یا نہیں، یہ پتا نہیں چلتا کہ وہ کون سی فائل ہے جس میں وائرس کا کوڈ موجود ہے، اس کے لیے آپ کو خود تلاش کرنا ہو گا۔
virustotal.com
virusscan.jotti.org/en

اس کے علاوہ ایک بہترین سروس ’’میٹا اسکین‘‘ کی صورت میں بھی موجود ہے جو ہر فائل کو انفرادی صورت میں 43 اینٹی وائرسز سے اسکین کرتی ہے۔ اس کی خوبی یہ ہے کہ یہ وائرس زدہ فائل کو نشان زدہ کر دیتی ہے جس سے آپ باآسانی جان سکتے ہیں کہ فلاں فائل میں مسئلہ ہے لیکن اس پر پابندی یہ ہے کہ بیک وقت صرف 500 فائلز زپ کر کے اسکین کی جا سکتی ہیں:
www.metascan-online.com

اختتامیہ

ورڈپریس ایک بہترین کانٹینٹ منیجمنٹ سسٹم ہے اور یہ اتنا کمزور بھی نہیں جتنا اس کو تصور کیا جاتا ہے۔ ورڈپریس بنانے والے اس میں دریافت ہونے والی خامیوں کو بہت جلد ٹھیک کر کے اپ ڈیٹس ریلیز کرتے رہتے ہیں۔ یہ بات اگرچہ کہنے کی ضرورت نہیں لیکن پھر بھی کہنا پڑتی ہے کہ کوشش کریں ہمیشہ ورڈپریس اور انسٹال پلگ اِنز ہمیشہ اپ ڈیٹڈ رہیں۔ جو تھیمز یا پلگ اِنز استعمال میں نہ ہوں انھیں سرور پر رکھنے کی ضرورت نہیں، انھیں فوراً ڈیلیٹ کر دیا کریں۔
کسی بھی طرح کے نقصان سے بچنے کے لیے ہفتہ وار یا کم از کم ماہانہ کی بنیاد پر ویب سائٹ بمعہ ڈیٹا بیس کا بیک اپ بناتے رہیں۔ جس طرح آپ اپنی دیگر قیمتی چیزوں کی حفاظت کرتے ہیں اسی طرح اپنی ویب سائٹ کو بھی قیمتی سمجھیں اور اس کی حفاظت کے جتنے اقدامات کر سکیں ضرور کریں۔
(یہ تحریر کمپیوٹنگ شمارہ اگست 2014 میں شائع ہوئی)