اپنی کال ریکارڈ کرنا ناممکن بنائیں

1,710

کال ریکارڈ ہو جانا سبھی کے لیے تشویش کا باعث رہتا ہے کیونکہ یہ بہت بڑا سکیوریٹی خطرہ ہے کہ آپ کی ذاتی بات چیت کسی اور کے ہاتھ لگ سکتی ہے۔ آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ کس طرح انکرپٹڈ کالز کی جا سکتی ہیں۔

وٹس ایپ کی مقبولیت اپنی جگہ لیکن اگر فیچرز کی بات کی جائے تو ٹیلی گرام ہمیشہ وٹس ایپ سے آگے ہی نظر آتی ہے۔ اس ایپ کو عموماً لوگ وٹس ایپ کے متبادل کے طور پر جانتے ہیں لیکن وٹس ایپ پر آنے والے تقریباً تمام فیچرز ٹیلی گرام پر اس سے پہلے ہی پیش کر دیے جاتے ہیں۔ ٹیلی گرام اپنی ابتدا سے ہی وٹس ایپ سے ایک قدم آگے رہی لیکن مقبولیت میں وٹس ایپ کو پیچھے نہ چھوڑ سکی۔

وٹس ایپ میں جب انکرپٹڈ چیٹ کا فیچر متعارف کرایا گیا تو صارفین نے اسے بہت سراہا کیونکہ اب ان کی بات چیت محفوظ ہو گئی تھی اور کوئی دوسرا اس تک نہیں پہنچ سکتا تھا لیکن کیا آپ کو معلوم ہے یہ فیچر ٹیلی گرام تو کافی عرصے پہلے ہی فراہم کر چکی تھی۔ اسی طرح وائس کال کا فیچر بھی وٹس ایپ سے پہلے ٹیلی گرام بلکہ دیگر ایپس جیسے کہ وائبر وغیرہ میں بھی موجود تھا۔

بہرحال آئیے اب بات کرتے ہیں اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ کالز (End-to-End Encrypted Calls) کی۔ یعنی اگر آپ اس فیچر کو استعمال کریں تو آپ کی کال ریکارڈ کرنا بھی ناممکن ہو جاتا ہے اور یہ زبردست فیچر ٹیلی گرام نے اپنے صارفین کے لیے پیش کر دیا ہے۔

کال ریکارڈ

میڈیا فائلز بھیجنے کی لمٹ ہو یا گروپ چیٹ میں دوستوں کو شامل کرنے کی محدود تعداد ان تمام فیچرز میں آپ کو ٹیلی گرام میں زیادہ آزادی ملے گی اور ہاں ٹیلی گرام دنیا کی تیز ترین میسجنگ سروس بھی ہے۔ یہ وٹس ایپ کی طرح بھاری بھرکم بھی نہیں۔

امید ہے آپ کمپیوٹنگ میں ٹیلی گرام کے بانی پاول دروف (Pavel Durov) کے بارے میں بھی مضمون پڑھ چکے ہوں گے۔
اب اس نئے فیچر کے ساتھ آپ یہ بھی طے کر سکتے ہیں کہ صرف آپ کے کانٹیکٹس آپ کو کال کر سکیں یا کوئی بھی کال نہ کر سکے تاکہ کالز پر بھی آپ کا بھرپور کنٹرول رہے اور کوئی آپ کو تنگ نہ کر سکے۔

ٹیلی گرام ایپلی کیشن کے علاوہ بطور ڈیسک ٹاپ پروگرام اور ویب میں بھی دستیاب ہے۔ اسے استعمال کرنے کے لیے ضروری نہیں کہ پہلے آپ اسے فون پر انسٹال کریں۔ یعنی یہ زبردست ایپلی کیشن ایک دفعہ اکاؤنٹ بنا کر آپ جہاں چاہیں استعمال کر سکتے ہیں۔

ٹیلی گرام انسٹال کریں

ٹیلی گرام کمپیوٹنگ گروپ

ٹیلی گرام پر کمپیوٹنگ میگزین کا گروپ بھی موجود ہے۔ اگر آپ ٹیلی گرام استعمال کریں تو کمپیوٹنگ کا گروپ جوائن کرنا مت بھولیں:

 نوٹ: یہ تحریر کمپیوٹنگ شمارہ 127 میں شائع ہوئی