کمپیوٹر کو بھی اُس کا حق دو

یونیورسٹی آف سرے میں”بوسٹن کالج لا ریویو “ Boston College Law Review میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ جو ایجادات کمپیوٹر کر رہے ہیں، ان ایجادات کے حقوق ملکیت یعنی پیٹنٹ بھی کمپیوٹروں کو ہی دیئے جائیں۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ کمپیوٹروں کی بڑھتی ہوئی طاقت کی وجہ سے مستقبل میں اختراعات کو پیٹنٹ کروانے میں نئے چیلنجز درپیش ہونگے۔

نئی اختراعات میں مصنوعی ذہانت کا کردار بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ کئی بڑی کمپنیاں جیسے آئی بی ایم، فائزر اور گوگل تخلیقی کمپیوٹنگ کے میدان میں بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہیں یعنی یہ ایسے کمپیوٹر/ سافٹ ویئر تیار کرنے کی کوشش کررہے ہیں جو کہ تخلیقی کام انجام دے سکیں۔ لیکن موجودہ قوانین کے تحت کمپیوٹروں کو قانونی طور پر موجد نہیں مانا جا سکتا ہے۔

تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ قانون میں تبدیلی نہ کرنے کی وجہ سے غیر یقینی صورت حال پیدا ہوگی جو اختراعات میں کمی کا موجب بنے گی اور اس کام میں زبردست منافع ہونے کے باوجود سرمایہ کار اس میدان میں اپنا پیسہ نہیں لگائیں گے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ انسان ایسی ایجادات کے حقوق ملکیت کے لیے بھی کوشاں ہوتے ہیں جو ان کی اپنی نہیں ہوتیں۔ ماضی میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جن میں کئی مختلف لوگوں نے ایک ہی ایجاد کا موجد ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ ایسی صورت حال میں کمپیوٹروں کی ایجادات پر بھی تنازعہ کھڑا ہوسکتا ہے۔

یونیورسٹی آف سرے کے لاء اور ہیلتھ سائنسز کے پروفیسر ریان ایبٹ کا کہنا ہے کہ کمپیوٹروں کو اُن کی ایجادات کے لیے موجد تسلیم کیا جانا چاہئے۔ اس سے مصنوعی ذہانت کو فروغ ملے گا اور تخلیقی کمپیوٹنگ کے میدان میں مزید ترقی ہوگی۔

ai

پروفیسر ایبٹ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کچھ حقوق ملکیت کے حوالے سے مہارت رکھنے والے قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ مشینوں کی حقوق ملکیت کے لائق ایجادات کرنے کی قابلیت مستقبل میں فائدہ مند ثابت ہوگی لیکن حقیقت یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت پچھلی چند دہائیوں کے دوران کئی ایجادات پہلے ہی کرچکی ہے۔ اس کی صرف ایک مثال The Creativity Machine نامی کمپیوٹر سسٹم ہے جس نے دنیا کا پہلا cross-bristled ٹوتھ برش ڈیزائن کیا تھا۔ جلد ہی کمپیوٹروں کے لیے ایجادات کرنا معمول کی بات بن جائے گی اور ایک ایسا وقت بھی آئے گا کہ جب ہمارے زیر استعمال بیشتر ایجادات کے ذمے دار کمپیوٹر ہونگے۔ اس لیے یہ بے حد ضروری ہے کہ ہم قوانین میں تبدیلی کرکے کمپیوٹروں کا بھی حقِ ملکیت تسلیم کریں۔

یہ تحقیق اور مطالبہ بروقت ہے۔ ڈیٹا کو پروسس کرنے کی طاقت میں زبردست اضافے نے کمپیوٹروں کو اس قابل کردیا ہے کہ وہ دماغ کے کام کرنے کے انداز کی نقل کرسکیں۔ مصنوعی ذہانت کے میدان میں ہونے والی تحقیق و ترقی سے اس بات کا قوی امکان ہے کہ اگلی دہائی میں مصنوعی ذہانت کا راج ہوگا۔ اسٹیفن ہاکنگ جیسے سائنس دان پہلے ہی خدشہ ظاہر کرچکے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کرہ ِ ارض سے انسانوں کے خاتمے کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔ ایسے میں کمپیوٹروں کو ان کی ایجادات کے لیے موجد کا درجہ نہ دینا ایک الگ طرح کی پیچیدگی کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لیے پیٹنٹ کے قوانین میں تبدیلی اب وقت کی ضرورت ہے۔

یہ تحریر کمپیوٹنگ شمارہ نمبر 123 میں شائع ہوئی

Comments are closed.