بٹ کوائن ڈیجیٹل کرنسی

10,622

اگر آپ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی دنیا میں ہونے والے تبدیلیوں سے خود کو آگاہ رکھتے ہیں تو بٹ کوائن کا نام آپ کے لئے یقینا نیا نہیں ہوگا۔ بٹ کوائن کے حوالے سے جھوٹی سچی خبریں اور معلومات انٹرنیٹ پر عام ہیں جن کی وجہ سے عام انٹرنیٹ استعمال کرنے والے یہ نہیں سمجھ پاتے کہ اصل میں بٹ کوائنز ہیں کیا اور یہ کہاں سے آتے ہیں؟ چونکہ دھوکے بازی انٹرنیٹ پر بے حد عام ہے، اس لئے پہلی بار جب بٹ کوائن کے حوالے سے پڑھا جاتا ہے تو یہ بظاہر ایک دھوکہ ہی محسوس ہوتا ہے۔

ہم اس مضمون میں بٹ کوئن کے حوالے سے قارئین کے ذہنوں میں موجود سوالات کے آسان زبان میں جوابات دینے کی کوشش کریں گے اور بتائیں گے کہ بٹ کوائنز ایک حقیقت ہے یا دھوکہ!

پہلے تو یہ سمجھ لیں کہ بٹ کوائن پروٹوکول اور کلائنٹ دونوں ہی اوپن سورس ہیں، یعنی ان کا سورس کوڈ سب کے لئے دستیاب ہے۔ یہ پروٹوکول بہترین کرپٹو گرافی پر مبنی ہے جس میں تمام ہی ٹرانزیکشنز انتہائی محفوظ ہوتی ہیں۔

یہ ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے۔ پے پال (PayPal)بھی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے لیکن یہ پے پال سے اس لئے مختلف ہے کہ پے پال میں اصلی کرنسی (جو ڈالر ، پائونڈ یا یورو وغیرہ ہوسکتی ہے) کے عوض ورچوئل کرنسی آپ کے پے پال اکائونٹ میں جمع کی جاتی ہے۔ یعنی سارا دارومدار اصلی کرنسی پر ہی رہتا ہے۔ پے پال میں موجود کرنسی کو کنٹرول کرنے اور اس اکائونٹ سے ہونے والی ہر ٹرانزیکشن کو ریگولیٹ کرنے لئے ریگولیٹر موجود ہیں۔ بٹ کوائن کا معاملہ یہاں بالکل مختلف ہے۔ بٹ کوائنز کو کنٹرول کرنے والا کوئی مرکزی بینک نہیں۔ نہ کوئی اس کا ریٹ طے کرتا ہے اور نہ ہی کوئی اس کو ریگولیٹ کرسکتا ہے۔ یہ peer-to-peer ٹیکنالوجی کے استعمال کی وجہ سے مکمل طور پر ’’ڈی سینٹرالائزڈ (decentralized)‘‘ ہے۔ اسے پیئر ٹو پیئر فائل شیئرنگ پروٹوکولز کے ذریعے سمجھا جاسکتا ہے۔ بٹ ٹورینٹ اور اس جیسے دیگر فائل شیئرنگ پروٹوکولز میں انہیں استعمال کرنے والوں کے کمپیوٹر ایک دوسرے کے ساتھ براہ راست رابطہ اور ڈیٹا ایکسچینج کرتے ہیں۔

بٹ کوائنز کا تصور پہلی بار2008ء میں ایک پیپرجسے ’’ستوشی ناکا موتو ‘‘ کے فرضی نام سے لکھا گیا تھا، کرپٹو گرافی کے لئے مخصوص ایک میلنگ لسٹ پر پیش کیا گیا۔ اس پیپر میں ستوشی ناکاموتو نے اسے پیئر ٹو پیئر الیکٹرانک کیش سسٹم قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ وہ اس نظام پر گزشتہ دو سال سے کام کررہا ہے۔

اسی ستوشی نے اس پروٹوکول کی ابتداء کی اور بنیادی کلائنٹ وغیرہ لکھا۔ جنوری 2009ء میں ستوشی نے مائننگ (جس کا ذکر ہم کچھ دیر میں کریں گے)شروع کی اور پہلا بلاک (جسے genesis بلاک کہا جاتا ہے) تخلیق کیا۔ اس کے چھ دن بعد ہی BitCoin v0.1 ریلیز کیا گیا۔ 2009ء کے آخر تک 32 ہزار بلاک تخلیق کئے جاچکے تھے اور بٹ کوائنز کا مجموعہ 16 لاکھ سے بھی زیادہ ہوگیا تھا۔

بٹ کوائن کلائنٹس کو wallets کہا جاتا ہے۔ یہ کسی اصلی بٹوے کی طرح کوائنز کو محفوظ رکھتے ہیں۔ اگر والٹ کسی بھی وجہ سے کھو جائے یا کوئی چوری کرلے تو سمجھیں کہ کوائنز بھی گئے۔ لہٰذا بٹ کوائن والٹس کی حفاظت بھی اسی طرح کرنی چاہئے جس طرح عام زندگی میں پیسوں سے بھرے ایک بٹوے کی کرتے ہیں۔

ہر بٹ کوائن والٹ کے ساتھ ایک ایڈریس منسلک ہوتا ہے۔ صارف اپنی ضرورت کے مطابق ایک سے زائد ایڈریسز بھی حاصل کرسکتا ہے۔ اسی ایڈریس کے ذریعے بٹ کوائنز وصول کئے جاتے ہیں۔ اسے آپ گھر کا پتا کہہ سکتے ہیں جس پر منی آرڈر نے موصول ہونا ہے۔ یہ ایڈریس دراصل ایک پبلک کی (Public Key) جو کچھ انگریزی حروف اور نمبروں کا مجموعہ ہوتی ہے جس کی لمبائی 33 کریکٹرز تک ہوتی ہے۔ اس کا شروعاتی عدد 1 یا 3 ہوتا ہے۔ اس پبلک کی سے مطابقت رکھتی ہوئی پرائیوٹ کی (Private Key) والٹ میں محفوظ ہوتی ہے۔ جب ایک شخص A اپنے والٹ سے کسی دوسری شخص B کو بٹ کوائنز بھیجتا ہے یعنی ٹرانزیکشن کرتا ہے، تو شخص A دراصل شخص B کی پبلک کی (جو کہ شخص B کے والٹ کا ایڈریس ہے)، پر اپنی پرائیوٹ کیز بھیجتا ہے۔ اگر یہ پرائیوٹ کیز کسی بھی وجہ سے کھو جائیں تو اس والٹ میں موجود بٹ کوائنز ناقابل استعمال ہوجائیں گے۔

بٹ کوائنز ایک والٹ سے دوسرے میں منتقل کرنے کے عمل یا ٹرانزیکشن کی انٹیگریٹی یقینی بنانے اور جعل سازی کو ناممکن بنانے کے لئے اس ٹرانزیکشن کو مائنرز (miners) کے حوالے کیا جاتا ہے جو اس کی تصدیق کرتے ہیں اور سائن بھی۔ اس عمل سے بلاک (block) تشکیل پاتے ہیں۔

مائننگ کے عمل میں زبردست کمیوٹیشنل طاقت درکار ہوتی ہے۔ یہ ایک پیچیدہ ریاضیاتی عمل ہے جس میں ٹرانزیکشن کو ہیش (hash) میں بدلا جاتا ہے۔ بٹ کوائن ٹیکنالوجی میں بلاک اور مائننگ ہی دو چیزیں ہیں جنھیں سمجھنے میں بہت دشواری ہوتی ہے۔ یہ بہت سادہ نہیں ہیں لیکن اتنی مشکل بھی نہیں کہ سمجھی نہ جاسکیں۔ ہم کوشش کرتے ہیں کہ اس عمل میں شامل مراحل کو مزید سادہ زبان میں سمجھائیں:

مضمون کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لیے نیچے موجود صفحات کے نمبرز پر کلک کریں