آن لائن کمائی کا دھوکہ دینے والے فراڈیوں سے ہوشیار رہیں

68,637

آن لائنآن لائن کمانا ایک حقیقت ہے اور اس کے ذریعے کوئی شخص ایک اچھی نوکری سے زیادہ کما سکتا ہے لیکن آپ کو درست طریقے کا پتا ہونا چاہیے۔

پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ بدقسمتی سے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بے روزگار ہے۔ ملک کے بدتر معاشی حالات اس بات کے عکاس ہیں کہ نوکری کے مواقع محدود ہوتے جارہے ہیں اور پڑھے لکھے نوجوان باصلاحیت ہونے کے باوجود اچھی نوکریوں سے محروم ہیں۔

اعلیٰ تعلیم رکھنے کے باوجود اپنی قابلیت سے کم تر نوکریاں کرنے والے نوجوانوں کی تعداد بھی کچھ کم نہیں۔ محدود تنخواہیں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی نے سونے پر سہاگے کا کام کررکھا ہے۔ ایسے حالات میں ہمارے پاس ہر روز درجنوں نوجوانوں (اور کئی ریٹائرڈ افراد ) کے فیس بک اور بذریعہ ای میل پیغامات موصول ہوتے ہیں کہ وہ آن لائن کام کرنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں رہنمائی چاہتے ہیں۔ ساتھ ہی ان میں سے نناوے فیصد لوگ pay-per-click اور ایڈ سینس کے حوالے پوچھ رہے ہوتے ہیں کہ فلاں اخبار میں اس حوالے سے اشتہار چھپا تھا یا فلاں ویب سائٹ پر انہوں نے اس حوالے سے پڑھا تھا۔

ان دوستوں کی تواقعات اور ہر اتوار کو اخبارات میں چھپنے والے اشتہارات دیکھ کو بعض اوقات انتہائی دُکھ ہوتا ہے۔ آن لائن کمائی کی جانب آنے والے لوگ ضرورت مند ہوتے ہیں تبھی ادھر کا رُخ کرتے ہیں، لیکن مفاد پرست لوگ ان بھولے بھالے لوگوں کو زیادہ کمائی کا جھانسا دے کر لوٹ لیتے ہیں۔

یاد رکھیں کہ ایڈ سینس کا اکاؤنٹ خریدنا اور فروخت کرنا دونوں غیر قانونی ہیں۔ جبکہ کسی ویب سائٹ پر لگے ایڈ سینس کے اشتہار پر جعلی کلک کرنا بھی غیر قانونی ہے۔ دنیا میں کوئی ایسی ویب سائٹ نہیں جو آپ کو صرف کسی اشتہار پر کلک کرنے کے پیسے دے۔

ایسا دعویٰ کرنے والے لوگ اور ویب سائٹ دونوں جعلی ہیں۔ آپ اگر کسی شخص سے ایڈ سینس کا اکاؤنٹ یا ویب سائٹ خریدتے ہیں تاکہ اس پر لگے اشتہارات پر دن رات کلک کرکے پیسے کمائیں تو مستقبل قریب میں آپ کو اس کام میں کی اپنی ساری سرمایہ کاری سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔

آن لائن کمانا ایک حقیقت ہے اور اس کے ذریعے کوئی شخص ایک اچھی نوکری سے زیادہ کما سکتا ہے۔ لیکن آن لائن کمائی کا مطلب اگر کوئی صرف ویب سائٹس پر لگے اشتہارات پر کلک کرنا سمجھتا ہے تو وہ انتہائی غلطی پر ہے۔ کلک کرنے سے اگر کوئی چالیس پچاس ہزار روپے ماہوار کما سکتا تو آج پاکستان سے غربت کا خاتمہ ہوجاتا۔

اگر کوئی شخص آن لائن کمانے میں سنجیدہ ہے تو ہمارہ مشورہ ہے کہ ان دل لبھانے والے اشتہارات کے پیچھے بھاگنے کی بجائے حقیقت کا سامنا کرے۔ آن لائن کام کرنا کسی آفس میں کام کرنے سے الگ ضرور ہے لیکن کسی دفتری کام جیسا ہی کام ہے۔ ڈیٹا انٹری، ویڈیو اپ لوڈنگ، ویڈیو ایڈیٹنگ، اکاؤنٹنگ، پروگرامنگ، ڈیویلپمنٹ، گرافکس ڈیزائننگ، لوگو ڈیزائننگ، پی سی ٹربل شوٹنگ، الغرض تقریباً ہر وہ کام جسے کے عوض معاوضہ ملتا ہے، آن لائن کیا جاسکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو آن لائن کمانے کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے اور اس کا کوئی شارٹ کٹ نہیں۔ pay-per-click ویب سائٹس کے پیچھے بھاگنا چھوڑ یں اور سنجیدگی سے کام کریں۔

اخبارات کی مارکیٹنگ ٹیم کو بھی چاہئے کہ اپنے مالی مفاد کو بالائے طاق رکھ کر ان فراڈ ویب سائٹس اور کمپنیوں کے اشتہارات شائع نہ کریں۔ اگرچہ اخبارات پر ان فراڈ کمپنیوں کے اشتہارات شائع کرنے پر کوئی قانونی پابندی تو نہیں لیکن اخلاقی طور پر انہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے۔

آن لائن کمانے کے لیے حوالے سے کمپیوٹنگ میگزین میں شائع مفید مضامین ملاحظہ کیجیے:

آن لائن پیسے کیسے کمائیں