لینکس کے اجزائے ترکیبی

ونڈوز جیسے آپریٹنگ نظام آپ کو انتہائی محدود انتخاب کی سہولت فراہم کرتے ہیں؛ جب کہ، لینکس آپریٹنگ نظاموں میں آپ کے پاس پسند اور انتخاب کے وسیع مواقع موجود ہوتے ہیں

linux-kernelونڈوز آپریٹنگ نظام سے لینکس آپریٹنگ نظام پر منتقل ہونے کے مشورے تو آپ نے بارہا سنے ہوں گے، لیکن اکثر کمپیوٹر صارفین جب ایسے مشوروں پر عمل کرتے ہوئے لینکس کا رْخ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو سب سے پہلے اْنھیں عموماً جس مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ لینکس کی ڈھیروں اقسام ہوتی ہیں جن میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا خاصا مشکل ہوتا ہے۔

پھر جب اس معاملے میں لینکس صارفین سے مشورہ طلب کیا جاتا ہے تو ہر ایک کے پاس سے ایک مختلف جواب سامنے آتا ہے، کوئی اوبنٹو کو ترجیح دیتا ہے تو کوئی فیڈورا کا دیوانہ نکلتا ہے، کوئی ریڈ ہیٹ کا قصیدہ پڑھتا ہے تو کوئی لینکس منٹ کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتا ہے، کوئی ڈیبین کی مدح سرائی کرتا ہے تو کوئی اوپن سوزی کے گْن گاتا ہے۔ غرض جتنے صارفین اتنی لینکس۔ ایسے میں عام صارف بسا اوقات گڑبڑا جاتا ہے اور لینکس پر چار حروف بھیج کر دوبارہ ونڈوز آپریٹنگ نظام کا رْخ کرلیتا ہے۔

دراصل گنتی کے چند کلک اور لمحات میں تیار شدہ آپریٹنگ نظام استعمال کرنے کا عادی صارف بکھیڑوں میں پڑنے سے گھبراتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ونڈوز جیسے آپریٹنگ نظام آپ کو انتہائی محدود انتخاب کی سہولت فراہم کرتے ہیں؛ جب کہ، لینکس آپریٹنگ نظاموں میں آپ کے پاس پسند اور انتخاب کے وسیع مواقع موجود ہوتے ہیں۔ البتہ ان سے مستفید ہونے اور اپنے لیے درست لینکس ذائقے کا انتخاب کرنے کے لیے ہمیں لینکس آپریٹنگ نظام کے اجزائے ترکیبی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس بنیادی فہم کے بعد ہم با آسانی اپنے لیے بہترین لینکس منتخب کرسکتے ہیں۔

لینکس کے اجزائے ترکیبی بالترتیب کچھ یوں ہیں:

1… کرنل
2… پیکیج منیجر
3… شیل (گرافیکل یوزر انٹرفیس/ GUI)

اب ہم ان تمام اجزا کا باری باری جائزہ لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ یہ کون سی بلائیں ہیں جو مل کر لینکس جیسی طاقت ور بلا تخلیق کرتی ہیں۔

1… کرنل:

نام تو اس کا کرنل ہے، لیکن کام اس کا چیف آف اسٹاف سے ہرگز کم نہیں۔ یہی لینکس کی جان اور پہچان ہے، اسی کی وجہ سے لینکس کو لینکس کہتے ہیں، یہی لینکس آپریٹنگ نظام ہے۔ لینکس کوئی بھی ہو، اس کی بنیاد لینکس کرنل پر ہی ہوتی ہے۔ یہ صرف لینکس ہی میں نہیں، بلکہ ونڈوز سمیت ہر آپریٹنگ سسٹم میں بھی موجود ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ ونڈوز ایک کلوزڈ سورس آپریٹنگ سسٹم (جس کا سورس کوڈ مائیکروسافٹ کی ذاتی جاگیر ہے اور اس تک کسی کو رسائی حاصل نہیں) ہے اس لئے اس کے کرنل کا ذکر نہ ہونے کے برابر کیا جاتا ہے۔

1969ء میں، AT&T بیل لیباریٹریز میں کام کرنے والے کین تھومپسن اور ڈینس رچی نے یونیکس (Unix) نامی ایک آپریٹنگ نظام تخلیق کیا جو اپنی خوبیوں کے باعث بڑی تعداد میں لوگوں کی توجہ حاصل کرنے میں کام یاب رہا۔ بعدازاں، یونیکس کی بنیاد پر یا اْس سے مشابہت رکھنے والے چند مزید آپریٹنگ نظاموں پر بھی کام شروع ہوا لیکن کچھ منصوبے ابتدا ہی میں توجہ نہ ملنے کے باعث دَم توڑ گئے تو کچھ آپریٹنگ نظاموں کا ماخذ (source code) دست یاب ہونے کے باوجود ترمیم کی اجازت نہیں دی گئی اور وہ مقبولیت نہ پاسکے۔

1991ء میں یونی ورسٹی آف ہیلسنکی (Helsinki)، فن لینڈ کے ایک طالبِ علم لائنَس ٹوروالڈز ( Torvalds  Linus)نے ایک آپریٹنگ نظام کے تصور پر کام کرنا شروع کیا۔25 اگست 1991ء کو اس نے ایک نیوزگروپ میں لکھا کہ وہ بطور مشغلہ ایک مفت آپریٹنگ نظام پرکام کررہا ہے جو GNU کی طرح بڑا نہیں ہوگا، اپریل میں شروع کیا جانے والا کام اب تیار ہونے ہی والا ہے اور minix آپریٹنگ نظام کے صارفین اْس کی خوبیوں اور خامیوں کی نشان دہی کریں کیوں کہ یہ آپریٹنگ نظام ظاہری صورت میں اْس سے کچھ ملتا جلتا ہی ہوگا۔ نتیجتاً کئی لوگوں نے اس منصوبے میں حصہ ڈالا اور ستمبر 1991ء میں لینکس کا ورژن 0.01 جاری کردیا گیا جو صرف 10ہزار239 سطور کے کوڈ پر مشتمل تھا۔ اپنے آزاد لائسنس کے باعث لینکس کرنل روز افزوں ترقی کی راہ طے کرتا رہا اور جون 2013ء میں جاری ہونے والا لینکس  3.9.5 آپریٹنگ نظام ڈیڑھ کروڑ سے زائد سطور کے کوڈ پر مشتمل ہے۔

لینکس کرنل کی مختصر تاریخ جاننے کے بعد اب اس طرف آتے ہیں کہ کرنل صاحب کرتے کیا ہیں۔ کمپیوٹنگ کی زبان میں کرنل عموماً کمپیوٹر آپریٹنگ نظام کا بنیادی عنصر ہوتا ہے جو ہارڈویئر کی سطح پر ہونے والی ڈیٹا پروسیسنگ اور اطلاقیوں (ایپلی کیشنز) کے درمیان رابطے کا کام دیتا ہے۔ کرنل انسان اور مشین کے درمیان مترجم کی ذمہ داری سے کہیں بڑھ کر کام کرتا ہے۔ یہ کرنل ہی ہوتا ہے جو سی پی یو، میموری، منسلکہ آلات (ان پٹ، آؤٹ پٹ) وغیرہ کو سمجھتا ہے اور انسان کی جانب سے ایپلی کیشن کے ذریعے دیے جانے والے احکامات کو مشین تک پہنچاتا اور عمل درآمد کرواتا ہے۔کرنل کو کمپیوٹر کے ہارڈویئر تک براہ راست رسائی حاصل ہوتی ہے، یہ کسی پروگرام کی ضرورت کے مطابق اسے میموری فراہم کرتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ایک پروگرام دوسرے پروگرام کو دی گئی میموری اسپیس میں اپنے ٹانگیں نہ پسارے یعنی ریسورسز conflict پیدا نہ ہو۔ آپ اسے دستیاب کمپیوٹر ریسورس کا منیجر سمجھ سکتے ہیں۔

لینکس کرنل بذاتِ خود گرافیکل یوزر انٹرفیس نہیں رکھتا بلکہ سیاہ فام کمانڈ لائن انٹرفیس کی نسل سے تعلق رکھتا ہے، تاہم اسے اس حالت میں بھی استعمال کیا جاسکتا اور اْس پر ہر کام سرانجام دیا جاسکتا ہے۔

2 …پیکیج منیجر:

کرنل کے بعد باری آتی ہے پیکیج منیجر کی۔ کرنل کی حد تک لینکس میں ہمارے پاس کوئی انتخاب نہیں ہوتا، کیوں کہ کرنل تو ایک ہی ہے۔لینکس ذائقوں میں انتخاب کا سلسلہ پیکیج منیجر سے شروع ہوتا ہے۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ پیکیج منیجر کیا ہے اور کیا کارنامے انجام دیتا ہے۔

جیسے کہ ہم نے جانا، کرنل تو سافٹ ویئر اور ہارڈویئر کے مابین رابطے کا کام کرتا ہے، تو پیکیج منیجر دراصل سافٹ ویئرکے مجموعے کا نام ہے جو کمپیوٹر آپریٹنگ نظام پر سافٹ ویئر کی تنصیب، تازہ کاری، ترتیب اور حذف کاکام خود کار طریقے سے انجام دیتا ہے۔ پیکیج میں سافٹ ویئر، ایپلی کیشنز اور ڈیٹا کے علاوہ اْن کی معلومات یعنی سافٹ ویئر کا نام، تفصیل، مقصد، ورڑن، مصنف وغیرہ کا نام بھی شامل ہوتا ہے۔ یہ خصوصاً لینکس اور دیگر یونیکس جیسے آپریٹنگ نظاموں کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔

لینکس کرنل کے لیے کئی پیکیج منیجر دستیاب ہیں جن میں چند مشہور یہ ہیں:

apk:    اینڈرائیڈ پر مستعمل۔
deb:    ڈیبین پیکیج جو ڈیبین اور اس کی کوکھ سے جنم لینے والے آپریٹنگ نظاموں (مثلاً اوبنٹو) پر استعمال کیا جاتا ہے۔
pkg.tar.xz:  آرچ لینکس کے پیک مین پیکیج منیجر پر مستعمل۔
RPM:    ریڈ ہیٹ پیکیج منیجر جو ریڈہیٹ اور اْس کے سہارے استوار دیگر آپریٹنگ نظاموں (مثلاً اوپن سوزی، مینڈریوا لینکس) پر استعمال ہوتا ہے۔
پیکیج منیجر کے پلیٹ فارم کے مطابق مختلف سافٹ ویئر تخلیق کیے جاتے ہیں۔ ڈیبین اور آر پی ایم، دو بڑے، مستحکم اور معروف پیکیج منیجر ہیں جو آن لائن رضاکار کمیونٹی کے تحت چل رہے ہیں اور لینکس کے بیشتر ذائقے ان ہی دو میں سے کسی ایک کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ پیکیج (یعنی سافٹ ویئر، ایپلی کیشنز، آلات وغیرہ) ہمارے کام کو آسان اور کم وقت میں انجام دہی کے قابل بناتے ہیں۔ چوں کہ کمپیوٹر صارفین کی بڑی تعداد تکنیکی معلومات نہیں رکھتی اور ہر کام کے لیے کوڈ یاد رکھنا اور اْنھیں لکھنا اچھا خاصا دردِسر ہے اس لیے پیکیج ہمارا کام آسان کردیتے ہیں۔ کرنل کے مقابلے میں پیکیج استعمال کرتے ہوئے ہمیں طویل کوڈز لکھنے نہیں پڑتے؛ بلکہ، ہم تصویری صورت میں احکامات جاری کرتے ہیں اور انھیں کرنل اپنی زبان میں سمجھ کر ہارڈویئر سے تعمیل کرواتا ہے۔

مزید تفصیلات یا دیگر چھوٹے چھوٹے پیکیج منیجروں کی تفصیلات کو پھر کسی وقت کے لیے اْٹھا رکھتے ہیں۔ سرِدست اتنا ذکر کرلیتے ہیں کہ ڈیبین اور ریڈ ہیٹ اگرچہ دو لینکس آپریٹنگ نظام ہیں لیکن ان کی بنیاد پر بھی مزید کئی لینکس آپریٹنگ نظام قائم ہیں۔ ڈیبین ہی کی مثال لیجیے، اس کی بنیاد پر بننے والی اوبنٹو مقبولیت میں خود ڈیبین کو پیچھے چھوڑ چکی ہے۔ پھر ڈیبین کی بنیاد پر قائم اوبنٹو بھی دیگر لینکس نظاموں مثلاً لینکس منٹ کی بنیاد ہے۔ گویا ایک چھت پر دوسری چھت اور دوسری پر تیسری چھت۔ ایک ڈیبین اور اس کے اتنے رنگ تو پھر ان میں فرق کیا ہے؟ درحقیقت بیک اینڈ پر زیادہ تر کام بنیادی آپریٹنگ نظام ہی کررہا ہوتا ہے تاہم فرنٹ اینڈ پر صارف کو مختلف آسانیاں فراہم کی جاتی ہیں۔ یہی آسانیاں اور سہولیات کسی آپریٹنگ سسٹم کی مقبولیت کا باعث بنتی ہیں۔

3…شیل (GUI):

عام کمپیوٹر صارف کو جس چیز سے سب سے زیادہ واسطہ پڑتا ہے اور جو چیز پہلی نظر میں اْسے زیادہ متاثر کرتی ہے، وہ کسی بھی سافٹ ویئر کا GUI یعنی گرافیکل یوزر انٹرفیس ہوتا ہے، عام الفاظ میں ظاہری شکل و صورت۔ کون سا آپشن کہاں پایا جاتا ہے، کوئی سافٹ ویئر کس طرح انسٹال کیا جاتا ہے، کوئی کام کس طرح انجام دیا جاتا ہے، کوئی ترتیب کس طرح طے کی جاتی ہے، یہ کام ایک صارف کے لیے GUI پر منحصر ہوتے ہیں۔
شیل کی تعریف یوں بیان کی جاسکتی ہے کہ شیل ایک ایسا سافٹ ویئر ہے جو ایک آپریٹنگ نظام کے صارفین کو انٹرفیس فراہم کرتا ہے جس کے ذریعے وہ کرنل کی خدمات سے استفادہ حاصل کرتے ہیں۔

مائکروسافٹ ونڈوز میں ونڈوز شیل استعمال ہوتا ہے جسے ہم ونڈوز ایکسپلورر کے نام سے جانتے ہیں۔ تھوڑے زمانہ قدیم سے تعلق رکھنے والے احباب CLI یعنی کمانڈ لائن انٹرفیس سے بھی واقف ہوں گے جس کی ایک مثال مائکروسافٹ ڈوس ہے۔ ان کے مقابلے میں لینکس آپریٹنگ نظام پر انتخاب کا دائرہ کار کافی وسیع ہے۔ آپ کوئی بھی آپریٹنگ نظام استعمال کیوں نہ کررہے ہوں، اپنی مرضی، پسند اور کمپیوٹر کی استعداد کے مطابق شیل استعمال کرسکتے ہیں۔ لینکس کے لیے دست یاب چند معروف شیل یہ ہیں:

٭    یونٹی (Unity)
٭    کے ڈی ای (KDE)
٭    (گ)نوم (Gnome)
٭    سنامون (Cinnamon)
٭    ایکس ایف سی ای (Xfce)
٭    ایل ایکس ڈی ای (LXDE)

موخر الذکر دو شیل انتہائی پرانے کمپیوٹر پر چلنے کی طاقت رکھتے ہیں اور سست رفتاری اور کم وسائل کے باعث ناقابلِ استعمال ہوجانے والے کمپیوٹروں پر بھی بہترین کارکردگی دکھاتے ہیں۔ نوم اور یونٹی بیشتر لینکس نظاموں پر استعمال کیے جاتے ہیں اور خوب صورتی میں اپنی مثال آپ ہیں، تاہم ونڈوز کے عادی صارفین کے لیے سنامون ایک بہترین انتخاب ہے جس میں بنیادی ڈھانچہ ونڈوز شیل سے ملتا جلتا ہے اور اجنبیت کا احساس نہیں دلاتا۔
رہی یہ بحث کہ کون سا پیکیج منیجر بہتر ہے اور کون سا شیل بہترین ہے، اس کا پیمانہ طے کرنا بڑا مشکل ہے کیونکہ ہر شخص کی پسند الگ الگ ہوتی ہے۔ کوشش رہے گی کہ مستقبل قریب میں اس موضوع پر بھی کبھی کچھ لکھ سکوں۔ فی الحال، اسی معلومات پر اکتفا کرتے ہیں۔ امید ہے کہ لینکس آپریٹنگ نظام کو سمجھنے میں ان اجزائے ترکیبی کا بیان خاصا مفید رہے گا۔

2 تبصرے
  1. Yasir Imran says

    میرے خیال سے لینکس میں اوبنٹو سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ورژن ہے

  2. ناصر الدین عامر says

    زبردست

Comments are closed.