پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز بل 2015

565

گزشتہ ماہ قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی ،جس میں اکثریت حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے ممبران کی ہے، نے سائبر جرائم کے حوالے سے مجوزہ قانون پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز بل 2015کی منظوری دی۔ جس کے بعد اسے قومی اسمبلی میں منظوری کیلئے پیش کیا جانا تھا اور وہاں سے منظوری کے بعد یہ بل قانون بن کر رائج ہوجاتا۔ لیکن سائبر جرائم کے اس بل، جس کی کاپیاں انتہائی خفیہ اور محدود تعداد میں تقسیم کے لئے چھاپی گئی تھیں، کی اسکین کاپی کسی طرح لیک ہوگئی (یہ ایک الگ بحث ہے کہ یہ کاپی کیوں، کیسے اور کس نے لیک کی)۔ اس سے پہلے قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر اس بل کی ایک ڈرافٹ کاپی بھی ڈاؤن لوڈنگ کے لئے پیش کی گئی تھی۔ مگر جو اسکین کاپی لیک ہوئی، وہ قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر موجود بل سے بہت مختلف ہے۔ بہرحال، مجوزہ بل کی لیک ہونے والی کاپی سرکاری طور پر کہیں اپ لوڈ نہیں کی گئی۔ البتہ یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ جس بل کی کمیٹی نے منظوری دی ہے، وہ وہی ہے جس کی کاپی لیک ہوئی ہے۔

اس ڈرافٹ بل کو بنیاد بنا کر اگلے چند روز کے دوران کئی پریس کانفرنسس اور سیمنار ہوئے ، اخباروں اور جریدوں میں سیکڑوں مضامین لکھے گئے، ٹوئٹر اور فیس بک پر بل کی مخالفت میں طوفان کھڑا کردیا گیا۔ اس بل کی مخالفت میں پیش پیش ایک غیر سرکاری تنظیم، انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرز ایسوسی ایشن (ISPAK) اور پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (PASHA) ہے۔ دیکھا جائے تو ان تینوں میں سے پاکستانی انٹرنیٹ صارفین کی نمائندہ تنظیم کوئی بھی نہیں۔ ان میں سے دو کاروباری تنظیمیں ہیں جن کا مقصد اپنے کاروبار کی فلاح و بہبود ہے نہ کہ انٹرنیٹ صارفین کی۔ جبکہ تیسری غیر سرکاری تنظیم خود ساختہ ہے۔ بہرحال ان کی اپنی تشکیل کردہ جوائنٹ کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ جو ڈرافٹ بل انہوں نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حوالے کیا تھا، اسٹینڈنگ کمیٹی نے اس میں خفیہ طور پر بڑی تبدیلیاں کی ہیں جس کی وجہ سے یہ مجوزہ قانون مبہم اور غیر شفاف ہوگیا ہے۔اس کے علاوہ اس کمیٹی نے بل میں موجود خامیوں کی جانب نشاندہی کی ہے۔ کمیٹی کے بقول مجوزہ بل میں زبردست خامیاں موجود ہیں جن میں سے چند کو بنیاد بنا کر اسے کالا قانون قرار دیا گیا ہے۔ کہا گیا کہ اگر یہ قانون قومی اسمبلی سے پاس ہوگیا تو یہ پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کی دنیا اندھیر کردے گا۔

غیر سرکاری تنظیم جس کا ہم نے ذکر کیا، اس نے ہماری قوم کی نفسیات کو دیکھتے ہوئے چند ایسے نقات پیش کئے جن کو پڑھ کر اوّل تو مجھے بھی ذاتی طور پر اس بل اور اسے پیش کرنے والوں کی نیت پر شک ہونے لگا۔ اِن نقات کو اس قدر اور اس انداز میں سوشل میڈیا پر پھیلایا گیا کہ بات پھیلتی ہی چلی گئی اور اس قدر پھیل گئی نامور صحافیوں اور ٹی وی کے اینکر پرسنز نے اس پر پروگرام تک کرڈالے۔ معاملہ اس قدر پیچیدہ ہوگیا کہ حکومت کو مجبوراً اس بل کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے سے پیچھے ہٹنا پڑا۔

اس سے پہلے کہ اس بل کی متنازعہ شقوں کا ذکر کیا جائے، میں اپنے قارئین کو یہ بات باآور کروانا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں شاید ہی کوئی ایسا قانون ہو جس میں سقم موجود نہ ہو یا وہ اس قدر کمزور نہ ہو کہ اس پر اعتراض نہ کیا جائے۔تو کیا قانون کی عدم موجودگی کو کمزور قانون پر فوقیت دی جاسکتی ہے؟ ہر گز نہیں۔

دستورِ پاکستان میں کئی سقم اور خامیاں موجود ہیں جنہیں جانتے ہوئے بھی کئی دہائیوں سے دُور نہیں کیا گیا۔ مثلاً پاکستان کے آئین (آرٹیکل 41) میںواضح طور پر تحریر ہے کہ صرف ایک مسلمان شخص ہی پاکستان کا صدر ہوسکتا ہے۔ ساتھ ہی آئین کے آرٹیکل 49 میں درج ہے کہ اگر صدرِ پاکستان انتقال کرجاتے ہیں، استعفیٰ دے دیتے ہیں یا ان کا مواخذہ کرکے عہدے سے ہٹادیا جاتا ہے تو نئے صدر کے انتخاب تک چیئرمین سینٹ قائم مقام صدرِ پاکستان ہوں گے۔ اس کے علاوہ صدرِ پاکستان کی ملک میں عدم موجودگی کی صورت میں بھی چیئر مین سینٹ صدرِ پاکستان کے فرائض انجام دیں گے۔ لیکن کیا چیئرمین سینٹ کا مسلمان ہونا ضروری ہے؟ آئینِ پاکستان اس حوالے سے کچھ نہیں کہتا۔ یعنی یہ عین ممکن ہے کہ کوئی غیر مسلم چیئر مین سینٹ منتخب ہوجائے اور صدر پاکستان کی عدم موجودگی میں وہ پاکستان کا صدر بن جائے۔ اسی طرح صدرِ پاکستان اور وزیرِ اعظم پاکستان کے لئے مسلمان ہونے کی شرط آئین کے اس شق سے بھی متصادم ہے جس میں تمام شہریوں کو برابر کے حقوق دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ ایسی ہی کئی کمزوریوں کے باوجود پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام اس آئین کے پابند ہیں اور ریاست کا کاروبار اسی دستور کے تحت چل رہا ہے۔

2002ء میں اس وقت کے صدر پرویز مشرف نے الیکٹرانک ٹرانزیکشنز آرڈیننس2002 جاری کیا تھا جسے موجودہ سائبر بل کی ابتدائی شکل کہا جاسکتا ہے۔ پھر دسمبر 2007ء میں صدر ِ پاکستان نے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز آرڈیننس2007ء نافذ کیا۔ آئین کی رو سے کسی بھی آرڈیننس کو اجراء کے 120 دنوں کے اندر قومی اسمبلی سے منظور کروانا ضروری ہوتا ہے بصورت دیگر وہ آرڈیننس خود منسوخ ہوجاتا ہے۔ چونکہ مذکورہ بالا آرڈیننس اس دوران قومی اسمبلی سے منظور نہیں کیا جاسکا، اس لئے اسی آرڈیننس کے نام تبدیل کرکے 2008ء اور 2009ء میں دوبارہ نافذ کیا گیا۔

جولائی 2009ء میں قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز بل 2009ء کو منظوری کے لئے قومی اسمبلی میں پیش کرنے کی سفارش کی۔ اس ڈرافٹ بل کو قومی اسمبلی کے نومبر 2009ء میں ہونے والے سیشن میں پیش کیا جانا تھا مگر اس پر کارروائی نہ ہوسکی اور اسے واپس کمیٹی کے پاس بھیج دیا گیا۔ 2012ء میں پھر نام تبدیل کرکے اسے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز بل 2010ء پر کارروائی شروع ہوئی ۔ اس کارروائی میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی موجودہ وزیر انوشہ رحمان بھی شامل تھیں۔کئی سال گزر گئے لیکن یہ بل قومی اسمبلی سے منظور نہ ہوسکا۔ اس قانون کے ساتھ یہ پنگ پانگ کا کھیل گزشتہ ایک عشرے سے کھیلا جارہا ہے۔ اس کے باوجود پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز بل 2015ء کے ناقدین کہتے ہیں کہ اس بل کو منظور کرنے میں جلد بازی کی جارہی ہے!

اگرچہ اس مجوزہ بل کی تیاری میں بقول محترمہ انوشہ رحمان،ترقی یافتہ ممالک میں رائج سائبر قوانین سے فائدہ اٹھایا گیا لیکن اس بل میں نقائص سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن یہ نقائص ایسے بھی نہیں کہ ان کی بنیاد پر سرے سے قانون کو منظور ہی نہ ہونے دیا جائے۔ سائبر قوانین کی عدم موجودگی کی وجہ سے پاکستان میں انٹرنیٹ پر ہونے والے جرائم قانون کے شکنجے میں نہیں آتے اور ان کی تعداد و سنگینی سے ہم لاعلم رہتے ہیں۔ یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ اکثر پاکستانی صارفین انٹرنیٹ پر ہونے والے جرائم کو سرے سے جرائم سمجھتے ہی نہیں۔ مثلاً کسی کو سوشل میڈیا پر گالیاں دینا، بدنام کرنے کے لئے پوسٹ شائع کرنا، حتیٰ کہ قتل کی دھمکی دینا تک جیسی چیزیں جرم سمجھی ہی نہیں جاتیں۔ جبکہ انٹرنیٹ سے باہر یہ تمام اقدام قابل ِ سزا جرائم ہیں۔

بہرحال، پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز بل 2015میں شامل کچھ شقیں جن پر سب زیادہ شور مچایا جارہا ہے، وہ یہ ہیں:

سیکشن ۱۸-کسی شخص کے وقار کے خلاف جرم:

Whoever, with malicious intent, knowingly and publicly exhibits, displays, transmits any electronic communication that harms the reputation of a neutral person, threatens any sexual acts against a natural person; superimposes a photograph of the face of a natural person over any sexually explicit images; distorts the face of a natural person; or includes a photograph or a video of a natural person in sexually explicit conduct, without the express or implied consent of the person in question, intending that such electronic communication cause that person injury or threatens injury to his or her reputation, his or her existing state of privacy or puts him or her in fear for him or her safety shall be punished with imprisonment for a term which may extend to one year or with fine which may extend to one million rupees or with both.

یعنی اگر کوئی شخص کسی دوسرے انسان کے بارے میں جانتے بوجھتے ایسی چیزیں ظاہر کرتا یا پھیلاتا پایا گیا کہ جس سے اس انسان کی نیک نامی کو نقصان پہنچتا ہے، یا وہ شخص اس انسان کے خلاف جنسی جرائم کی دھمکی دیتا ہے، یا اس انسان کے چہرے کو کسی اخلاق باختہ تصویر میں موجود چہرے سے بدلتا ہے، یا اس انسان کے چہرے کو بگاڑتا ہے وغیرہ تو اس شخص کو ایک سال کی قید یا دس لاکھ روپے جرمانہ یایہ دونوں سزائیں دی جاسکتی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس شق کی وجہ سے سیاسی کارٹون، سیاسی تبصرے، بلاگ، میم (Meme) یا وہ سیاسی تصویر جو اکثر لوگ سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں، قابلِ سزا جرم بن جائیں گے۔ نیز، ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اچھی یا بری نیت کا فیصلہ کیسے کیا جائے گا؟یاد رہے کہ اس شق سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو پہلے ہی مبرا قرار دیا جاچکا ہے ۔

ہمارا ماننا ہے کہ اس شق سے کسی سیاسی کارٹون، میم، بلاگ یا تصویر پر اس وقت تک سزا نہیں ہوسکتی جب تک کہ مواد تخلیق کرنے والا اپنے مواد کی سچائی ثابت نہ کرسکے۔ پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 499 میں پہلے ہی کسی شخص کی نیک نامی کو نقصان پہنچانے کو قابلِ سزا جرم بتایا گیا ہے۔ اگر کوئی شخص انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہوئے کسی شخص کے خلاف جھوٹے دعوے کرتا ہے تو یقیناً اس عمل کو قابلِ سزا ہونا چاہئے۔ ناقدین کا یہ اعتراض کہ نیت کا فیصلہ کیسے کیا جائے گا؟کسی حد تک قابل فہم ہے۔ تاہم عدالتیں آج بھی حقائق کی روشنی میں نیتوں کی جانچ کررہی ہیں۔ مثلاً کوئی قتل، قتلِ عمد(جان بوجھ کر قتل کرنا) ہے یا قتلِ خطا (غلطی سے قتل کردینا)، اس بات کا فیصلہ عدالتیں ہی کرتی ہیں۔ اس معاملے میں بھی ملزم کی نیت دستیاب حقائق اور ثبوتوں کی روشنی میں جانچی جاتی ہے۔

ہماری رائے میں اس شق میں سے چہرہ بگاڑنے والا حصہ حذف کردینا چاہئے۔ شاید یہی وہ حصہ ہے جس کی وجہ سے بل کے اس سیکشن کی مخالفت کی جارہی ہے۔

سیکشن ۲۱- سائبر اسٹاکنگ:

(1) Whoever with intent to coerce, intimidate, or harass any person uses information system, information system network, internet, website, electronic mail or any other similar means of communication to,-
(a) communicate obscene, vulgar, contemptuous, or indecent intelligence;
(b) make any suggestion or proposal of an obscene nature;
(c) threaten any illegal or immoral act;
(d) take or distribute pictures or photographs of any person without his consent or knowledge;
(e) display or distribute information in a manner that substantially increases the risk of harm or violence to any other person commits the offence of cyber stalking.

سائبر اسٹاکنگ (Cyberstalking) ایک ایسا جرم ہے جس میں مجرم برقی ذرائع ابلاغ و مواصلات استعمال کرتے ہوئے اپنے شکار کو دھمکاتا ہے اور ہراساں کرتا ہے۔ یہ انٹرنیٹ پر عام ترین جرم ہے جسے ہمارے یہاں شاید جرم نہیں سمجھا جاتا۔ سوشل میڈیا استعمال کرنے والی خواتین اکثر ایسے مجرموں کا ہدف ہوتی ہیں۔ ناقدین البتہ کہتے ہیں کہ اس سیکشن میں کسی شخص کے علم میں لائے بغیر اس کی تصویر کھینچنے اور بانٹنے کو جرم بنا دیا گیا ہے۔

اس سیکشن میں واضح طور پر لکھا گیا کہ کسی شخص کو ہراساں کرنے اور ڈرانے کی نیت سے کئے جانے والے عمل قابل گرفت ہیں۔ تصویر کھینچے اور تقسیم کرنے والے حصے کو الگ سے پڑھنا قطعی طور پر غلط ہے۔ ویسے بھی شق کے اس حصے میں” رضامندی یا علم“ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں نہ کہ” رضامندی اور علم“۔ یعنی اگر آپ کسی کی تصویر کھینچ رہے ہیں اور اسے پتا ہے کہ آپ اس کی تصویر کھینچ رہے ہیں (اور وہ آپ کو منع نہیں کرتا) تو اس شق کا اطلاق اس پر نہیں کیا جاسکے گا۔ البتہ اگر کوئی شخص آپ کی اجازت اور آپ کے علم میں لائے بغیر آپ کی تصویر کھینچے اور اسے تقسیم کردے تو یہ شاید آپ کو بھی اچھا نہیں لگے گا۔ لیکن اس کے باوجود بھی اس قانون کا اطلاق تصویر کھینچے والے پر اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک یہ ثابت نہ ہوجائے کہ اس نے تصویر آپ کو ہراساں کرنے کے لئے کھینچی ہے۔ بہرحال، اس شق کی بنیاد پر ناقدین نے سوشل میڈیا پر وویلا کیا کہ اب سیاسی رہنماؤں کی فوٹو شیئر کرنے پر بھی سزا ہوگی۔ حالانکہ معروف و عوامی شخصیات کی تصاویر کھینچنے یا تقسیم کرنے پر بھلا کوئی ذی ہوش شخص کیسے سزا کا سوچ سکتا ہے؟

ہماری رائے میں اس سیکشن میں لفظ بے ہودگی اور توہین آمیز کی وضاحت ضرور شامل کرنی چاہئے۔ اس وضاحت کے بغیر یہ شق ادھوری ہے کیونکہ بہت سی چیزیں ایسی کہی جاسکتی ہیں جو کہ ایک شخص کےلئے توہین آمیز جبکہ دوسرے کے لئے نہ ہوں۔

سیکشن ۲۰- ملیشیئس کوڈ:

Whoever wilfully writes, offers, makes available, distributes or transmits malicious code through an information system or device, with intent to cause harm to any information system or data resulting in the corruption, destruction, alteration, suppression, theft or loss of information system or data shall be punished with imprisonment for a term which may extend to two years or with fine which may extend to one million rupees or both:

Provided that the provision of this section shall not apply to the authorized testing, research and development or protection of any code for any lawful purpose:

اس شق کے مطابق اگر کوئی شخص جان بوجھ کو کوئی ایسا کوڈ لکھے، فراہم کرے یا تقسیم کرے جس سے انفارمیشن سسٹم یا ڈیوائس میں خرابی پیدا ہو یا اس میں موجود ڈیٹا خراب ہوجائے وغیرہ تو اس شخص کو دو سال قید یا دس لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ایک ساتھ دی جاسکتی ہیں۔

ناقدین اس شق پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کی وجہ سے کسی انفارمیشن سسٹم کی سکیوریٹی جانچنے والا شخص بھی مجرم ہوگا۔ حالانکہ اس شق میں واضح طور پر تحریر ہے کہ ایسی ٹیسٹنگ جس کے لئے اجازت لی گئی ہو یا تحقیقی مقاصد کے لئے کی جانے والی ٹیسٹنگ پر اس شق کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اس شق کی وجہ سے وائرس بنانے والوں، تقسیم کرنےوالوں اور انفارمیشن سکیوریٹی سسٹمز کو ناکارہ بنانے والوں، ڈیٹا چوری کرنے والوں کو سزا دینا ممکن ہوگا۔ ہماری رائے میں ناقدین کا اس شق کے حوالے سے خدشہ غیر ضروری ہے۔

سیکشن ۲۲-اسپیمنگ:

(1) Whoever intentionally transmits harmful, fraudulent, misleading, illegal or unsolicited intelligence to any person without the express permission of the recipient, or causes any information system to show any such intelligence commits the offence of spamming.

اس سیکشن میں واضح طور پر اسپیمنگ کے مسئلے پر قانون سازی کی کوشش کی گئی ہے۔ اسپیمنگ دنیا کے کئی ممالک میں ایک قابل گرفت جرم ہے۔ لیکن ناقدین کا دعویٰ ہے کہ اس سیکشن کی وجہ سے کسی بھی شخص کو اس کی اجازت کے بغیر ای میل بھیجنا جرم ہوجائے گا۔ اس دعوے کو مزاق ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔ ایک عام ای میل اور دھوکے بازی، جعل سازی، افواہوں پر مشتمل ای میل میں فرق کیا جانا چاہئے۔اگر کوئی شخص کسی کمپنی کو نوکری کے لئے اپنا سی وی ای میل کرتا ہے تو یہ ای میل کوئی کیسے اسپیم سمجھ سکتا ہے؟ ویسے بھی اگر کسی کمپنی نے اپنی ویب سائٹ پر، اخبار میں، کسی اشتہار میں، وزیٹنگ کارڈ پر وغیرہ پر اپنا ای میل ایڈریس شائع کررکھا ہے تو یہ اس بات کی اجازت ہے کہ آپ اس پر ای میل کرسکتے ہیں۔ ہاں، اگر کوئی دھمکی آمیز، دھوکے بازی اور غلط معلومات پر مبنی ای میل کرتا ہے تو اسے ضرور قابل گرفت ہونا چاہئے۔ اسپیمنگ کے خلاف قانون سازی پر اعتراض ایسا ہی ہے جیسے کراچی میں کچھ عرصہ پہلے ٹریفک قوانین کے خلاف ورزی پر جرمانہ دو گنا کردینے پر بس مالکان نے احتجاج کیا تھا۔

سیکشن ۲۹-ٹریفک ڈیٹا محفوظ کرنا:

(1) A service provider shall, within its existing or required technical capability, retain its traffic data for a minimum period of ninety days or such period as the Authority may notify from time to time and provide that data to the special investigation agency or the authorised officer whenever so required.

بل کا یہ سیکشن انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرز کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنے نیٹ ورک سے گزرنے والے ٹریفک ڈیٹا(مثلاً کونسی ویب سائٹ دیکھی گئی) کو کم از کم نوے روز تک محفوظ رکھیں اور جب تفتیش کاروں کو اس ڈیٹا کی ضرورت ہو، سروس پرووائیڈر انہیں فراہم کرے۔

اس شق پر اعتراض بل میں سروس پرووائیڈرز کی تعریف کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔ بل میں سروس پرووائیڈر میں آئی ایس پی کے علاوہ سائبر کیفے اور وہ تمام جگہیں تصور کی گئی ہیں جہاں انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ یہ اعتراض خاصا معقول ہے کیونکہ آئی ایس پی پہلے ہی ٹریفک ڈیٹا کا ریکارڈ اپنے پاس محفوظ رکھتے ہیں لیکن کسی سائبر کیفے یا ایئر پورٹ جہاں انٹرنیٹ کی سہولت میسر ہو، وہاں ٹریفک ڈیٹا کو ریکارڈ کرنا ایک مشکل کام ہے۔ اس شق میں ٹریفک ڈیٹا کو محفوظ کرنے کی شرط صرف آئی ایس پی تک محدود کردینی چاہئے۔

سیکشن ۳۴-مواد کے انتظام اور کسی مواد کو کسی بھی انفارمیشن سسٹم سے حذف یا ناقابل رسائی بنانے کی طاقت:

The Authority is empowered to manage intelligence and issue directions for removal or blocking of access of any intelligence through any information system. The Authority or any officer authorized by it in this behalf may direct any service provider, to remove any intelligence or block access to such intelligence, if it considers it necessary in the interest of the glory of Islam or integrity, security or defense of Pakistan or any part thereof, friendly relations with foreign states, public order, decency or morality, or in relation to contempt of court or commission of or incitement to an offence under this Act.

بل کا یہ حصہ اتھارٹی (جو پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی ہے)کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ پاکستان میں کسی بھی ویب سائٹ کو ناقابل رسائی بنانے کے احکامات جاری کرسکے۔ اس وقت بھی پاکستان میں جتنی ویب سائٹس بلاک ہیں، انہیں بلاک کرنے کے احکامات پی ٹی اے نے ہی صادر کررکھے ہیں۔

اس شق میں اسلام کی عظمت ، ملکی سالمیت، حفاظت اور دفاع سمیت دوسرے دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی بھی انٹیلی جنس (تقریر، آواز، ڈیٹا، سگنل، تحریر، تصویر یا ویڈیو) کو بلاک کرنے کا اختیار اتھارٹی یا اس کے مجاز آفیسر کے سپرد کردیا گیا ہے۔ ناقدین کا اعتراض کہ اس شق کی وجہ سے پاکستان میں انٹرنیٹ سینسر شپ کا دائرہ کار بہت وسیع ہوجائے گا، بالکل درست ہے۔اس شق میں یہ بات وضاحت طلب ہے کہ اسلام کی عظمت ، ملکی سلامتی کے خلاف اور دوست ممالک کے مفاد کے خلاف مواد کی تشریح و تفریق کیسے کی جائے گی؟ اخلاقیات کا فیصلہ کیسے ہوگا؟اور اتھارٹی اس بات کا فیصلہ کس بنیاد پر کرے گی کہ فلاں مواد ملکی سلامتی کے خلاف ہے؟