سوشل میڈیا پر زیادہ تصاویر اپ لوڈ کرنا ڈپریشن کی علامت ہے

1,003

کیا آپ بڑی تعداد میں سوشل میڈیا پر اپنی تصاویر شیئر کرتے ہیں؟ اگر ہاں تو خبردار ہوجائیں، یہ ڈپریشن کی علامت ہوسکتی ہے۔ امریکی میں ہونے والی اس تحقیق کے مطابق ڈپریشن کا شکار صارفین جو تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرتے ہیں ان میں بہت سے چہرے ہوتے ہیں لیکن ان تصاویر میں فلٹرز بہت کم استعمال کیے گئے ہوتے ہیں۔
سوشل میڈیا کے انسانی نفسیات پر اثرات کے بارے میں بہت تحقیق ہوئی ہے لیکن سوشل میڈیا کسی عارضے کی علامت کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے، یہ کچھ نئی تحقیق ہے۔

ہارڈو رڈ یونی ورسٹی اور ورمونٹ (Vermont) یونی ورسٹی کے محققین نے ایک ایسا کمپیوٹر پروگرام تشکیل دیا جو صارفین کی سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئی تصاویر اور پوسٹوں کا تجزیہ کرکے اندازہ لگاتا ہے کہ آیا صارف ڈپریشن کا شکار تو نہیں۔یہ تحقیق EPJ ڈیٹا سائنس نامی جرنل میں شائع ہونے ہے اور محققین کا کہنا ہے کہ ان کا پروگرام 70 فیصد درستگی سے ڈپریشن کا شکار صارفین کو شناخت کرسکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فیملی ڈاکٹر عموماً صرف 40 فیصد کیسز میں ہی درست اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان کا مریض ذپریشن کا شکار ہے یا نہیں۔ درست اندازہ لگانے کے لیے فیملی ڈاکٹروں کو معاونت درکار ہوتی ہے۔

اس مطالعے میں یہ بھی پتا لگایا گیا ہے کہ ذہنی دباؤ کا شکار صارفین جو تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرتے ہیں وہ نارمل صارفین سے زیادہ گہرے رنگوں پر مبنی ہوتی ہیں اور ایسی تصاویر پر دوسرے سوشل میڈیا صارفین تبصرے بھی زیادہ کرتے ہیں۔ اس تحقیق میں شامل ڈاکٹر کرسٹوفر ڈین فورتھ کہتے ہیں کہ چونکہ سوشل میڈیا پر ہماری سرگرمیوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے، اس لیے ان سرگرمیوں کے تجزیے سے ذہنی یا جسمانی بیماریوں کا بالکل شروع میں ہی پتا لگایا جاسکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ذرا تصور کریں، آپ کے اسمارٹ فون میں ایک ایپلی کیشن انسٹال ہے جو آپ کی سرگرمیوں اور برتاؤ پر نظر رکھتی ہے۔ جیسے ہی آپ کے برتاؤ میں کوئی ایسی تبدیلی واقع ہوتی ہے جو کسی عارضے کی ابتدائی علامت ہوسکتی ہے، ایپلی کیشن فوراً آپ کے ڈاکٹر کو اس حوالے سے مطلع کردے۔

اس تحقیق کے لیے محققین نے جو پروگرام بنایا اس نے 43 ہزار سے زائد تصاویر کا تجزیہ کیا جو 166 سوشل میڈیا صارفین نے رضاکارانہ طور پر انہیں دی تھیں۔ ان 166 صارفین میں 71 ایسے صارفین بھی شامل تھے جن میں ڈپریشن کی شناخت ہوچکی تھی۔ پروگرام نے تصاویر کا تجزیہ کرکے پتالگایا کہ ڈپریشن کا شکار صارفین اور صحت مند صارفین کے برتاؤ میں ایسے فرق موجود ہے جسے کمپیوٹر پروگرام کے ذریعے شناخت کیا جاسکتا ہے۔

محققین اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ان کا سیمپل سائز یعنی وہ تصاویر اور صارفین جن کا تجزیہ کیا گیا، بہت چھوٹا ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ذہنی دباؤ کا شکار اور صحت مند صارفین کے برتاؤ میں فرق اتنا نمایاں ہے اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اہم بات یہ ہے کہ وہ اس بات کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں کہ سوشل میڈیا پوسٹس میں ذہنی دباؤ کے نشانات شناخت کیے جاسکتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ اس نظام کو کسی ایپلی کیشن کی شکل میں پیش کرنے سے پہلے زیادہ بڑے ڈیٹا سیٹ پر تحقیق کرنی ہوگی۔