لینکس کیا ہے؟ الف تا ی مکمل تفصیل

535,966

لینکس کیا ہے؟ اس کا مختصر جواب نہیں دیا جا سکتا، یہ ایک انتہائی وسیع موضوع ہے آپ کو اس کی الف تا ی تفصیل بتاتے ہیں۔

ہیکر Hacker لینکس لوگوکون ہے؟

ہیکر کے لفظی معنی ہیں بہت سمجھدار۔ یہ اصطلاح گزشتہ صدی کی ساٹھ کی دہائی میں رائج ہوئی۔ یہ اصل میں MIT کے ایک گروپ کا نام تھا جنہیں ’’ما بعد البنیادیات‘‘ پڑھایا جاتا تھا۔

یہ اُس کا لقب ہوتا جو کسی مسئلے کا حل دریافت کر لے، یا کسی مسئلے کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے اس سے آگاہ کردے تاکہ نقصانات سے بچا جاسکے، لیکن ابلاغ عامہ نے اس لفظ کا غلط استعمال کرتے ہوئے اسے معلومات کے مجرموں (جو مختلف طریقوں سے شہرت حاصل کرنے یا منافع حاصل کرنے کے لئے معلومات کی چوری کرتے ہیں اور کوئی بھی مفید یا نئی چیز دریافت نہیں کرتے) پر لاگو کردیا اور انہیں ہیکر کہنے لگے، کچھ لوگوں کو بے چارے اصل ہیکروں کی یہ توہین پسند نہیں آئی اور انہوں نے ان تخریب کاروں کے لئے کریکر cracker کی اصطلاح وضع کردی جو ابھی تک دونوں فریقین میں تفریق کے لئے مستعمل ہے، چنانچہ ہیکر اصل میں وہ نہیں جنہیں ہم ہیکر سمجھتے ہیں، بلکہ وہ اصل میں کریکر ہیں۔
لیکن افسوس کہ ہمارا میڈیا (بلکہ ہمارے نصاب کے کرتا دھرتابھی) اس سب سے بالکل انجان بیٹھے ہیں۔

بلیک ہیٹ، وائٹ ہیٹ اور گرے ہیٹ ہیکر

یونکس Unix سسٹم کیا ہے؟

مثبت معنوں میں اسے اکثر ہیکر دوست (Hackers Friendly) سسٹم کہا جاتا ہے، لیکن رسمی طور پر کوئی بھی نظام (آپریٹنگ سسٹم) جو POSIX کے معیارات پر پورا اترے وہ یونکس کہلائے گا۔ جس کا مطلب ہے کہ یہ کوئی ایک نظام نہیں ہے، یہ معیارات اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ بنایا گیا کوئی بھی پروگرام POSIX کے معیارات پر پورا اترنے والے ہر سسٹم پر کام کرے گا، ان سسٹمز کی باقاعدہ شروعات ستر کی دہائیوں میں ہوئی جب بیل لیبس (اس کا بل گیٹس سے کوئی تعلق نہیں!)کے کِن تھامسن اور رچی نے 1973ء میں پہلا یونکس آپریٹنگ سسٹم بنایا۔ یہ پہلا یونکس آپریٹنگ سسٹم بعد میں AT&T کو فروخت کردیا گیا۔ یہ اس قدر مقبول ہوا کہ اس کے لئے سپورٹ فراہم کرنا ایک مشکل امر بن گیا۔ چنانچہ AT&T نے اس کا مصدر (سورس کوڈ) یونیورسٹیوں، تحقیقی  مراکز اور غیر تجارتی مقاصد کے لئے فراہم کردیا۔ چنانچہ مصدر کے ہوتے ہوئے سپورٹ فراہم کرنے کی کوئی ضرورت نہ رہی (صرف V سسٹم کے لئے اور وہ بھی غیر آزاد لائسنس کے تحت یعنی یہ اب بھی AT&T ہی کی ملکیت ہے اور کسی کو بھی اس میں بغیر اجازت کے تبدیلی کرنے کی اجازت نہیں)۔

یہ سسٹم C لینگویج میں لکھا گیا تاکہ اس کی ہر قسم کے کمپیوٹرز پر چلنے کی ضمانت دی جاسکے اور یہ ہارڈویئر سے بالکل الگ رہتے ہوئے کام کرسکے۔ یہ خصوصیات اس کے پانچویں ورژن میں تھیں جسے سسٹم وی بھی کہا جاتا ہے۔ بعد میں اس سے ملتے جلتے سسٹم کئی مختلف کمپنیوں نے نکالے، لیکن اس سے سب سے زیادہ مشابہہ سسٹم BSD ہے یعنی برکلے سافٹ ویئر ڈسٹری بیوشن ۔اس کے بعد POSIX کے معیارات وضع کئے گئے جس کا میں نے اوپر تذکرہ کیا ہے تاکہ ایک ایسا متفقہ معیار وضع کیا جاسکے جس کے اندر رہتے ہوئے تمام کمپنیاں اس پر کام کر سکیں۔ یونکس کے مختلف ورژن مختلف کمپنیوں نے مختلف ناموں سے جاری کئے ہیں جیسےAIX، HP/UX، SunOS، Solaris، SCO Unix وغیرہ۔

لینکس اوبنٹو کو بغیر انسٹال کیے ویب براؤزر میں آزمائیں

مگر یہ سسٹم بہت مہنگے تھے۔ چنانچہ ان کا استعمال تحقیقی مراکز، جامعات اور عسکری اداروں تک ہی محدود رہا، اگرچہ اب یہ سسٹم کافی پرانے ہوگئے ہیں مگر یہ شروع ہی سے بہت ساری خصوصیات کے حامل رہے ہیں۔ ان سسٹمز پر اس وقت بھی ایک سے زائد یوزر کام کرسکتے تھے اور یہ بذریعہ نیٹ ورک بھی ایک دوسرے سے منسلک تھے (انٹرنیٹ پروٹوکول کی دریافت سے بھی پہلے ) اور بہت زیادہ محفوظ بھی تھے۔ ان کے مقابلے میں سستے سسٹم بھی دستیاب تھے جو یونکس کی اصل خصوصیات سے بالکل عاری تھے۔ یہ سسٹم گھریلو استعمال کے لئے بازاروں میں عام دستیاب تھے مگر یہ  POSIX کے معیارات پر پورا نہیں اترتے تھے اور اصل یونکس کے مقابلے میں ان کی حیثیت ایک ’’کیلکولیٹر‘‘ سے زیادہ نہیں تھی۔

گِنو (GNU )سسٹم کیا ہے؟

GNUجی ہاں… اسے گِنو ہی پڑھا جاتا ہے جو کہ ایک جانور کا نام ہے اور جو اس کا لوگو بھی ہے اور یہ مخفف ہے GNU is not Unix کا۔ یعنی گِنو یونکس نہیں ہے۔ چنانچہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ GNU نہ صرف یونکس کا متبادل ہے (زیادہ صحیح معنوں میں یونکس کے ٹولز) بلکہ یونکس (بہت طاقتور مشینوں کو چلانے والا نظام جسے صرف ملک ہی خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں اور جس کا استعمال Non Disclosure Agreement سے مشروط ہے)کے فلسفے کا بھی۔ گِنو کے بانی MIT کے پروفیسر رچرڈ سٹالمین ہیں جو مذکورہ انسٹی ٹیوٹ میں مصنوعی ذہانت کے پروفیسر ہیں۔ اس آزاد مصدر نظام کو بنانے کا خیال انہیں 80 کی دہائی میں آیا جو ایک ٹیکسٹ ایڈیٹر EMACS سے شروع ہوا، پھر انہوں نے FSF آرگنائزیشن بنانے کے لئے فراغت حاصل کی اور پوری دنیا سے ہزاروں پروگرامرز نے یہ نظام بنانے کے لئے ان کی آواز پر لبیک کہا۔ مگر یہ پروجیکٹ آپریٹنگ سسٹم کا کرنل (kernel) بنانے کے لئے نہیں تھا بلکہ صرف سسٹم کے ٹولز جیسے ٹیکسٹ ایڈیٹر بنانے کے لئے تھا۔

لینکس Linux سسٹم کیا ہے؟

یہ اصل میں یونکس سے Compatible نظام کا کرنل ہے، جو نہ ہی یونکس کے پانچویں ورژن یعنی سسٹم وی سے بنایا گیا ہے اور نہ ہی اسے بنانے میں BSD سے استفادہ کیا گیا ہے۔ بلکہ اسے بالکل صفر سے لکھا گیا ہے۔ یہ نظام نہ صرف مفت ہے بلکہ آزاد مصدر بھی ہے یعنی آپ اس میں اپنی مرضی کی تبدلیاں کرنے اور اسے اپنے حساب سے ترقی دینے اور بنانے میں بالکل آزاد ہیں اور وہ بھی بغیر کسی کی اجازت لئے۔

لینکس کے اجزائے ترکیبی

اس نظام کو فِن لینڈ کے لینس ٹوروالڈز نے 1991ء میں اس وقت شروع کیا جب وہ HELSINKI یونیورسٹی میں ایک طالبعلم تھے۔ ان کی تمنا تھی کہ ان کے پاس بھی اپنے گھر کے کمپیوٹر میں یونکس سسٹم ہو۔ چنانچہ انہوں نے یونکس کے ابتدائی مراحل کو پڑھ کر ایک ایسا مکمل آپریٹنگ سسٹم صفر سے لکھنا شروع کیا جو نہ صرف عام آپریٹنگ سسٹمز پر فوقیت رکھتا ہو بلکہ یونکس کے دوسرے سسٹمز پر بھی۔ انہوں نے ایک بنیادی ورژن تیار کر ہی لیا جس کے بعد انہوں نے تمام فائلیں انٹرنیٹ پر رکھ کر لینکس کرنل پروجیکٹ شروع کیا۔ سب سے پہلا کرنل 1994ء میں جاری کیا گیا اور آج دنیا بھر سے ایک ہزار سے زائد پروگرامرز ان کے اس پروجیکٹ میں شامل ہوکر صرف کرنل پر کام کر رہے ہیں۔

اس سسٹم کا نام یعنی Linux کو دو الفاظ کے ابتدائی حروف کو جوڑ کر بنایا گیا ہے۔ پہلا لفظ LINUSہے جو اس سسٹم کے بانی کا نام ہے۔ اس لفظ میں سے تین ابتدائی حروف یعنی LIN منتخب کئے گئے ہیں۔ دوسرا لفظ Unix کا مخفف یعنی UX لیا گیا۔ اس طرح لفظ LINUX تشکیل پاتا ہے۔
لینکس ایک طرح سے اوپن سورس تحریک کی ناک ہے جس پر فخر کیا جاسکتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ لینکس POSIX کے تمام معیارات پر پورا اترتا ہے۔ لیکن یہ کبھی بھی اس کے لئے لائسنس کی فیس ادا نہیں کرے گا کیونکہ گِنو کا فلسفہ UNIX کی نقل نہیں بلکہ اس کا متبادل پیش کرنا ہے۔ گِنو فلسفہ یہ ہے کہ اچھا پیش کیا جائے چاہے وہ یونکس ہو یا نہ ہو۔
KDE

آزادسافٹ ویئر کیا ہیں؟

یہ فکری ملکیت کی حفاظت کا ایک طریقہ کار ہے جو معلومات کو چھپانے پر یقین نہیں رکھتا بلکہ اسے نشر کرنے اور پھیلانے پر زور دیتا ہے۔ یہ آئیڈیا فری سافٹ ویئر فائونڈیشن کے بانی پروفیسر رچرڈ کا ہے۔ چنانچہ آزاد سافٹ ویئر کا مطلب ہے کہ کوئی بھی ان سافٹ ویئر کا مصدر یعنی سورس کوڈ حاصل کرسکتاہے، بلا روک ٹوک اس کی کاپیاں بنا سکتا ہے، اسے مفت تقسیم کرسکتا ہے بلکہ فروخت بھی کرسکتا ہے۔

ریڈ ہیٹ بمقابلہ اوبنٹو لینکس

کیا صرف لینکس ہی ایک آزاد مصدر نظام ہے؟

نہیں، بہت سارے نظام ہیں، مثال کے طور پر:
FreeBSD    NetBSD        OpenBSD
اور ان کے علاوہ بھی لیکن لینکس ان میں سب سے زیادہ شہرت رکھتا ہے، سب سے زیادہ ہارڈویئر کو سپورٹ کرتا ہے اور سب سے زیادہ کمیونٹی سپورٹ رکھتا ہے۔

یہ ونڈوز کی طرح آسان ہے یا ڈاس کی طرح مشکل؟

یہ ایک لچکدار سسٹم ہے۔ یہ مشکل ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔ اگر آپ KDE استعمال کریں تو یہ خوبصورتی میں ونڈوز کو بھی پیچھے چھوڑ دے گا۔ آپ تمام مینیو شفاف کرسکتے ہیں اور تمام بٹن بہت خوبصورت انداز میں سیٹ کرسکتے ہیں۔ اگر آپ اسے کسی بہت ہی پرانے کمپیوٹر پر چلانا چاہتے ہیں جسے آپ پھینکنے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ رہے تھے تو یہ اس پر بھی ممکن ہے۔ حقیقت میں جب ہم آپریٹنگ سسٹم کی بات کرتے ہیں، تو اصل میں ہم اس پروگرام کی بات کر رہے ہوتے ہیں جو دوسرے ایپلی کیشن پروگرامزاور مادی مشینوں (ہارڈویئر) کے بیچ میں ایک تہہ کی طرح ہوتا ہے اور ان دونوں کی ایک دوسرے تک رسائی آسان بناتا ہے، یا بعض اوقات (سیکورٹی کے حوالے سے) روکتا بھی ہے۔

رہی بات انسانی عنصر سے نمٹنے کی تو یہ آپریٹنگ سسٹم کا کام نہیں ہے بلکہ ایپلی کیشن پروگرامز کا کام ہے۔ لیکن اس مکسنگ کی وجہ یہ ہے کہ تجارتی آپریٹنگ سسٹم شروع سے ہی ایسے پروگراموں اور انٹرفیس کے ساتھ آتے ہیں جنہیں دیکھ کر صارف یہ سمجھتا ہے کہ یہی آپریٹنگ سسٹم ہے۔ چنانچہ وہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا لینکس کے بھی گرافیکل انٹرفیس اور پروگرام استعمال میں آسان ہیں؟ جواب یقینا ہاں میں ہے۔ لینکس کے ہزاروں بلکہ لاکھوں ایپلی کیشن پروگرامز اور گرافیکل انٹرفیس ہیں۔

کیا مجھے ہر پروگرام الگ سے حاصل کرنا ہوگا؟

نہیں، یہاں ڈسٹری بیوشن کا کام شروع ہوتا ہے۔ لینکس کی ڈسٹری بیوشنز مختلف کمپنیاں تیار کرتی ہیں جیسے ریڈ ہیٹ، مینڈریوا، ڈیبین وغیرہ۔ یہ ڈسٹری بیوشنز سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز پر مشتمل ہوتی ہے۔ ان میں لینکس کے ساتھ ساتھ اس پر کام کرنے والے ہزاروںسافٹ ویئر (2000 سے 8000سافٹ ویئر پیکج) بھی مفت دستیاب ہوتے ہیں۔

اس کی خوبیاں کیا ہیں؟

اس کی خوبیاں مندرجہ ذیل ہیں:
٭… مضبوط، محفوظ، تیز رفتار اور موثوق۔
٭…بنیاد سے ہی اسے نیٹ ورک نظام پر چلنے کے قابل بنایا گیا ہے۔
٭…انتہائی کم خرچ۔
٭…مفت / آزاد مصدر اور GPL کے تحت انسانیت کی ملکیت۔
٭…خود کو بنانے کی استطاعت (Self-Contained)
٭… گزشتہ ورژن اور ہارڈ ویئر سے compitablity
٭…ونڈوز کے برعکس well-documented
٭…دنیا کے تمام معروف معیارات پر پورا اترتا ہے جیسے POSIX، ANSI، ISO۔
٭…Unicode کے معیارات پر پورا اترنے کی وجہ سے عالمی ہے اور دنیا کی بیشتر زبانیں سپورٹ کرتا ہے۔
٭…وائرس اور ٹروجنز جاسوسوں سے بالکل خالی۔
٭…حقیقی 32 بِٹ (یا اس سے اعلی) سسٹم۔
٭…لاکھوں مفت سافٹ ویئر آپ کے انتظار میں۔
٭…گھریلو کمپیوٹر پر آپ کو UNIX کا ماحول دیتا ہے۔
٭…بڑی اور تاریخی کمپنیوں کی طرف سے سپورٹ شدہ ہے جیسے IBM اور HP۔

کیا ونڈوز 32 بِٹ کا سسٹم نہیں ہے؟

نہیں، وہ صرف ایسا نظر آتا ہے۔ اگر آپ کسی سلو پرنٹر سے پرنٹ کر رہے ہوں، کسی پرانی سی ڈی سے کوئی دستاویز پڑھ رہے ہوں، کوئی بڑی فائل کاپی کر رہے ہوں، یا 500 میگابائٹ فائل ایکسٹریکٹ کر رہے ہوں تو اس کے نتیجے میں سارا سسٹم Slow ہو کر ہینگ ہوجائے گا اور کینسل کا بٹن کام کرنا چھوڑ دے گا جب تک کہ مطلوبہ عمل مکمل نہ ہو۔ اس کی وجہ ونڈوز کا BIOS کے نظام پر انحصار کرنا ہے جو کئی دہائیوں پہلے بنایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ ونڈوز دو مراحل سے گزر کر اسٹارٹ ہوتی ہے۔پہلا مرحلہ 16 بِٹ میں autoexec.bat کی عمل کاری ہے۔ اس کے بعد دوسرے مرحلے میں ونڈوز 32 بٹ پر منتقل ہوتی ہے۔

ونڈوز کے ہوتے ہوئے مجھے لینکس کی کیا ضرورت؟

٭… ونڈوز کا کم محفوظ ہونا۔ اس میں جاسوس ایپلی کیشنز اور سیکورٹی ہولز کی بھرمار ہے۔ اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ ونڈوز پر کام کرنے والے 70% کمپیوٹرز وائرس اور ٹروجنز کا شکار رہتے ہیں۔
٭… فکری ملکیت کے حقوق اور EULA۔
٭… کسی خاص معیار کا پابند نہیں ہے۔ اگر کسی کمپنی پر انہیں غصہ آجائے تو اس کے سافٹ ویئر ونڈوز پر چلنا بند ہوجاتے ہیں جیساکہ AOL کے ساتھ ایکس پی کی ریلیز کے وقت ہوا۔
٭… ضروری نہیں کہ پرانے سافٹ ویئر نئے سسٹم پر چلیں جیسا کہ ونڈوز 98 کے اکثر سافٹ ویئر ایکس پی پر نہیں چلتے۔

لینکس منٹ انسٹالیشن گائیڈ

٭… سسٹم کا بار بار بلا وجہ منجمد ہونا اور بار ایرر ریٹرن کرنا۔
٭… ہمیشہ آپ کو مزید سافٹ ویئر خریدنے پر اکسایا جاتا ہے۔
٭… سپورٹ طلب کرنے پر یا کسی قسم کی شکایت کرنے پر آپ کو کہا جاتا ہے کہ نئی پراڈکٹ خرید لیں … یہ وائرس ہوسکتا ہے … دوبارہ ڈاون لوڈ کریں … حتیٰ کہ آپ پر بے وقوف ہونے کا الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ آپ نے سسٹم صحیح طریقے سے بند نہیں کیا یا آپ کو مزید میموری کی ضرورت ہے۔
٭… مفت سافٹ ویئر کی قلت (عموماً تجرباتی سافٹ ویئر) اور علمی پروجیکٹس کی قلت۔
٭… بڑے اور طویل پروجیکٹس کے لئے نا موزوں۔
٭… حکومتی سطح کے خفیہ پروجیکٹس کے لئے انتہائی ناموزوں، کیونکہ آپ کو اس بات کا قطعی یقین نہیں ہوسکتا کہ یہ مطلوبہ کام کر رہا ہے کیونکہ اس کا سورس کوڈ دستیاب نہیں اور اگر کسی اور لائسنس کے تحت دستیاب ہوبھی جائے تو آپ اسے نہ تو نشر کرسکتے ہیں اور نہ ہی ماہرین کو جانچ کے لئے دے سکتے ہیں۔
٭… ایک خفیہ دستاویز میں مائیکروسافٹ نے خود اعتراف کیا ہے کہ لینکس اس کے ونڈوز آپریٹنگ سسٹم سے بہتر ہے، یہ دستاویز halloween کے نام سے مشہور ہے ۔
فکری ملکیت کے حقوق کی کسے فکر ہے!! اور EULA کیا ہے…؟
وقت کے ساتھ ساتھ دنیا کے بیشتر ممالک عالمی آزاد تجارت کے معاہدے پر دستخط کرکے اس میں شامل ہوتے جارہے ہیں جو فکری ملکیت کے حقوق کی سختی سے پابندی کرواتا ہے اور چوری شْدہ سافٹ ویئر کی نا جائز فروخت کو روکنے کا مطالبہ بھی کرتا ہے۔ چنانچہ وہ وقت زیادہ دور نہیں جب چوری شدہ سافٹ ویئر کی سستے داموں فروخت ممکن نہیں رہے گی اور اگر آپ ان سافٹ ویئر کے ساتھ پکڑے جاتے ہیں تو آپ کا کوئی بھی بہانہ EULA کی وجہ سے نا قابلِ قبول ہوگا:
…یہ سسٹم کے ساتھ آیا تھا۔
…میں نے کچھ کاپی نہیں کیا۔
… میرے دوست کے پاس لائسنس شدہ کاپی ہے اور میں نے مستعار لی ہے۔
… دکاندار نے کہا تھا کہ یہ اصلی ہے۔
غرض کہ کوئی بھی بہانہ قابلِ قبول نہیں ہوگا اور آپ کو مجوزہ جرمانہ اور سزا مل کر رہے گی۔ اب بات کرتے ہیں کہ EULA کیا ہے۔ یہ سافٹ ویئر بنانے والی کمپنی اور صارف کے درمیان ایک ’’زبردستی‘‘ کا ایگریمنٹ یا معاہدہ ہے جسے اکثر لوگ بغیر پڑھے قبول کرکے ونڈوز اور اسے کے تمام سافٹ ویئر انسٹال کرتے ہیں۔ اس کے مطابق کمپنی آپ کوسافٹ ویئر نہیں بیچتی بلکہ آپ کو پیسوں کے بدلے میں اسے صرف استعمال کرنے کا محدود حق دیتی ہے۔ اس کے چند شرائط یہ ہیں:
٭… سافٹ ویئر کو استعمال کرتے ہی آپ پیسے واپس لینے کے حق سے محروم ہوجاتے ہیں چاہے سافٹ ویئر آپ کے معیار پر پورا اُترے یا نہیں جبکہ ایگریمنٹ آپ کوسافٹ ویئر نصب کرنے پر دکھایا جاتا ہے۔
٭… سافٹ ویئر کا استعمال صرف استعمال کی حد تک ہی محدود ہے، آپ اسے analysis یا عکسی انجینئرنگ کے لئے استعمال نہیں کرسکتے (یہ شِق یورپی یونین کے قوانین کے بر خلاف ہے)۔
٭… اگر آپ سے اس کا سیریل یا کوڈ گْم ہوجاتا ہے تو بیشتر مواقع پر آپ کو اسے دوبارہ خریدنا ہوگا۔
٭… ایک بڑی رقم ادا کرکے خریدنے کے باوجود کسی قسم کی ذمہ داری نہیں لی جاتی ہے اور نقصان کی کوئی ضمانت نہیں۔
٭… اگر ونڈوز میں کوئی مسئلہ ہوجائے تو مائیکروسافٹ کو ہی یہ فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے کہ وہ آپ کے ساتھ کیا کرے … لائسنس چھین کر آپ کے پیسے واپس کردے یا سابقہ سی ڈیز کو اسی مسئلہ پر مشتمل دوسری سی ڈیز سے بدل دے۔
٭… اگر آپ کو ایگریمنٹ منظور ہے تو آپ رجسٹرڈ صارف کہلائیں گے ورنہ ’’کریکر‘‘۔
٭… غیر قانونی استعمال پر آپ کو نہ صرف لائسنس کی فیس ادا کرنی ہوگی بلکہ کمپنی اور ملک کا نام بدنام کرنے کا ہرجانہ بھی ادا کرنا ہوگا ۔
میرا نہیں خیال کہ وہ اتنی شدت سے اس پر عمل درآمد کرواتے ہوں گے!
اس کی وجہ عالمی آزاد تجارت کے معاہدے میں ’’چھوٹ‘‘ کی مدت ہے، یا ایک سازش تاکہ یہ مہنگے آپریٹنگ سسٹم ہمارے تعلیمی نصاب، اداروں اور یونیورسٹیوں میں گھر کر جائیں اور جب واپسی کا کوئی راستہ نہیں رہے گا تو پھر وہ اپنی ’’ضربِ کاری‘‘ لگائیں گے۔ نوٹ کریں کہ چھوٹی سی کسی دکان سے لے کر یونیورسٹیوں تک سب ہی جگہ ونڈوز استعمال ہوتی ہے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ چند روپوں میںسافٹ ویئر کی فروخت جاری رہے گی تو یہ خیال دل سے نکال دیں۔

لینکس کا لائسنس کیا ہے؟

لینکس کا لائسنس GPL کہلاتا ہے یعنی جنرل پبلک لائسنس جس کے تحت آپ کو ہر قسم کی آزادی حاصل ہے۔ آپ کو کسی قسم کی کوئی فیس ادا نہیں کرنی ہوتی۔ آپ سا فٹ ویئر میں ہر قسم کی تبدیلی کرنے، کاپی کرنے، حتیٰ کہ فروخت کرنے تک میں آزاد ہیں۔ سافٹ ویئر کو عکسی انجینئرنگ کے لئے بھی استعمال کر سکتے ہیں کیونکہ اس لائسنس کے تمام سافٹ ویئر کا مصدر یعنی سورس کوڈ دستیاب ہوتا ہے۔ اس ضمن میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ چونکہ تجارتی کمپنیوں کے سافٹ ویئر کے سورس کوڈ دستیاب نہیں ہوتے اس لئے وہ یہ پروپیگنڈا کرتی ہیں کہ چونکہ سورس کوڈ دستیاب نہیں اس لئے تخریب کار (کریکر) ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ کریکر نہیں جانتے کہ ان کا سافٹ ویئر کیسے کام کرتا ہے۔ حقیقتِ حال اس سے بالکل برعکس ہے۔

انٹرنیٹ پر تجارتی سافٹ ویئر کے Cracks عام ملتے ہیں جو اس بات کو غلط ثابت کرتے ہیں اور تجارتی سافٹ ویئر کی کمزوری ظاہر کرتے ہیں۔ اوپن سورس سافٹ ویئر میں اگر ایسی کوئی خرابی پائی بھی جاتی ہے تو وہ نہ صرف جلدی دریافت ہوجاتی ہے بلکہ دور بھی کردی جاتی ہے۔
یونکس کے ایک ماہر رے مونڈ ایریک کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک طویل سوال و جواب پر مشتمل مقالہ (FAQ) لکھا تھا جس میں انہوں نے صارف کی ضرورت اور بجٹ کے مطابق تجارتی سسٹم خریدنے کے بارے میں ہدایات لکھی تھیں اور وہ کون سی خصوصیات ہیں جن کا جانناسافٹ ویئر کی خرید سے پہلے صارف کے لئے لازمی ہے، لیکن لینکس کے معرض وجود میں آنے کے بعد وہ کہتے ہیں:
Times change, industries evolve, and I can now replace that FAQ with just three words: ‘Go get Linux!’

اوپن سورس کیا ہے؟

اوپن سورس کے بارے میں جانیے

کیا لینکس قابلِ بھروسہ ہے؟

جی ہاں، لینکس پر حساس ترین کام سر انجام دینے کے لئے بھروسہ کیا جاسکتا ہے، لینکس کی بعض ڈسٹری بیوشنز کو امریکی وزارتِ دفاع DoD کی سند حاصل ہے۔ عملی تجربات بتاتے ہیں کہ کسی غلطی کی دریافت کے بعد اس کی تصحیح کرنا (اور مفت پیچ فراہم کرنا) لینکس میں صرف 5 منٹ سے 3 دن کا وقت درکار ہوتا ہے، مثال کے طور پر بعض CPU میں FDEV_BUG کے مسئلہ کو صرف تین دن میں حل کرلیا گیا (حل یہ تھا کہ لینکس کا کرنل وہ حسابات بھی کرسکے جس میں پراسیسر غلطی کرجاتا ہے) جبکہ دوسرے آپریٹنگ سسٹم استعمال کرنے والوں کو ایک سال انتظار کرنا پڑا تب کہیں جاکر انٹل نے صرف مسئلے کا ہی اعتراف کیا…!!

کیا یہ آپریٹنگ سسٹم پھیلے گا؟

دنیا کی بہت ساری بڑی کمپنیاں اس سسٹم کو استعمال کرتی ہیں، مثال کے طور پر IBM اس کو باقاعدہ سپورٹ کرتی ہے حالانکہ لینکس اس کے سسٹم AIX کا حریف ہے۔ اسی طرح Intel بھی GNU C Compiler کو سپورٹ کرتی ہے۔ Oracle نے بھی اپنی ایک لینکس ڈسٹری بیوشن بنائی ہے اور سن مائیکرو سسٹمز نے بھی اپنی ٹیکنالوجی ’’جاوا‘‘ کا استعمال کرتے ہوئے لینکس پر مبنی ایک آپریٹنگ سسٹم بنایا ہے اور اب وہ لینکس کے لئے 3D انٹرفیس بنانے پر کام کر رہے ہیں۔ اسی طرح دنیا کی بڑی بڑی اور مشہور ویب سائٹس کے سرورز بھی لینکس پر چل رہے ہیں جیسے google وغیرہ۔ جبکہ آزاد مصدر اپاچی سرور امیزون اور یاہو جیسی عظیم ویب سائٹس پر مستعمل ہے۔

بہت سے ممالک بھی اپنے حساس کام سرانجام دینے کے لئے لینکس استعمال کرتے ہیں۔اس کی مثال امریکہ کے قومی سلامتی کے ادارے نیشنل سیکورٹی ایجنسی کی دی جاسکتی ہے جو سیکورٹی کے حوالے سے اپنی ایک الگ لینکس ڈسٹری بیوشن پر کام کر رہے ہیں جو Selinuxکہلاتی ہے۔ اسی طرح بہت سارے ممالک بھی اپنے سرکاری اداروں میں لینکس کے استعمال کو ترجیح دیتے ہیں جیسے کوریا، اسپین، جرمنی وغیرہ۔ یورپ میں تو لینکس ایک وبا کی شکل اختیار کرچکی ہے، یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ فری سافٹ ویئر فائونڈیشن کو یونیسکو کی حمایت حاصل ہے۔

گھر اور دفتر میں اس سے کس طرح استفادہ کیا جاسکتا ہے؟

لینکس کی تقریباً ہر ڈسٹری بیوشن کے ساتھ 2000 سے 8000سافٹ ویئر مفت فراہم کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ لاکھوں سافٹ ویئر انٹرنیٹ پر آپ کے منتظر ہیں، ویڈیو پلیئر، بھانت بھانت کے ٹیکسٹ ایڈیٹرز اور ویب براؤزرز سے لے کر نیٹ ورک اور پروگرامنگ کے ٹولز، اعلیٰ تعلیمی سافٹ ویئر اور تھری ڈی گرافکس ڈیزائننگ سافٹ ویئر تک ہر چیز دستیاب ہے۔ غرض کہ آپ ہر وہ سافٹ ویئر کھول سکتے ہیں جس کے بارے میں آپ نے سن رکھا ہے اور وہ بھی جن کا آپ کو نام تک نہیں معلوم …!

غریبوں کا آپریٹنگ سسٹم

UNIX اور اس سے مشتق یا ملتے جلتے دوسرے سسٹمز سرور یا بطور مرکزی نظام کے کام کرنے کے یقینا اہل ہیں مگر یہ بہت زیادہ مہنگی مشینوں پر کام کرتے ہیں (یونکس سسٹم کی اپنی قیمت اس کے علاوہ ہے) جبکہ لینکس کو کسی بھی مشین پر چلایا جاسکتا ہے، اس مقصد کے لئے SMP ٹیکنالوجی سب سے بہترین حل ہے جس میں ایک ہی مشین پر کئی پراسیسر لگائے جاتے ہیں جس سے مشین کی رفتار نہ صرف دیوہیکل Mainframe جیسی ہوجاتی ہے بلکہ بہت سستی بھی پڑتی ہے (جبکہ سسٹم بھی مفت ہے) یا کلسٹر نیٹ ورک ٹیکنالوجی جس میں کئی مشینوں کو ایک ساتھ جوڑا جاتا ہے جو ایک ہی دیوہیکل مشین جیسا برتاؤ کرتے ہیں۔ اس طرح غریب ممالک اعلیٰ سے اعلیٰ ٹیکنالوجی بچوں کے کھلونوں کے دام حاصل کرسکتے ہیں۔
غریب ممالک جو پہلے ہی اپنے معاشی مسائل سے نمٹنے میں مصروف ہوتے ہیں، یونکس اور اس کے قابل کمپیوٹر خریدنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ صرف اوپن سورس تحریک ہی ایسے

غریب ممالک کا آخری سہارا ہے۔

کیا یہ بات قابلِ افسوس نہیں کہ ایڈز سے متاثرہ بہت سے غریب افریقی ممالک ایڈز کی ادویات بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ مہنگے داموں یہ ادویات یورپی ممالک سے خریدنے پر مجبور ہیں۔ اس کی وجہ صرف اتنی سی ہے کہ یہ ادویات کاپی رائٹ ہیں اور ان کو بنانے کے حقوق چند کمپنیوں کے پاس ہیں۔ اگر یہ ادویات ’’اوپن سورس‘‘ہوتیں تو شاید ایڈز کا پھیلائو اتنا نہ ہوتا جتنا آج ہے۔
٭٭

(ماہنامہ کمپیوٹنگ شمارہ اپریل 2007 سے اقتباس)